کیا بلاول محنت کشوں کی آواز بنیں گے
- تحریر ارشد بٹ ایڈووکیٹ
- اتوار 11 / دسمبر / 2016
- 6025
لاہورمیں بلاول بھٹو زرداری نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں لبرل اور ترقی پسند سیاست کا دور واپس لانا چاہتے ہیں۔ اور وہ اس سلسلہ میں ایک پروگریسوالائنس بناناچاہتے ہیں۔ مجوزہ پروگریسوالائنس کے خدوخال کیا ہوں گے۔ اس کا منشور کیا ہو گا اوراس اتحاد میں کون سی جماعتیں، گروہ یا افراد شامل ہوں گے۔ اس کی وضاحت بلاول بھٹو نے ابھی تک نیہں کی۔ مگرخوش آئند بات یہ کہ ان کو پاکستان کے سیاسی ماحول میں ترقی پسند سیاست کی کمی محسوس ہونا شروع ہوئی ہے۔
شاید انہیں یہ احساس بھی ہو چکا ہو گا کہ بھٹو کی پیپلز پارٹی کا بنیادی منشوراورسیاسی جدوجہد کی تاریخ ترقی پسند جمہوری سیاست کی ہی مرہون منت رہی ہے۔ لاہور میں چند روزہ سیاسی سرگرمیوں اور کارکنوں سے ملاقاتوں کے بعد بلاول بھٹو کو پنجاب میں پیپلز پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ، عوام میں عدم مقبولیت اور پارٹی کارکنوں کی مایوسی کی وجوہات کا اندازہ لگانے میں آسانی رہی ہو گئی۔
پیپلز پارٹی ترقی پسند جمہوری سیاست کے بل بوتے پرعوام کے دلوں میں گھر بنانے میں کامیاب ہوئی۔ اس جماعت نے محنت کش طبقوں کو غربت، جہالت اور پسماندگی سے نجات دلانے کا نعرہ بلند کیا جسے عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ عوام نے بھٹو اور بے نطیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کو پورے ملک میں کئی کامیابیوں سے ہمکنار کیا۔ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے حکومتی ادوار میں ملک، قوم اورعوام کے مفاد میں پالیسیوں اور خدمات سرانجام دینے کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ اس سے بڑھ کر پیپلزپارٹی کی تاریخ، اس کی قیادت اور کارکنوں کی فوجی آمریتوں کے خاتمے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے بے مثال قربانیوں سے مرقوم ہے۔
بے نظیر بھٹو کے سیاسی منظر سے ہٹائے جانے کے بعد کا دور پیپلز پارٹی اور پاکستان کی سیاست میں ایک نئے عہد کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ آصف زرداری کے طرز سیاست اور مایوس کن حکومتی کارکردگی نے پیپلز پارٹی کوعوام سے دور کرکےعدم مقبولیت کی انتہائی نچلی سطح تک پہنچا دیا۔ جبکہ پارٹی کے کارکنوں کو مایوسی کےعالم میں گھر بیٹھنے یا جماعت چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ کیا بلاول بھٹو اپنے والد کے طرز سیاست کو ترک کرتے ہوئے بھٹو کے سیاسی راستے پر چل کر معاشی طور پر پسماندہ طبقوں سے الایئنس بنانے کی جانب قدم بڑھانا چاہتے ہیں۔ پروگریسو الائنس محض ترقی پسند جماعتوں سے اتحاد کا نام نیہں ہونا چاہے بلکہ معاشی اور سماجی طور پر پسے ہوئے طبقوں، خصوصا ان طبقوں کے نوجوانوں، طلبہ اور خواتین کی خوشحالی، ترقی اور روزگار فراہم کرنے کا ٹھوس پروگرام اور منصوبہ سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
بے نظیر بھٹو کے بعد ملکی سیاست کو عوام کے حقیقی مسائل سے دور کر دیا گیا۔ محترمہ کے جانے کے بعد پیپلز پارٹی، نواز لیگ، تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کی سیاست عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لئے آواز بلند کرنے سے عبارت نہیں رہی۔ آج عوام کو اسٹیبلشمنٹ کے تراشیدہ اسکینڈلوں، دھاندلی اور کرپشن کے دھرنوں کی مبہم سیاست نے الجھا رکھا ہے۔ حکمران طبقات، اسٹیٹس کو کی قوتیں اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ اپنے مفاد میں ملکی سایست کو ایسے ہی مبہم سیاسی دائروں میں الجھائے رکھنا چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو اگرعوامی سیاست کی طرف رجوع کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے بنائے گئے سیاستی دائروں سے پاکستانی سیاست کو رہا کرانے کا چیلینج قبول کرنا ہوگا۔ عوامی خوشحالی اور ترقی کے لئے ایک واضع ویلفئیر معاشی منشور کے ساتھ میدان سیاست میں آنا ہوگا۔ مذہبی انتہا پسندی کے ہر سطع پر خاتمے، افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کےعلاوہ خارجہ اور قومی اہمیت کے امور پر پارلیمنٹ کی بالادستی قائم کرنے جیسے کئی دوسرے معاملات شامل ہیں۔ انہیں ایک واضع پروگرام کے ساتھ پیپلز پارٹی کے نئے دور کا آغاز کرنا ہوگا۔
اگر بلاول بھٹو ترقی پسند اورعوام دوست سیاست کی جانب پلٹنا چاہتے ہیں تو انہیں آصف زرداری کی پرو اسٹیٹس کو اور نام نہاد مفاہمت کی سیاست سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔ کیا بلاول بھٹو ذہنی طورآصف زرداری کی سیاست سے بتدریج فاصلہ اختیار کرنے پرآمادہ ہیں۔ اس پر یقینی طور پر کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ پارٹی پر گرفت مظبوط کرنےاورعملی سیاست میں کچھ وقت گزارنے کے بعد بلاول بھٹو کو بالآخراس سمت قدم بڑھانے پر مجبورہونا پڑے گا۔ آصف زرداری پیپلز پارٹی کا اثاثہ نہیں ہیں بلکہ پارٹی پر بوچھ بن چکے ہیں۔
بلاول بھٹو یہ حقیقت جتنی جلدی سمجھ جائیں پیپلزپارٹی اور بلاول کے مستقبل کے لئے اتنا ہی اچھا ہو گا۔
نواز لیگ کے پنجاب پر کئی دہایئوں سے تسلط کو اکھاڑنے کی بات کرنا تو بہت آسان ہے مگر اس خواب کو حقیقت کا روپ دینا، زرداری طرز کی سیاست کے بس سے باہرہے۔