جنید جمشید سب کا تھا
- تحریر سید شاہد عباس
- بدھ 14 / دسمبر / 2016
- 5620
ناچ گانا، ہلا گلا، پرستار، دولت، شہرت ۔۔۔ جو سوچا جا سکتا ہے وہ اُسے ملا۔ سب ملا ، مگر سکون کی تلاش میں کلین شیو چہرے پہ داڑھی کا حسن سجا لیا۔ اپنی آواز کی خوبصورتی کو گانوں کے بجائے نعت کا حسن دے دیا۔ اکثر دوستوں سے کہتا تھا کہ یار جنید جمشید کلین شیو سنگر تھا تو کوئی اس پہ اعتراض نہیں کرتا تھا۔ مگر جیسے ہی وہ دین کی طرف راغب ہوا تو اس پہ اعتراض اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
کبھی اس کے کاروبار پہ تنقید کی جانے لگی۔ کبھی اُس کے کسی قول پہ نشتر برسنا شروع ہو گئے۔ کبھی اس کی کسی بات کو غلط رنگ دے دیا گیا۔ مگر نہ جانے وہ کس مٹی کا بنا تھا کہ کوئی بھی اس کی برداشت کو نہ توڑ پایا۔ فقہی اختلاف کیا ہوتا ہے، نظریاتی اختلاف کیا ہوتا ہے ، وہ یہ جانتا ہی نہیں تھا۔ وہ مسکراتا ہوا چہرہ، ایذا دینے والوں کو معاف کرنے کا ہنر جانتا تھا، معاف کرنے کی لذت جانتا تھا۔
جنید جمشید کس طرح ایک پاپ سنگر سے مبلغ اسلام بنے، یہ ایک ایسا سفر ہے جس کی داستاں زباں زدِ عام ہے مگر بطور انسان اُس شخص میں نہ جانے کیا تبدیلی آئی کہ وہ برداشت کا پیکر بن گیا۔ اُس کا رجحان کس مذہبی فکر کی جانب ہوا۔ وہ کس فرقے کی طرف راغب ہوا اِس تمام بحث سے قطع نظر سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ اُس کے منہ سے کبھی کسی بھی فقہی یا نظریاتی مخالف کے لیے کوئی ایسا کلمہ ادا نہیں ہوا جس سے اختلاف، بغض یا نفرت کی بو آتی ہو۔ اس کے ساتھی بلا تفریق اُس کے ساتھی تھے چاہے اُن کا تعلق کسی بھی سوچ سے ہو۔ اُس کا سب سے بڑا خاصہ اُس کی برداشت تھی۔ اُس کی خوبیوں میں ممتاز خوبی اُس کا توڑنے کے بجائے جوڑنے کا عمل تھا۔ وہ ہمیشہ سے قائل رہا کہ اُمت پارہ پارہ ہے۔ اس کو توڑنے والے بہت ہیں جوڑنے والے کم ہیں۔ وہ جوڑنے والوں میں سے تھا۔
سوچ رہا تھا کیا عجیب منظر ہے۔ پہلے سوچ تھی کہ کیا فائدہ ایسی داڑھی کا ، کیا فائدہ ایسی رغبت کا جو ایک مخصوص فکر کی حامل ہو جو ایک مخصوص سوچ کے گرد گھومتی ہو۔ مگر جب اُس کو ایک مختلف سوچ کے اِمام کے پیچھے ہاتھ باندھے دیکھا تو سب خدشات دور ہوتے گئے۔ رمضان نشریات تھیں اور وہ ایک مختلف فکر رکھنے والے عالم کی اقتداء میں نماز ادا کر رہا تھا۔ کچھ دلچسپی پیدا ہوئی کہ اُس کو سنوں تو سہی کہتا کیا ہے۔ جب بھی سُنا اتحاد سنا، جب بھی گفتگو سنی یگانگت کا نعرہ سنا۔ اُس کی شخصیت کا ایک حیران کن پہلو یہ تھا کہ جو لوگ اُس کے گانوں پہ جھومتے تھے، وہی لوگ اُسی کلچر میں رہتے ہوئے اب اُس کی نعتوں پہ بھی جھومتے ہیں۔ وہی فنکار ساتھی جو اُس کے ساتھ تھے، اب بھی اُس کے ساتھی ہیں۔
ظفر عباس(جے ڈی سی) کہتے ہیں کہ کوئٹہ ہلاکتوں پر منظم احتجاج میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ۔ اور میرے منع کرنے کے باوجود کہ کچھ عناصر اُن کی مخصوص نظریاتی وابستگی کی وجہ سے ان کے بارے میں شدیس خیالات رکھتے ہیں، وہ پھر بھی آن موجود ہوئے۔ حیران کن طور پر ایک احتجاجی بینر ہاتھ میں تھاما اور یہ کہتے ہوئے شامل ہوئے، کہ کیا داڑھی ہمیں دہشت گردی کی مذمت کرنے سے روکتی ہے۔ میں آج تک دیکھ نہیں پایا کہ کبھی کوئی ایسی شخصیت جس کی شہادت پہ ہر مکتبہء فکر کے لوگ یکساں غمزدہ ہوں۔ کیا شخص تھا وہ جو ائیر پورٹ پر خود سے زیادتی کرنے والوں کے بارے میں کہتا تھا کہ میں نے اُنہیں معاف کیا۔ اللہ بھی انہیں معاف کرے۔ کس منش کا انسان تھا جو اپنے خلاف بات کرنےوالوں کے بارے میں بادامی سے کہتا تھا کہ لوگوں کو باتیں کرنے دو۔ باتوں کا برا نہیں مناتے۔ واسع کے پروگرام میں سوال کے جواب میں بولا بھئی میں آپ لوگوں کے درمیان سے ہی آیا ہوں۔ میں نفرتیں نہیں محبتیں پھیلانا چاہتا ہوں۔
مجھے اُس کی ایک مثال اَزبر ہو چکی ہے کہ کشتی دریا میں رہ کر ہی افادیت رکھتی ہے، اُسے دریا سے باہر نکال دیا جائے تو وہ کسی کام کی نہیں۔ ہنر یہ ہے کہ کشتی رہے بھی دریا میں اور پانی کشتی میں نہ آئے۔ آپ لوگ وہی دریا ہو جس کا میں حصہ تھا اور میں اس دریا سے باہر کچھ بھی نہیں ہوں۔ علامہ کمیل مہدوی کو کہتے سنا کہ وہ ایک بہت خوش رہنے والا شخص تھا اور میں خود اُس کی تعزیت کے پیغام دنیا بھرسے وصول کر رہا ہوں۔ تو دوسری جانب مولانا طارق جمیل جیسی شخصیت اُس کی قربت چھن جانے پر روتی آنکھوں سے اس کے لیے دعا گو تھی۔ جب وہ خود اتحاد کا داعی تھا تو ہم کیسے کہیں وہ کسی ایک فکر ، کسی ایک طبقے، کسی ایک سوچ یا کسی ایک نظریے کا جنید جمشید تھا۔ وہ تو ہم سب کا جنید جمشید تھا۔ وہ پاکستان کا جنید جمشید تھا۔
اشک بار آنکھیں، ہر فکر کے لوگوں کے اُداس چہرے، ہر نظریے کے حامی سوگوار، ہر رنگ و نسل کے لوگ افسردہ، باہم ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اپنے جنید کو یاد کرتے ہوئے۔ شاید آج اُس کا اتحاد و جوڑنے کا پیغام بھی کامیاب ہو گیا کہ اُس کا دکھ کسی ایک فکر کی میراث نہیں رہا۔ شاید آج اُس کی سوچ کامیاب ہو گئی کہ اُس کا غم نظریات سے بہت بلند ہو چکا ہے۔ شاید جنید کا پیغام محبت اور یگانت کی فکر کامیاب ہو چکی ہے کہ آج ہر طبقہء فکر کے لوگ اُس کی یاد میں نم آنکھوں سے ہدیہ عقیدت پیش کر رہے ہیں ۔ وہ دنیا میں رہا تو عروج کی داستانیں رقم کیں۔ وہ گیا تو ایسے گیا جیسے "نگینہ وہاں جا کر جڑ گیا جہاں اُس نے جڑنا تھا"۔