برسوں کی ریاضت رنگ لا رہی ہے

جنید جمشید کی طیارہ حادثے میں ناگہانی موت اور اس کے بعد پاکستان کے چینلز اور سوشل میڈیا کا ردعمل دیکھ کر بہت بار قلم اٹھانے کا ارادہ کیا اور پھر منسوخ کیا۔ بالآخر یہ سوچ کر فکر و نظر کے گھوڑوں کو دوڑنے کےلئے آزاد چھوڑ دیا کہ آج کے معاشرے میں جن لوگوں نے انسانی زندگی کے مفہوم، معانی و مطالب اور تمام تر تقاضوں کو قفل میں بند کر دیا ہے شاید وہ کہیں سے چابی ڈھونڈ لائیں اور اپنی پسند نا پسند کی ترویج کو اوج کمال تک پہنچانے کی عادت کو عقل و شعور استعمال کرتے ہوئے آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع دیں۔

طیارہ حادثے میں جنید جمشید سمیت دیگر معصوموں کی اچانک اور اندوہناک موت کے بعد جس طرح کوریج کی گئی وہ کسی کےلئے حیران کن نہیں۔ کسی ٹی وی چینل نے امارات ائر لائن کے یرغمالی طیارے کی وڈیو اور کسی نے آڈیو چلا کر گویا صحافت جیسے مقدس شعبے پر انا للہ و انا علیہ راجعون پڑھ دیا۔ ریٹنگ کے حصول اور بریکنگ نیوز کی دوڑ نے پاکستانی میڈیا کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی مشکل نظر آتی ہے۔

چترال سے اسلام آباد آنے والی پرواز پی کے 661 حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوئی تھی۔ اس بدقسمت طیارے میں جنید جمشید سمیت سینتالیس لوگ سوار تھے۔ ہر مسافر کے ساتھ کئی  داستانیں، ان گنت خواب اور بے شمار رشتے جڑے تھے۔ ائر ہوسٹس اسما کے دو بچے تھے جن میں سے ایک شیر خوار تھی جسے اب ماں کی گود کی گرمی کبھی نہیں مل پائے گی۔ پائلٹ جنجوعہ جو فلائنگ کے ساتھ اپنے کیمرے کے ذریعے دنیا بھر کو پاکستان کا قدرتی حسن دکھاتے تھے، وہ بھی آسودہ خاک ہوئے۔ ایک ائر گارڈ کی کچھ ماہ قبل ہی شادی ہوئی تھی۔ ڈی سی چترال اسامہ وڑائچ جیسا پرعزم جوان بھی اس حادثے کی نظر ہوا جس سے چترال کے لوگ بے پناہ امیدیں رکھتے تھے۔ یہ اور ان جیسے دیگر مسافر، سبھی کے ساتھ کوئی نہ کوئی کہانی جڑی تھی مگر آج تک میڈیا پر صرف جنید جمشید ہی چھائے ہوئے ہیں۔ یقینا وہ پاکستان کے ہیرو تھے اور ان جیسی شخصیات معاشرے کی تطہیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مگر جس طرح ان کی زندگی کے ہر پہلو کو ڈسکس کیا گیا اسے کسی طرح بھی درست عمل سے تعبیر نہیں دی جا سکتی۔

ٹی وی چینلز کی بریکنگ کے چکر نے عام آدمی کو گھن چکر بنا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کے کسی ملک میں کوئی چینل یا صحافی یہ نہیں سوچ سکتا کہ کسی طیارے کے کریش ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی مسافروں کے آخری اذیت ناک لمحات کی آڈیو یا وڈیو کلپ چلائے۔ یہ کارنامہ بھی  صرف پاکستانی میڈیا  سرانجام دے سکتا ہے جو کہ اس نے دیا۔ پاکستانی چینلز نے کہیں مرنے والوں کے لواحقین کو زبردستی رلانے کی کوشش کی تو کہیں لوگوں کے منہ میں مائیک ٹھونسنے کی۔ کہیں طیارہ کریش ہونے کے اینیمیٹڈ مناظر دکھا کر ناظرین کو محظوظ کرنے کی کوشش کی گئی تو کہیں مسافروں کی آخری گفتگو نشر کرکے ناظرین کو ‘باخبر‘ رکھا جا رہا تھا۔ اب تو یہ یقین ہو چلا ہے کہ پاکستانی میڈیا تمام تر صحافتی اخلاقیات، انسانی تقاضے اور فرض شناسی کو بھلا کر  صرف ریٹنگ کا حصول چاہتا ہے۔

سوشل میڈیا کی بات کریں تو صرف ایک ہی جملہ ذہن میں آتا ہے۔ انا للہ و انا علیہ راجعون۔ سوشل میڈیا پر جس طرح ایمان، جنت، دوزخ، ہلاکت، شہادت، جہنمی، دروغ گوئی، واجب القتل قسم کے سرٹیفکیٹ بانٹے جا رہے ہیں وہ کم از کم کسی ذی شعور انسان کے بس کی بات تو نہیں۔ عقل کا استعمال کئے بغیر اندھی تقلید کا عملی نمونہ بنا پاکستان کا سوشل میڈیا اپنا جنازہ خود پڑھ رہا ہے۔ کوئی جنید جمشید کو شہید قرار دینے پر تلا ہے تو کوئی گستاخ کہہ کر اپنے حامیوں کا دل ٹھنڈا کر رہا ہے۔ کوئی ان کی موت پر آنسو بہا رہا ہے تو کوئی خوشی کے شادیانے بجا رہا ہے۔ یہ رویہ  صرف بطور معاشرہ ہماری ذہنی پسماندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ مگر معاشرے کی اس تقسیم میں بڑی محنت کی گئی ہے۔ برسوں کی ریاضت اور مشقت کے بعد پاکستانیوں میں یہ ہمت اور حوصلہ آیا ہے کہ ایک ہی شخص کسی کےلئے ہیرو اور کسی کےلئے زیرو، کسی ایک کےلئے شہید تو دوسرے کےلئے مردود اور گستاخ ٹھہرا ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔