سیاسی جماعتوں میں آمریت اور موروثیت

پاکستان میں حقیقی سیاسی جماعتوں کی کمی ہر دور میں محسوس کی جاتی رہی ہے۔  اسی لیے طالع آزما،  آمر بآسانی اقتدار پر قابض ہوتے رہے اور اپنی حکومت کو دوام بخشنے کے لیے غیر حقیقی سیاسی جماعتیں بناتے رہے۔  اگر غور کیا جائے تو موجودہ اسمبلیوں اور سینیٹ میں وہی لوگ یا ان کی اولادیں بیٹھی نظر آئیں گی۔  جن کی سیاسی نشونما دور آمریت میں ہوئی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ جب بھی ملک میں جمہوری عمل شروع ہوتا ہے،  حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہوپاتی۔  آمریت کی خوو بومحسوس کی جاتی ہے۔ 

عوام کا مزاج بھی ا یسا ہوگیا ہے کہ جلد ہی ان کی طبیعت بھی جمہوریت اور حکمرانوں کی نا اہلی،  بدعنوانی اور انتخابات کے وقت کیے گئے وعدے پورے نہ کرنے کی وجہ سے اُکتا جاتی ہے اور وہ پھر دور آمریت کے گن گانا شروع کردیتے ہیں۔ اس میں کسی حد تک ذرائع ابلاغ کا بھی کردار ہوتا ہے۔ لیکن اصل وجہ حکمرانوں کی اپنی نا اہلی،  بدعنوانی اور خراب طرز حکمرانی ہے۔  اگر ہم تاریخی طور پر پاکستان میں جمہوریت کی ناکامی کے اسباب پر غور کریں اور سیاسی جماعتوں کی ساخت کو پرکھیں تو اکثر جماعتوں میں جمہوریت کے بجائے آمریت و موروثیت پا ئی جا تی ہے۔  موروثیت اکثر شعبوں میں موجود ہے۔  اسی طرح سیاست میں بھی موروثیت پائی جاتی ہے۔ سیاست میں موروثیت ملک اور عوام کی خدمت کے جذبے کے تحت ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔  بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیاست پیشے کا روپ اختیار کرچکی ہے۔  اس لیے موروثیت ہمارے ملک کے لیے موزوں نہیں ہے۔ 

برسر اقتدار جماعت میں اگر آمریت قائم ہوگی اور موروثیت کے جراثیم موجود ہوں گے تو حکمرانوں کے فیصلے جمہور کی امنگوں کے مطابق تو  ہو نہیں سکتے۔  ان ہی غیر جمہوری فیصلوں کی وجہ سے جمہور،  جمہوریت سے نالاں رہتا ہے۔  انتخابی سیاست میں حصّہ لینے والی سیاسی و مذہبی جماعتیں پابند ہوتی ہیں کہ وہ الیکشن کمیشن میں اپنے حسابات پیش کریں اور انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کے دستاویزی ثبوت الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔  رسمی طور پر تو ہر جماعت یہ دستاویزات جمع کرا دیتی ہے لیکن حقیقی طور پر انٹرا پارٹی الیکشن کا عمل جماعتوں میں کم یاب ہے۔ موجودہ قومی وصوبائی اسمبلیوں ا ور سینیٹ میں جمہور کی نمائندگی کرنے والی بڑی اور چھوٹی جماعتوں میں مسلم لیگ(ن)،  پیپلزپارٹی،  تحریک انصاف،  متحدہ قومی موومنٹ،  جمیعت علمائے اسلام (فضل الرحمن)،  مسلم لیگ (فنکشنل)،  جماعت اسلامی،  قومی وطن پارٹی اور پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی نظر آتی ہیں۔ 

مسلم لیگ (ن) وفاق ا ور ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں برسر اقتدار ہے اور بلوچستان میں پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہے۔  پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے۔  تحریک انصاف نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی ہے۔  متحدہ قومی موومنٹ کسی حکومت میں تو شامل نہیں ہے لیکن کراچی ا ور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں کی میئر شپ پر براجمان ہے۔  ان تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں میں صرف جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس کے بارے میں جماعت اسلامی کے ناقدین بھی کہنے پر مجبور ہیں کہ اس سیاسی و مذہبی جماعت میں جو نظم وضبط اور جمہوریت قائم ہے۔  وہ دیگر جماعتوں کے لیے قابل تقلید ہے۔                                                  

گزشتہ 8  سال سے ملک میں جمہوریت قائم ہے لیکن بعض برسر اقتدار جماعتیں دور آمریت کی یادگار ہیں اور ان کا طرز حکمرانی  دور آمریت کی یاد تازہ کرتا ہے۔  اسی لیے عوام کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھے ہیں۔  ملک مزید قرضوں میں ڈوبا ہے۔  سرکاری اداروں کی کارکردگی کا معیار تو اس حد تک گر گیا ہے کہ ادارے  غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔  لوڈشیڈنگ کے خاتمے،  احتساب اورشفافیت کے نعرے،  سب ڈھونگ ثابت ہوئے ہیں۔  کرپشن کے ایسے  ریکارڈ قائم ہوئے ہیں، جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔  پانامہ لیکس کا معاملہ تازہ ہے لیکن تمام ملکی تحقیقاتی ادارے خواب غفلت میں ہیں۔ کیونکہ  حکمرانوں کے وفاداروں کو اداروں کے سربراہ بنایا جاتا ہے۔ 

کراچی جیسے بڑے شہر میں امن و امان کی صوتحال کئی عشروں سے خراب چلی آرہی ہے۔ پیپلز پارٹی جب وفاق میں برسر اقتدار تھی اور سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ مل کر حکومت کررہی تھی۔  صوبہ سندھ ترقی میں دوسرے صوبوں سے پیچھے رہا اوراُس دور میں کراچی کے حالات بھی مزید بگڑے۔  جس کی ذمّہ داری ان دونوں جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ دونوں حکمراں جماعتیں،  اندرون سندھ اور کراچی کی نمائندہ جماعتیں ہیں۔  موجودہ دور حکومت میں بھی پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ اور کراچی کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔  اب وزیر اعلی کی تبدیلی بھی عمل میں آگئی ہے۔  اس لیے اگلے انتخابات سے قبل،  پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل کرنے کے لیے پورے صوبے کے مسائل کو حل کرنا ہوگا یا کمی لانی ہوگی۔  ورنہ انتخابی نتائج پارٹی کے خلاف بھی آسکتے ہیں۔                                                                                

پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملہ کے بعد تمام سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت کی مشاورت سے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا۔  یہ اس بات کا مظہر ہے کہ عسکری قیادت بھی سیاسی جماعتوں کی کارکردگی سے شاکی ہے۔  آپریشن ضرب عضب کے  بعد  متاثرہ علاقوں میں امن قائم ہوا ہے لیکن ان علاقوں میں سیاسی خلا بھی پیدا ہوا ہے۔  خاص طور سے کراچی میں۔  اس سیاسی خلا کو جمہوری طور پر پورا کرنا اشد ضروری ہے۔  2018 عام انتخابات کا سال ہے۔  ا ن حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابات سے قبل صاف و شفاف مردم شماری کرائی جائے اورسیاسی جماعتیں اپنی ذمّہ داری کا احساس کرتے ہوئے، اپنی جماعتوں میں جمہوری عمل مروج کریں۔ موروثیت کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔  عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ تاکہ عوام کا جمہوریت پر اعتماد بحال ہواور پاکستان میں  حقیقی جمہوریت کا عوامی خواب پورا ہو سکے۔