مغرب کو حلال گوشت ہضم نہیں ہوتا!
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 13 / دسمبر / 2016
- 5955
ہالینڈ کی عدالت نے ایک مسلم گروپ پر ایک کارٹون شائع کرنے کی وجہ سے 3200 یورو کا جرمانہ عائد کیا ہے کہ جس میں دکھایا گیا تھا کہ یہودیوں کے قتل عام (ہولو کاسٹ) کے واقعات من گھڑت تھے۔ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے گروپ پر الزام کو برقرار رکھا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ عرب یورپی لیگ AEL کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والا کارٹون ’غیر ضروری طور پر دکھایا گیا تھا‘‘۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق، آزادی رائے کو بہت اہمیت دیتی ہے اور اس کا بے حد دفاع اور احترام کرتی ہے۔ مگر وہ جنگ عظیم دوم کے دوران یہودیوں کے قتل عام (ہولو کاسٹ) سے انکار کر برداشت نہیں کر سکتی۔ واضح رہے کہ کارٹون میں دو آدمیوں کو دکھایا گیا ہے جن کے سامنے بہت سی لاشیں بکھری ہوئی ہیں۔ ایک آدمی دوسرے کو کہتا ہے کہ :’’مجھے نہیں لگتا کہ یہ یہودی ہیں‘‘۔ دوسرا آدمی جواب میں کہا ہے :’’جو بھی ہو ہمیں کسی بھی طرح ان کی تعداد 60 لاکھ دکھانی ہے‘‘۔ یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ ہولو کاسٹ کے دوران جرمن نازیوں نے 60 لاکھ یہودیوں کو تہہ تیغ کر دیا تھا۔
ہالینڈ کے اس مسلم گروپ کا کہنا ہے کہ اس کا ارادہ ہولو کاسٹ سے انکار کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو دکھانا تھا کہ آزادی رائے میں کس طرح دوہرے معیار اختیار کئے جاتے ہیں اور کس طرح اس میں تعصب سے کام لیا جاتا ہے۔ AEL گروپ نے یہ کارٹون اس وقت بھی شائع کیا تھا جب ڈنمارک کے اخبار نے پیغمبر اسلام کا کارٹون شائع کیا تھا اور جس پر کئی ممالک کے مسلمانوں نے اپنی برہمی کا اظہار کیا تھا ان کے خیال میں کارٹون شائع کرنے کا مقصد دونوں مذاہب (مسلم عیسائی) میں نفرت کے اظہار کو ہوا دینا ہے۔ ادھر فرانس نے بھی ایک مصری عالم دین علی ابراہیم کو دوسری مرتبہ ملک بدر کر دیا ہے۔ فرانسیسی وزارت داخلہ نے اس پر ملک میں نفرت پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ عالم دین علی ابراہیم کو ان کے آبائی وطن مصر واپس بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس ’’عالم‘‘ کو ملک بدر کیا گیا تھا وہ جھوٹ کا سہارا لےکر دوبارہ ہمارے ملک میں آگیا تھا۔ فرانسیسی وزیر نے کہا ہے کہ اس مبلغ نے مغرب کے بارے میں متعدد مرتبہ اشتعال انگیز جذباتی تقریریں کی ہیں اور اس کا یہ عمل ہمارے معاشرہ کی اقدار کے منافی ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانس نے 2008 کے بعد سے 125 راسخ العقیدہ ، انتہا پسند اور انتشار پسند مسلمانوں کو ملک بدر کیا ہے جن میں سے چند پھر کسی نہ کسی طریقے سے واپس آ گئے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں کہ مصری عالم علی ابراہیم دوبارہ فرانس میں آنے میں کیسے کامیاب ہو گیا۔ علی ابراہیم نے فرانسیسی حکومت کی اس کارروائی اور وزیر کے الزامات کے جواب میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ یاد رہے کہ علی ابراہیم پیرس کے نواحی علاقے پیٹن کی حمزہ مسجد کے امام تھے۔ یہاں یہ بات ہم وطن پاکستانیوں کو بتانا ضروری ہے کہ فرانسیسی معاشرے کی اقدار کے منافی کام کرنے والی مذہبی تنظیموں اور نفرت پھیلانے کے الزام میں جن متعدد ’’عالموں‘‘ کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں اور ان بنیادوں پر فرانس بدری کے متعلق جو فہرست جاری کی گئی ہے ان میں ’’پانچ پیارے‘‘ پاکستانی بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں جن عالموں اور مذہبی سیاسی رہنماؤں کے فرانس میں داخلے پر پابندی عائد ہے، ان میں چھ پاکستانی علمائے دین اور مبلغ شامل ہیں۔
فرانس میں تبلیغ اسلام ، حجاب اور مسجد کے میناروں کے بعد اب حلال کھانوں کے خلاف بھی مہم شروع ہو گئی ہے۔ حرف آخر کے طور پر پیرس کے میئر نے ان کھانوں کو متعصبانہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ فرانس کی ایک فاسٹ فوڈ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے ریسٹورنٹس میں صرف حلال گوشت فراہم کیا جائے گا کہ ان کے گاہکوں کی بڑی تعداد مسلمان ہے۔ اس پر فرانس کے سیاسی رہنماؤں نے فوڈ کمپنی کے اس اعلان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسے ’’مذہبی تعصب‘‘ قرار دیا۔ چونکہ یہ فاسٹ فوڈ کمپنی حلال گوشت فراہم کرنے کےلئے گاہکوں سے اضافی رقم بھی وصول کرے گی جس پر فرانسیسی سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ناانصافی ہے۔ کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر مسلمان حلال غذا ہی کھانا چاہتا ہو۔ تاہم کمپنی نے اس دلیل کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اضافی رقم تو دینی ہی پڑے گی۔ تاہم اگر کسی کو حلال گوشت پسند نہیں تو وہ کہیں اور جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات اتنی سہل نہیں کہ یورپین اسے ہضم کر سکیں ۔
برطانیہ میں بھی ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا ہے کہ برطانیہ کے سینکڑوں ریستورانوں میں لوگوں کو بتائے بغیر حلال گوشت کھلایا جا رہا ہے۔ برطانوی اخبار دی سن کی ایک رپورٹ کے مطابق ریستورانوں کے علاوہ اسکولوں ، کالجوں، تعلیمی اداروں ، اسپتالوں اور سپورٹ کی بڑی جگہوں پر ہزاروں افراد کو ’’خبردار‘‘ کئے بغیر بڑی مقدار میں انہیں حلال گوشت کھلایا جا رہا ہے۔ اخبار کے مطابق ایسا قدم اٹھانے پر کئی مقامات پر گاہکوں نے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔ حلال فوڈ اتھارٹی کے صدر مقصود خواجہ نے کہا ہے کہ لوگوں کو بتائے بغیر حلال گوشت کھلانا غیر اخلاقی حرکت ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مسلمانوں کے پاس حلال گوشت کھانے کی چوائس موجود ہے اسی طرح غیر حلال کھانے والوں کےلئے بھی چوائس ہونی چاہئے۔ خواجہ کا کہنا ہے کہ ہر گاہک کو اس بات کی صحیح اور مکمل اطلاع ہونی چاہئے کہ اسے کیا کھلایا جا رہا ہے؟ یا وہ کیا کھا رہا ہے؟ برطانیہ کی فارم ویلفئیر اینیمل کونسل نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ حلال گوشت پر پابندی لگائی جائے جبکہ بعض تنظیموں کا کہنا ہے کہ گاہکوں کو کھانوں کے بارے میں باخبر کیا جائے۔
انتہا پسند جماعت بی این پی کے کونسلر مائیکل کولمین نے شہر میں حلال گوشت کے خلاف مہم چلا رکھی ہے۔ اس نے برٹش اتھارٹی سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ ’’وحشیانہ طریقے سے جانوروں کو ہلاک کرنا بند کریں‘‘۔ اسی عنوان کے تحت اس نے سیکرٹری آف اسٹیٹ کو ایک طویل مراسلہ بھی ارسال کیا ہے۔ کونسلر مائیکل کولمین نے کونسل کے اجلاس کے دوران کہا ہے کہ حلال رولز کے اندر جانوروں کو ذبح کرنے سے قبل بجلی کے جھٹکے کے ذریعے بے ہوش نہیں کیا جاتا۔ اس نے کہا کہ اس نے یہ مسئلہ اس وقت اٹھایا جب اس کے حلقے کی کچھ ناراض ماؤں نے اس سے آ کر کہا کہ ان کے علم کے بغیر ان کے بچوں کو حلال گوشت دیا جا رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس طریقے سے جانوروں کی ہلاکت وحشیانہ ہے اور اس سے گوشت کو صحیح طور پر ’’لیبلڈ‘‘ نہیں کیا جاتا۔ عام تاثر یہ ہے کہ ماؤں اور بچوں کے ساتھ ’’ڈرٹی ٹرک‘‘ کھیلا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ برطانیہ میں بہت سی فاسٹ فوڈ کی دکانیں بھی حلال گوشت فروخت کر رہی ہیں لیکن اس کی شناخت ظاہر نہیں کرتیں۔ اسکولوں میں جانوروں سے محبت کا درس دیا جاتا ہے لیکن انہیں وحشیانہ طریقے سے ذبح کرنا تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کسی مذہب کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جانوروں کو غلط طریقے سے ہلاک کرنے کے بارے میں ہے۔ لیبر کونسلر جوئے گارنر نے مائیکل کولمین کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ’’سیاسی اسٹنٹ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ جانوروں کو ہلاک کرنے میں بہت معمولی فرق ہے۔ حلال جانوروں کی اکثریت کو پہلے بے ہوش کیا جاتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ان پر مذہبی کلمات ادا کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا فرض ہے کہ جانوروں کی دیکھ بھال کریں لیکن ان کی موت سے صرف چند منٹ قبل نہیں۔
یہاں میں ایک فرانسیسی سیاستدان کا حوالہ دینا ضروری سمجھتا ہوں جس نے کہا ہے کہ ’’کوئیک فاٹ فوڈ کمپنی‘‘ جس کی 350 شاخیں فرانس میں کھانوں کا بزنس کر رہی ہیں، نے دراصل اپنے گاہکوں پر ’’اسلامی ٹیکس‘‘ لگایا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ غیر مسلم یہ ٹیکس کیوں ادا کریں؟ اس نے دھمکی دی ہے کہ اگر کمپنی نے اضافی رقم لینا بند نہ کی تو وہ عدالت سے رجوع کرے گا۔ یاد رہے کہ فرانس میں حلال گوشت کی مانگ دن بدن بڑھ رہی ہے اور اس وقت حلال گوشت کی مارکیٹ میں لگ بھگ 8 بلین ڈالر کا کاروبار ہو رہا ہے۔
میں کہیں پڑھا ہے کہ جہاں ساری عقل، قوت ، قانون و ضابطے جواب دے جائیں وہاں سے میکانکی عمل شروع ہوتا ہے۔ معاشرے کو نئی شکل دینے میں فکر سے زیادہ میکانکی ذرائع کا ہاتھ ہوتا ہے جو فکر کی نشر و اشاعت کو ممکن بناتے ہیں۔
کیا آپ بھی وہی سوچ رہے ہیں جو میں سوچ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟