سویڈن میں بچوں کا اردو ادب
- تحریر ہما نصر ملک
- سوموار 12 / دسمبر / 2016
- 7447
سویڈن کا نام سنتے ہی کئی دوسری باتوں کے علاوہ ادب کے لیے نوبل انعام سامنے آ جاتا ہے جو ہر سال کسی ایسے ادیب و شاعر کو دیا جاتا ہے جس کی کوئی ایک تصنیف اپنے آپ میں ایسا شاہکار ہو کہ اس کی کوئی نظیر نہ ہو ۔ سویڈن میں ادب کو جو اہمیت دی جاتی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ بچوں کے لیے ادب سویڈش سماج میں بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور ملک میں شائع ہونیوالی کتابوں میں سے ہر دسویں کتاب بچوں کے لیے ہوتی ہے ۔
یہ کتابیں معلوماتی، تفریحی و تاریخی، جدید سائنسی و طلسماتی غرضیکہ سبھی مشکل موضوعات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ بچوں کے لیے قابل فہم بنا کر پیش کی جاتی ہیں ۔ مہیا شدہ اعداد و شمار کے مطابق سویڈن میں مختلف موضاعات پر بچوں کے لیے ایک ہزار سات سو اکسٹھ کتابیں شائع ہوئیں ان میں سے چون فیصد کتابیں سویڈش لکھاریوں کی لکھی ہوئی تھیں ۔ سویڈن میں بچوں کے لیے ادب کو جو اہمیت دی جاتی ہے اس کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ہر سال بچوں کے لیے بہترین کتاب لکھنے والے ادیب اور بچوں و نوجوانوں میں شوق مطالعہ کو فروغ دینے والی انجمنوں اور اداروں کو باقاعدہ انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔ انعام کی یہ رقم پانچ ملین سویڈش کرونا یعنی سات لاکھ، چوراسی ہزار ڈالر کے برابر ہوتی ہے۔ لیکن ہم یہاں بات کرنے والے ہیں سویڈن میں تخلیق پانے والے اردو ادب کی ۔ اِس حوالے سے سویڈن میں مقیم پاکستان النسل ادیبوں نے اپنی اپںی بساط کے مطابق بہت حصہ ڈالا ہے ۔ ان ادیبوں اور شاعروں میں مشتاق احمد ( سائیں سچا) مسعود قمر، جمیل احسن، باسط میر کے علاوہ چند ایک دوسرے تخلیق کار بھی شامل ہیں۔ لیکن ڈاکٹر عارف محمود کسانہ ایک منفرد حیثیت رکھتے ہیں ۔
اپنی پیشہ وارانہ ذامہ داریوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عارف محمود کسانہ نے تفہیم قرآن کے لیے ایک فورم قائم کر رکھا ہے جس کے ماہانہ اجلاسوں میں عصر حاضر کے مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل کرنے کے لیے کھلے ذہن و قلب کے ساتھ مباحث کی جاتی ہے۔ پھر اسے یو ٹیوٹ جیسے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کے استفادہ کے لیے پھیلا دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے پیغام اقبال کو عام کرنے اور خاص طور سے نوجوانوں میں عقابی روح پیدا کرنے کے لیے بھی اسی طرح کا ایک فورم قائم کر رکھا ہے ۔ وہ ایک طویل عرصے سے افکارِ تازہ کے عنوان سے پاکستان و ہندوستان کے مختلف اردو اخبارات و رسائل میں کالم لکھ رہے ہیں۔ اس طرح ان کے افکار کو پڑھنے اور ان سے استفادہ کرنے والے قارئین کی تعداد سینکڑوں ہزاروں تک ہے ۔ ابھی حال ہی میں عارف محمود کسانہ کی ایک شاہکار کتاب بعنوان افکار تازہ بھی شائع ہو کر اہل علم سے پذیرائی حاصل کرچکی ہے ۔
یہ کتاب عارف کسانہ کے کالموں کا مجموعہ ہے۔ اِس کی اہمیت کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اِس کی پذیرائی کے لیے سٹاک ہولم سے لے کر بیجنگ اور ٹوکیو تک اور یورپ کے کئی دوسرے ممالک میں تقریبات منعقد ہو چکی ہیں ۔ افکار تازہ کے ساتھ ہی بچوں کے لیے لکھی ہوئی اسلامی معلومات پر مبنی عارف کسانہ کی ایک کتاب دلچسپ و انوکھی کہانیاں بھی شائع ہو کر مقبولیت سے ہمکنار ہو چکی ہے ۔ مبصرین نے اسے بچوں کے لیے ایک علمی و معلوماتی خزانہ قرار دیتے ہوئے عارف کسانہ کی ان کوششوں کو سراہا ہے جو یورپ میں بچوں کی اسلامی تعلیم و تربیت کے لیے اپنے قلم سے سر انجام دے رہے ہیں ۔ عارف محمود کسانہ کی ان دونوں متذکرہ بالا کتابوں، افکار تازہ اور بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی دلچسپ و انوکھی کہانیاں کی پذیرائی کے لیے ابھی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ کہ بچوں کے لیے ان کی ایک نئی کتاب بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی، سبق آموز کہانیاں شائع ہو چکی ہے ۔
بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی، سبق آموز کہانیاں نامی یہ کتاب پاکستان کے معتبر اشاعتی ادارے ، نیشنل بک فانڈیشن نے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے۔ سویڈن میں مقیم اردو لکھاریوں میں سے غالبا عارف محمود کسانہ پہلے ادیب ہیں، جہیں یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ان کی کتاب اِس ادارہ نے شائع کی ہے ۔ نیشنل بک فانڈیشن کی جانب سے اِس کتاب کو شائع کیے جانے کے نتیجے میں اس کتاب کی بچوں کے لیے اہمیت و افادیت کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔
اپنی اس نئی کتاب بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی، سبق آموز کہانیوں کی تخلیق کے متعلق عارف محمود کسانہ کا کہنا ہے کہ یہ کتاب ان سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے جو یورپ میں پروان چڑھنےوالے اردو بولنے اور پڑھنے والے بچوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں انہیں اپنے ہم مکتب یورپی دوستوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو ان کے دین وثقافت اور قومیت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ اوربے خبری میں محض مفروضوں کی بنیاد پر مسلمان بچوں کو ہراساں کرنے کا سبب بن جاتے ہیں ۔ عارف محمود کسانہ اپنی اس دوسری کتاب کے بارے میں مزید لکھتے ہیں کہ: بچوں کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوال آتے رہتے ہیں اور وہ ان کے جواب چاہتے ہیں۔ معصوم ذہنوں میں آنے والے سوال ہوتے تو بہت چھوٹے اور سادہ ہیں لیکن ان کے جواب بعض اوقات اتنے بھی آسان نہیں ہوتے ۔ لیکن اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کے ایسے جواب دیئے جائیں کہ وہ مطمئن ہوجائیں۔ علم میں اضافے کے لیے سوال پوچھنا ایک لازمی سی بات ہے اور بچوں کو اپنے بڑوں سے سوال پوچھتے رہنا چاہیے۔ بڑوں کا بھی فرض ہے کہ وہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق ایسا جواب دیں کہ ان کی تسلی ہوجائے۔
عارف محمود کسانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ:اس کتاب کا بڑامقصد یہ ہے کہ بچے جو مستقبل کے معمار ہیں ان کی تعلیم و تربیت اس اندازسے کی جائے کہ وہ سچے مسلمان، اچھے انسان، محب وطن اور باوقار شہری بنیں ۔ ان کے ذہن میں کوئی الجھن نہ ہو۔ وہ اپنے دل اور دماغ کے اطمینان کے ساتھ اپنے دین کی تعلیمات کو سمجھیں اور ان پر عمل کرکے اپنی زندگی بسر کریں۔ یہ کہانیاں اس انداز سے لکھی گئی ہیں کہ بچے انہیں دلچسپی سے پڑھیں ۔ ان کہانیوں میں مختلف ممالک اور شہروں کی بھی کچھ تفصیل موجود ہے تاکہ بچوں کے علم میں اضافہ ہو اور ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ بھی پیدا ۔ عارف محمود کسانہ کی بچوں کے لیے اس نئی کتاب کی کہانیوں پر تبصرہ کرنے والے بھی ان کے اِس جذبہ کی قدر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی، سبق آموز کہانیاں انہیں اسلام اور قرآنی تعلیمات سے روشناس کرانے میں بڑا مثبت کردار ادا کریں گی ۔
برطانیہ میں مجلسِ اقبال کے صدر نشین اور علامہ اقبال پر متعدد کتابوں کے مصنف اور خود بچوں کے لیے چند کتابیں تخلیق کرنے والے محمد شریف بقا اِس کتاب کے متعلق لکھتے ہیں کہ جب سے یہ عالم رنگ و بو وجود میں آیا ہے، اس وقت سے لے کر اب تک انسان کسی نہ کسی کسی رنگ میں کہانیاں سننے اور انہیں بیان کرنے کا عادی ہے ۔ اللہ تعالے نے بھی اپنی نازل کردہ کتابوں میں قصے بیان کیے ہیں جو ہمارے لیے اپنے اندر متعدد حقائق ، ہدایات اور عبرت خیز واقعات رکھتے ہیں ۔ اِس نقطہ نگاہ سے بچپن میں ہم میں سے اکثر انسان اپنے بزرگوں اور والدین سے مختلف قصے اور کہانیاں سنا کرتے تھے ۔ محترم دوست ڈاکٹر عارف محمود کسانہ نے بھی حکایت نویسی کا مجموعہ تیار کیا ہے تاکہ ہمارے بچے انہیں پڑھ کر اپنی زندگی کو سنوار سکیں اور ان کی روشنی میں اپنی ملی زندگی کے لیے بھی کارآمد ہوں ۔ بچوں کے لیے اردو میں ادب کی کمیابی اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کچھ نہ کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے محمد شریف بقا لکھتے ہیں کہ: یہ امر باعث صد افسوس ہے کہ ہمارے اکثر اہل علم وادب نے ہماری نئی نسل خصوصا یورپ اور امریکہ وغیرہ میں مقیم بچوں اور بچیوں کے لیے بہت کم کتب تصنیف یا مرتب کی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل کا ہماری ملی روایات اور تاریخ وعلم سے گہرا تعلق قائم رہے تو پھر ہمیں اپنے نوجوانوں اور بچوں کو اپنے علمی و ادبی ذخائر سے واقف رکھنا ہوگا۔
بچوں کے لیے عارف محمود کسانہ کی متذکرہ کتاب ہی کے حوالے ڈنمارک میں ڈینش نیشنل براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (ڈنمارک ریڈیو) کی اردو سروس کے سابق مدیر نصر ملک نے خود بچوں کے لیے عالمی ادب سے کہانیوں کے تراجم کیے ہیں اور جنہیں اکادمی ادبیات پاکستان نے ایک ضخیم کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے اور نیشنل بک فانڈیشن نے بھی ان کی ترجمہ کردہ بچوں کے لیے کہانیوں پر مشتمل تین کتابیں شائع کی ہیں، عارف کسانہ کی کتاب کے بارے میں نصرت ملک کا کہنا ہے کہ : یورپ میں رہتے ہوئے ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے بچے موجودہ جدید سائنسی و مادی دور میں اپنے دین اور تہذیب و ثقافت کے حوالے سے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ انہیں سکولوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ ان کے گھریلو ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا اور بچے مختلف سوالوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں ۔ ایک انتہائی پریشان کن مرحلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ان بچوں کے دینی وتہذیبی اور قومی تشخص کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات کے مناسب اور بڑے احسن طریقے سے جواب دینے میں والدین کی کوششیں بھی بیشتر اوقات ناکانی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے اور ایک انتہائی پریشان کن مسئلہ یہ بھی ہے کہ بچوں کی صحیح اسلامی خطوط پر تربیت کیسے کی جائے کہ وہ مستقبل میں معاشرے کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں ۔ نصر ملک مزید کہتے ہیں کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ڈاکٹر عارف محمود کسانہ نے اس ملی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے بچوں کے لیے ایسی کہانیاں اور حکایات لکھی ہیں جو خالصتا اسلامی سوچ و فکر کی عکاسی بھی کرتی ہیں اور بچوں کے لیے بڑی دلچسپ بھی ہیں۔ یہ کہانیاں قرآنی احکامات اور فرمودات نبوی ﷺ کی روشنی میں ان سوالوں کے مدلل جوابات مہیا کرتی ہیں جو ان کے معصوم ذہنوں میں ابھرتے ہیں ۔
نصر ملک بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنے کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ : بچوں کے لیے کسی مخصوص سوچ و فکر اور نظریے کے تحت ادب تخلیق کرنا بہت ہی کٹھن ہے ۔ اور خاص کرموجودہ پر آشوب دور میں یہ کام اور بھی مشکل ہے ۔ لیکن ڈاکٹر عارف محمود کسانہ نے بچوں کی صالح تربیت کے لیے جو کہانیاں تخلیق کی ہیں انہیں پڑھ کر بلاخوفِ تردید یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ یورپ میں پروان چڑھنے والے پاکستانی النسل بچوں کے لیے قلبی محبت سے سرشار ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ بچے ہر قسم کی فرقہ بندی، رنگ و نسل اور ذات برادری سے ہٹ کی ایک مضبوط قومی جذبے اورخالص اسلامی اصولوں پر مبنی طرز حیات اختیار کریں ۔ ان کہانیوں میں جس طرح قرآن و سنت کو بنیاد بناتے ہوئے، عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کے آسان ترین جوابات دیتے ہوئے '' قصص الانبیا علیہ السلام'' کو بیحد سلیس و سادہ زبان میں بطور مثال یوں پیش کیا گیا ہے کہ بچوں کے لیے انہیں ذہن نشین رکھنا بہت ہی آسان ہے ۔ یہی ان کہانیوں کی کامیابی ہے ۔ نصر ملک نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ بچے جب ان کہانیوں کو پڑھیں گے یا والدین خود انہیں پڑھ کر سنائیں گے تو وہ طبعی طور پر ان میں دلچسپی لیں گے اور خود کو اسی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں گے جوانہیں اِن کہانیوں اور حکایات میں ایک صحیح انسان بننے کے لیے موجود ہے ۔ اِس طرح کہانیوں کی یہ کتاب بچوں کے لیے بے حد مفید اور سبق آموز ثابت ہو گی ۔ اور ڈاکٹر عارف محمود کسانہ کی اِس کوشش کو سراہا جائے گا ۔
سویڈن میں پاکستان کے سفیر طارق ضمیر اردو اور عالمی ادب کا گہرا مطالعہ رکھتے ہیں اور خود اپنی ذات میں کسی علمی و ادبی انجمن سے کم نہیں۔ ان کا پسندیدہ موضوع اقبالیات ہے اور اس کے لیے انہوں نے گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں۔ جب وہ اٹلی میں متعین تھے تو وہاں اطالوی مترجمین و محققین کے ساتھ مل کر کلام اقبال کا اطالوی زبان میں ترجمہ کرنے میں بھی معاونت کی تھی۔ ان کا عارف محمود کسانہ کی بچوں کے لیے دوسری تصنیف بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی، سبق آموز کہانیاں کے حوالے سے کہنا ہے کہ بچوں کے لیے ادب تخلیق کرنا ایک مشکل کام ہے، جس کے لکھنے والے کو نہ صرف بچوں کے رجحانات کو مد نظر رکھنا ہوتا ہے بلکہ کہانی کو معلوماتی بنانے کے ساتھ ساتھ دلچسپ بھی بنانا پڑتا ہے۔ یہ کام آج کل کے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے زمانے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے بچپن میں رسالہ تعلیم و تربیت، نونہال اور بچوں کی دنیا بہت مقبول تھے یہ رسالے کہانی بیان کرنے کے ساتھ بچوں کی اخلاقی تربیت بھی کرتے تھے۔ اس زمانے میں صوفی غلام مصطفی تبسم ، اسماعیل میرٹھی اور حالی کے ساتھ ساتھ بچوں کو سعدی کی کتابوں بوستان اور دبستان کے اردو تراجم پڑھائے جاتے تھے ۔
پاکستان کے سفیر نے اِس پر افسوس ظاہر کیا کہ آج کل بچوں کے لیے، بالخصوص دیار غیر میں پیدا ہونے اور پروان چڑھنے والے بچوں کے لئے، مختصر مگر معیاری کہانیوں کی شدید قلت محسوس کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ بہت خوشی اور تسلی کی بات ہے کہ بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی، سبق آموز کہانیاں نامی اس کتاب کے مصنف عارف محمود کسانہ جو کہ عرصہ دراز سے سویڈن میں مقیم ہیں، نے اپنے بچوں کی پرورش اس انداز میں کی ہے کہ وہ پاکستان سے باہر رہنے کے باوجود اپنی قومی زبان بھی بولتے ہیں اور اپنی ثقافت سے بھی آشنا ہیں۔ اس لیے ان کی کہانیاں بچوں کی پرورش میں بہت مدد گار ثابت ہوں گی۔ یہ کہانیاں ہمارے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں امید ہے بہت سے بچوں میں یہ کہانیاں اردو ادب کے ساتھ پائیدار رشتے کو استوار کریں گی اور اس بات میں معا ون ثابت ہوں گی کہ ہماری یہ خوبصورت زبان جس میں اقبال ، غالب ، فیض، ڈپٹی نذیر احمد، سعادت حسن منٹو، شبلی نعمانی اور عبدللہ حسین جیسے عظیم لوگوں نے لکھا ہے، زندہ رہے گی اور ترقی کرے گی۔
عارف محمود کسانہ کی بچوں کے لیے اسلامی معلومات پر مبنی، سبق آموز کہانیاں نامی کتاب کے بارے میں اِن اصحاب الرائے کے مدبرانہ خیالات اِس بات کا مظہر ہیں کہ ان کی دونوں تصانیف افکار تازہ اور اسلامی معلومات پر مبنی بچوں کے لیے، دلچسپ و انوکھی کہانیاں جسے نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے سبق آموز کہانیاں کے نام سے شائع کیا ہے ۔ یہ نہ صرف بچوں و نوجوانوں بلکہ بالغوں کے لیے اتنی ہی پسند کی جائے گی اور دو نوں کتابیں پسند کی جائیں گی ۔ یورپ میں رہنے والے پاکستانی گھرانے اپنے بچوں کی اسلامی و قومی تقاضوں کے مطابق تعلیم و تربیت کے لیے اس کتاب کو سود مند پائیں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے اندر اور جہاں جہاں اردو پڑھنے والے موجود ہیں، وہاں بھی اس کتاب کو مقبولیت حاصل ہوگی ۔