اجالوں کا مسافر

وہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ ٹیکنالوجی(لاہور) کا خوبرو نوجوان طالب علم، انجینئر بننا چاہتا تھا۔ رومانویت اس کی رگوں میں دوڑتی تھی۔ انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور ائیر فورس میں ملازمت اختیار کی۔ پاپ میوزک سے بے انتہا لگاؤ رکھتا تھا۔ اپنے دوستوں کو ساتھ ملا کر" وائیٹل سائینز" کے نام سے پاپ بینڈ تشکیل دیا۔ اسی کی دہائی کے آخری سالوں میں اس نوجوان کی محنت رنگ لائی اور"دل دل پاکستان" کے عنوان سے ملی نغمہ بنا یا۔ نغمہ کیا  سامنے آیا کہ اس نوجوان کی ایک الگ پہچان اور مقام  بن گیا۔ لوگ اس کے دیوانے تھے۔ جہاں جاتا ہجوم اکٹھا ہوجاتا، جنگل میں جائے تو میلے کا سماں باندھ دے۔ وہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرا جس کا نام " جنید جمشید " تھا۔ یہ وہی جنید جمشید تھا جو بعد میں "جے۔ جے" کے نام سے مشہور ہوا۔

2004 تک جے۔ جے اپنی نو البمز ریلیز کر چکا تھا۔ دولت اس کی لونڈی تھی، شہرت اس کی غلام، حسن اس کا قابل تعریف تھا۔ پھر اس کی ملاقات سعید انور سے ہوتی ہے۔ وہ کیا ملاقات تھی کہ اس کا دل اتنا صاف ہوا، ذہن اتنا  روشن ہوا اور ایمان اتنا پختہ ہوا کہ سب کچھ کو " لات" مار کر، اپنے کامیاب کیرئیر کو روندتے ہوئے تبلیغ پر نکل پڑا۔ گانوں سے معذرت کرلی اور پھر جے۔ جے ایک نعت خواں کے روپ میں منظر عام پر آیا۔ سفید  چہرہ، چمکتے دانت اور منہ پر داڑھی کیا شخصیت تھی؟ جدید روحانیت کی زندہ مثال تھی۔ اعلی اخلاق، جھکی نظریں اور خندہ پیشانی سے سوال وجواب۔   یہ شخص اسلام کی جدت کا شاہکار تھا، اسلام کی عالمگیریت کا ثبوت تھا اور اسلام کی مثبت پہچان بن کر سامنے آیا۔  جنید جمشید ایک اعلی پاۓ کا مبلغ تھا۔ جب بھی گفتگو کرتا سحر طاری کردیتا۔ نعت پڑھتا مدینے کا نقشہ آنکھوں میں سجا دیتا۔ اس کی زبان میں ایک اثر تھا، ایک چاشنی تھی۔ اور یہ اثر، یہ چاشنی  الله والوں کی زبان میں ہی ہوتی ہے۔ جن کے قلب حب رسول (ص) سے منور ہوتے ہیں، جن کے ضمیر توحید سے سرشار ہوتے ہیں۔

خدا کی وحدت اور نبیؐ کی نبوت کا پرچار کرتے ہوئے جنید جمشید اپنے حقیقی سفر کی جانب چلے گئے۔ چترال سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی فلائٹ میں حادثہ کا شکار ہوگئے۔ سنتالیس افراد جاں بحق ہوئے۔  ان میں کئی مقبول ہستیاں تھیں۔ جنید جمشید اور ان کی اہلیہ بھی اس حادثے میں جان ہار  بیٹھے۔ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنی جان دے چاہے وہ میدان جنگ ہو یا پھر تبلیغ کامیدان  اسے" شہید فی سبیل اللہ" کہتے ہیں۔ اس سانحہ عظیم میں تمام مرنے والے افراد کے لواحقین کو الله صبر جمیل عطا فرمائے۔ لیکن چند سوالات اب بھی باقی ہیں۔ ہمارے ہاں ایئر سیفٹی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ  کس نے اس بیمار طیارے کو اڑان کا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔

ہم آج بھی اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے کی بجائے مسلک کا پابند کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ آج ایک ٹولہ جنید جمشید کے خلاف نفرت پھیلانے میں سرگرم ہے۔ فتوی دئیے جارہے ہیں، خرافات بکی جارہی ہیں۔ دکھ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، الم کا کوئی فرقہ نہیں ہوتا ہے اور انسانیت فتوؤں کی پابند نہیں ہوتی ہے۔ جنید جمشید اس دنیا کے  ہر طبقے میں زندہ رہیں گے۔ بطور انجینئر، بطور گلوکار بطور تاجر، بطور نعت خواں اور بطور متحرک تبلیغی و اصلاحی  ورکر۔ آج ان فتوٰی گروں سے کہنا چاہوں گا " تم جتنے کردار تلاش کرو ہر کردار میں تمہیں جے۔ جے نظر آئے گا۔ تم کبھی آئیڈیل نہیں ہوسکتے۔ تم کبھی معتبر نہیں ہوسکتے اور نہ ہی غیر جانبدار۔

مجھے فخر ہے کہ جنید جمشید ایک ہر دل عزیز شخصیت کے طورپر  خالق حقیق سے جاملے۔ فخر ہے مجھے کہ جے۔ جے  گمراہ نہیں ہوا۔  فخر ہے مجھے جنید ایک دقیانوسی ملا نہیں تھا۔  فخر ہے مجھے کہ تم لوگ آج بھی اندھیروں میں بھٹک رہے ہو اور وہ اجالوں کا مسافر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا۔