اہلیت کا جنازہ نکل چکا ہے

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مقصد ہی یہی ہے کہ یہاں کی ریاست میں عدل و انصاف کےساتھ دین اسلام کے قوانین کے مطابق ریاست کے نظام کو چلایا جائے۔  قائد اعظم محمد علی جناح کی پوری زندگی ہمارے لئے  بہترین سیاسی رہنما کا نمونہ ہے۔ قائد اعظم نے تمام کی ساری  زندگی کو سچ و حق پر چلنے سے عبارت ہے۔ انہوں نے محنت کی۔ یہی وجہ ہے آپ نے ہمیشہ کامیابی اور سرخروئی حاصل کی۔  آپ کی ذہانت، قابلیت اور عقلمندی کی وجہ سے ہی مسلمان پاکستان کا مقدمہ جیت پائے تھے۔ 

ہم اپنے قائد  پر جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔ آپ نے پاکستان بننے کے بعد ریاست پاکستان کی تعمیر و ترقی میں شب و روز صرف کئے اور اپنی صحت کا بھی خیال نہ رکھا۔  بیرسٹر ے طور پر آپ کثیر فیس لیتے تھے لیکن جب آپ پاکستان کے گورنر جنرل بنے تو چند سو روپے معاضہ مقرر کیا۔  پاکستان کے تمام سیاسی لیڈروں کو چاہیئے کہ وہ قائد اعظم کی زندگی کا ضرور مطالعہ کریں۔ ان  کی سیاسی بصیرت اور حکمت و دانائی پر غور کریں۔  قائد اعظم محمد علی جناح کے انتقال کے بعد پاکستان مخالف عناصر  آرام سے نہ بیٹھے۔ انہوں نے اپنے کارندوں کے ذریعے پاکستانی سیاست میں مداخلت کرکے انہیں قوم پرستی، لسانیت، عصبیت، اقربا پروری جیسی افسوسناک بیماریوں میں مبتلا کردیا۔  زبان ، رنگ و نسل اور قوم پرستی کی ایسی ہوا چلی کہ پاکستان شروع سے ہی مشکلات کا شکار ہو گیا۔

ساٹھ کے دہائی سے شروع ہونے والے ملک دشمن رویوں میں اضافہ ہوتا رہا اور 1971 میں پاکستان دو لخت ہوگیا۔  دشمنان پاکستان اس کے بعد بھی شورش اور انتشار کو ہوا دیتے رہے۔ اس کے نتیجے میں  ادارے تباہ ہوگئے۔  پاکستان میں اہلیت کا جنازہ نکل گیا۔ اقربا پروری عام ہو گئی۔  قابلیت و اہلیت کی جگہ سفارش اور رشوت کا چلن ہو گیا۔ اداروں کے سربراہ  سینارٹی کی  بجائے سیاسی پسند اور نا پسند کی وجہ سے مقرر ہونے لگے۔ ملک کی سب سیاسی جماعتوں نے برسر اقتدار آنے کے بعد ایک سا رویہ اختیار کیا۔ 

جمہوری حکومتوں میں کرپشن میں اضافہ ہؤا۔ اس کے علاوہ فوجی حکومتوں نے بھی بد عنوانی کو فروغ دیا۔ گویا ریاست پاکستان میں میرٹ کو برباد کرنے میں سب نے حصہ ڈالا۔  سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے عہد کیا تھا کہ پاکستان سے دہشتگردی  کے علاوہ  کرپشن ، لوٹ مار اور نا اہلیت کا بھی خاتمہ کیا جائےگا۔ دہشتگردی کا نوے فیصد خاتمہ تو ہوگیا ہے۔ لیکن عوام توقع کررہے ہیں کہ اداروں میں نا اہل سیاسی بھرتیوں کا سلسلہ بھی بند ہو۔  کیا موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کی بقا و سلامتی کےلئے اداروں میں تعینات نا اہل افسران کی تعیناتی کا سلسلہ روک سکیں گے؟  یا سپریم کورٹ از خود نوٹس لیتے ہوئے اداروں میں تعینات افسران، اہلکاروں اور ملازمین کی اسکروٹنی کرکے اہل ، قابل اور زہین لوگوں کو ریاستی نظام کا حصہ بنانے میں کردار ادا کرے۔

عجیب معاملہ ہے کہ جو جس قدر اعلیٰ عہدے یا اعلیٰ مقام پر فائز ہے، وہ اُسی قدر بڑے پیمانے پر کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث ہے۔ اینٹی کرپشن کا محکمہ رشوت میں اضافہ کا سبب بن چکا ہے۔ اس وقت پاکستان کے تمام اداروں میں رشوت، بدعنوانی، لوٹ مار عام ہو چکی ہے۔ اگر فی الفور اس کا خاتمہ نہ کیا گیا تو پاکستان ہر لحاظ سے کمزور ہوجائے گا۔ پاکستان کے دشمن بھی یہی چاہتے ہیں۔  پاکستان کی سلامتی اور آئین کی پاسداری کےلئے لازم ہے کہ نا اہل، کرپٹ افسران کا احتساب ہو۔  پاکستان کے  دیانتدار، ایماندار، سچے اور فرض شناس افسر   موجودہ انتہائی بگڑے ہوئے نظام کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔ ایسے افسروں کو دیوار سے لگادیا جاتا ہے۔ ان کی قابلیت کا مذاق اڑایا جاتا ہےاور  ان کے خلوص پر طنز کیا جاتا ہے۔

عوام یہی کہتے ہیں کہ جب تک پاکستان بھر سے تمام سرکاری و نیم سرکاری ، کارپوریشنز اور اداروں سے کرپٹ افراد کی چھانٹی نہیں کی جائے گی اُس وقت تک یہ حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ وہ ملازمین جو نہ خود رشوت لیتےہیں اور نہ دیتے ہیں وہ انتہائی پریشانی میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کے مطابق وہ اپنی اہلیت و قابلیت کے تحت کام کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں کام کرنے ہی نہیں دیا جات۔ ان کے کام سے کرپٹ افسران کا سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ پاک فوج کی مقبولیت  قائم رہے تو انہیں اداروں کی درستگی کےلئے وزیراعظم و صدر کو راغب کرنا ہوگا۔ تاکہ کرپشن و بدعنوانی کے خلاف اسمبلی سے سخت قوانن منظور کروائے جائیں اور بد عنوانی کے تمام راستے بند کیئے جاسکیں۔ پاکستانی آئین کے تحت ملک کے خلاف اقدامات غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ ملک کی سلامتی و بقا کو خطرے میں ڈالنا بھی غداری ہے۔ اس طرح نااہل لوگوں کی  سیاسی سرپرستی  اور  اقربا پروری بھی  غداری ہے۔ کیونکہ آئین کے تحت کسی بھی شہری کے حقوق کی حق تلفی جرم ہے۔ یاد رکھنے کی بات تو یہ ہے کہ نا اہل اور ناکارہ افسران  یا اہلکاروں کی وجہ سے ہونے والے ملک و قوم کے نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا۔  پاکستان میں ہر طاقتور، دولت مند اور بااختیار خود کو آئین و قانون سے ماورا سمجھتا ہے۔ ان کے نزدیک تھانے ہوں یا عدلیہ سب ان کی لونڈیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایسے سیاسی و نوکر شاہی طبقے کی  وجہ سے بربادی کی طرف  بڑھ رہا ہے۔ 

پاکستان کے وفاقی و صوبائی اداروں کو اہلیت و قابلیت کی بنیاد پر استوار کرکے ہم ایک مثالی اور عالیشان پاکستان بناسکتے ہیں۔ عوام اس بات کا گمان رکھتے  کرپشن ہی دہشتگردی کا سہارا ہے۔ کرپشن، لوٹ مار اور بدعنوانی سے ہی دہشتگردی جنم لیتی ہے۔ ماہرین نفسیات و  جرائم کے مطابق حق تلفی کا احساس بھی جرائم کی وجہ بنتا ہے۔  ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اداروں کے  نقص کو دور کرے۔ عوام الناس کےلئے ایسا نظام مروج کرے جس میں عدل و انصاف، حقوق کی پاسداری، اہلیت و قابلیت کو ترجیح حاصل ہو۔