معاشرہ ناانصافی کے ساتھ زندہ نہیں رہتا
- تحریر منور علی شاہد
- سوموار 12 / دسمبر / 2016
- 5776
آج کے اخبارات میں چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دیگر معزز جسٹس صاحبان کی تقاریر پڑھیں جو انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے150 سالہ تقریبات کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں کی تھیں۔ میں وہ سب پڑھ کر بہت شرمندہ ہوا اور بغلیں جھانکنے لگا تھا۔ پاکستان میں انقلاب اب صرف ایک عام پاکستانی کی سوچ میں تبدیلی اور ووٹ کے صحیح استعمال سے ہی ممکن ہے۔ قانون کا احترام کیا ہوتا ہے اور انصاف کیسے دیا جاتا ہے اس کو سمجھنے کے لئے یہ واقعہ پڑھیں جو اس ملک میں سرزد ہوا تھا جس کی مخالفت کرکے پاکستان میں گندی سیاست کی جا رہی ہے۔ میں امریکہ نواز نہیں ہوں لیکن صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ کس طرح قانون و انصاف سب شہریوں کے لئے ایک جیسا ہوتا ہے۔ یہ کسی کے گھر کے لونڈی نہیں ہوتا جیسا کہ ہمارے ہاں بڑوں نے بنا رکھا ہے۔ پاکستان میں انصاف کا منہ بند اورمنصفین زبانیں کھل چکی ہیں۔ عدالتی نظام کی اصلاح کی بجائے کالی بھیڑوں اور ان کے ناجائز اور غلط کاموں کا تحفظ کرنے کا بیڑہ سب نے اٹھا رکھا ہے۔ یہ فراموش کیا جا چکا ہے کہ قانون و انصاف کی بالادستی کیا ہوتی ہے۔ موجودہ عدالتی سسٹم انتہا پسندی اور انتہاپسند دونوں ہی کے لئے انتہائی موزوں ہے۔ لیکن عام آدمی کے لئے صرف ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔
یہ واقعہ ٹیکساس کا ہے۔ وہاں کی ایک جیل میں 37 سالہ کارلا فے کو موت کا ٹیکہ لگایا گیا۔ ڈیتھ بیڈ پر لیٹے اس نے ہنس کر آنکھیں بند کر لیں۔ ڈاکٹر نے نبض دیکھی اور موت کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ایسی پرسکون موت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ کارلا فے کون تھی اور اسے موت کا انجکشن کیوں لگایا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ کارلا کی ماں ایک دھندہ کرنے والی ایک عورت تھی۔ بچپن سے ہی وہ اپنی ماں کے ساتھ آتی جاتی تھی اور یوں وہ نشے کی عادی ہوگئی۔ آہستہ آہستہ ماں کے نقش قدم پر چلنے لگی۔ 10سال بعد اسے خیال آیا کہ اس دھندے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا کام کرنا چاہئے۔ اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر گاڑی چھیننے کی سکیم بنائی۔ ایک بار موقع واردات پر مزاحمت ہوئی اور دونوں نے گھبرا کر ایک جوڑے کو قتل کردیا۔ کچھ دنوں بعد عدالت نے انہیں سزائے موت سنا د۔ پھر اپیلوں کے چکر میں کافی وقت گزر گیا۔ اسی دوران جیل کے عملہ نے محسوس کہ کارلا جو کہ ایک شرابی اور بدزبان عورت تھی، اس نے سب کچھ چھوڑ کر بائبل پڑھنا شروع کردی۔ اس کی زبان صاف ہو گئی، اخلاق بہت بہتر ہو گیا۔ وہ ہر وقت اپنے سیل میں بائبل پڑھتی رہتی۔ اس نے باتیں کرنا چھوڑ دیا۔
ایک سال بعد وہ مبلغہ بن گئی۔ ایسی مبلغہ جس کے الفاظ میں تاثیر تھی۔ اس نے جیل ہی میں تبلیغ شروع کردی۔ عبادت و ریاضت کو اپنا معمول بنا لیا اور جیل میں بہت سے مجرموں کی زندگیاں بھی بدل دیں۔ وہ لوگ جو اسے قاتلہ اور سنگ دل کہتے تھے اب اس کے پیچھے چلنے لگے تھے۔ جیل میں ایک روحانی انقلاب آگیا اس بات کی خبر جب میڈیا تک پہنچی تو وہ جیل پر ٹوٹ پڑا اور پھر ہر اخبار میں کارلا کی ہیڈ لائن لگنے لگی۔ ہر شخص نے اس کی تصویر اٹھائی اور اس کی رہائی کے لئے باہر نکل پڑا اور اس کے معافی کے لئے مظاہرے ہونے لگے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کارلا بچاؤ کی تحریک شروع کردی اور احتجاج یہاں تک بڑھا کہ پوپ جان پال نے بھی عدالت کو سزا معافی کی درخواست دے دی۔ لیکن عدالت نے اسے مسترد کردیا۔ سزائے موت سے پندرہ دن پہلے کنگ لیری نے جیل میں CNN کے لئے اس کا انٹرویو کیا۔ اس انٹرویو کے بعد پورے امریکہ نے کہا یہ وہ قاتلہ نہیں ہے، معصوم ہے۔ لیری نے انٹرویو میں پوچھا کہ تمہیں موت کا خوف محسوس نہیں ہوتا۔ کارلا نے پر سکون انداز میں جواب دیا: نہیں، بلکہ میں اس رب سے ملنا چاہتی ہوں جس نے میری پوری زندگی بدل دی۔
امریکی شہریوں نے متفقہ رحم کی اپیل ٹیکساس بورڈز آف پارڈن اینڈ پیرول کے سامنے پیش کی۔ بورڈ نے سزا معاف کرنے سے انکار کردیا۔ فیصلہ سن کر عوام ٹیکساس کے گورنر جارج بش کے گھر کے سامنے گئے اور احتجاج کرنے لگے۔ امریکہ کے سب سے بڑے پادری جیکی جیکسن نے بھی کارلا کی حمایت کر دی۔ بش نے درخواست سنی اور فیصلہ کیا کہ مجھے کارلا اور جیکی جیکسن سے ہمدری ہے لیکن مجھے گورنر قانون پر عمل داری کے لئے بنایا گیا ہے سزا معاف کرنے کے لئے نہیں۔ وہ اگر فرشتہ بھی ہوتی تو قتل کی سزا معاف نہیں ہو سکتی۔
موت سے دو روز قبل کارلا کی رحم کی اپیل امریکن سپریم کورٹ میں پہنچی تو جج نے یہ کہہ کر درخواست واپس کردی کہ اگر آج پوری دنیا بھی یہ کہے کہ یہ عورت کارلا نہیں کوئی مقدس ہستی ہے تو بھی امریکی قانون میں اس کے لئے ریلیف نہیں۔ جس عورت نے قتل کرتے ہوئے دو انسانوں کو رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی قانون رعایت نہیں دے سکتا۔ ہم خدا کے سامنے ان دو لاشوں کے جواب دہ ہیں جنہیں کارلا نے مارڈالا۔
یہ انصاف ہے وہ انصاف جس کا حکم اللہ اور قرآن پاک دیتا ہے۔ اسلام ایسے انصاف کی تعلیم و حکم دیتا ہے۔ لیکن اس پر عمل امریکہ میں اور ان ملکوں میں ہو تا ہے جن کے آئین میں کسی چھوٹے بڑے، امیر غریب میں تفریق نہیں کرتے۔ جہاں ریاست کی بنیاد قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی پر ہے۔ ہمارے پیارے نبیﷺ کے سامنے ایک بڑے قبیلہ کی ایک عورت کی چوری کا مقدمہ پیش ہوا اور معافی کی سفارش کی گئی تو پیارے نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو اس کے ہاتھ بھی کٹوا دیتا۔
اور ہمارے اپنے ملک میں جوکچھ ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ہمارے ملکی انصاف کی ایک مثال مظہر حسین ہے جس کو انصاف قبر میں جانے کے بعد ملا۔ اس سے پہلے وہ انیس سال بیگناہ جیل میں سڑتا رہا۔ وہ دو سکے بھائی بھی مظہر حسین کے ساتھ اللہ کے دربار میں پاکستانی عدل و انصاف کی دہائی دے رہے ہوں گے جن کو سپریم کورٹ نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن ملک کا غلیظ اور کرپٹ سسٹم ان دونوں بھائیوں کو ایک سال قبل ہی پھانسی دے چکا تھا۔ یہ ہے ہمارے ملک کا انصاف جس کے ایسے شرمناک قصے روزانہ ہی اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ ابھی بھی ہزاروں بیگناہ جھوٹی گواہیوں، مذہبی منافرت اور ذاتی رنجشوں کی بنا پر جیلوں میں قید ہیں۔ ان کے لواحقین انصاف کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ پورا معاشرہ بداعمالیوں، بھوک و افلاس ، زناکاری، تہمت بازی، رشوت خوری، ذخیرہ اندوزی، اقرباء پروری اور قتل و غارتجیسے جرائم میں ڈوبا ہوا ہے۔ کون سا ظلم ہے جو آج پاکستان میں نہیں ہو رہا۔ حتیٰ کہ اب عورتوں اوربچیوں کو بھی زندہ جلایا جا رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ معاشرے سے انصاف اٹھ چکا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ معاشرے کفر کے ساتھ تو زندہ رہ سکتے ہیں لیکن ناانصافیوں کے ساتھ نہیں۔