بلاول کا تیر اور کپتان کا چھکا
- تحریر ارشد بٹ ایڈووکیٹ
- بدھ 14 / دسمبر / 2016
- 5979
عمران خان کے ایک دل جلے کارکن نے خوب کہا پی ٹی آئی ‘فیر اوتھے ای آن کھلوتی‘ پی ٹی آئی نے ایک بار پھر پارلیمنٹ کے اجلاس میں جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم کے استعفی کے لئے دھرنے، احتجاجی ریلیاں اور جلسے۔ پارلیمنٹ سے استعفے، پھر استعفوں کی واپسی۔ پاناما لیکس کرپشن کے نام پرتحریک آزادی کشمیر کی حمایت میں مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس کا بایئکاٹ، ترکی کے صدراردگان کے خطاب کے لئے مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے بایئکاٹ کے ساتھ پارلیمنٹ کے مستقل بایئکاٹ کا اعلان۔ سپریم کورٹ کی دہلیز بھی آزما لی۔ ہر بار سولو فلائٹ مگر کچھ ہاتھ نہ آیا۔ نہ ایمپائر کی انگلی اٹھی اور نہ وزیرآعظم کا استعفی نہ حکومت کا خاتمہ۔
پیپلز پارٹی والے سیانے نکلے۔ اعتزاز احسن نے مشورہ دیا عدالت مت جانا بے نتیجہ رہو گے۔ مگر محترم چیئرمین پاپولزم کے گھوڑے پر سوار ہیرو بنے فتح کے ترانے گاتے رہے۔ خواب ٹوٹا تو اپنے بالوں کےعلاوہ ہاتھوں میں کچھ نہ تھا۔ مسلسل ناکامیوں سے گھبرا کرپارٹی کارکن تھک ہارکرقیادت سے بیزاری کا اظہار کرنے لگے ہیں، سرمایہ کاروں نے ہاتھ کھینچنا شروع کر دئے، بیرون ملک سے پارٹی فنڈ میں مالی ترسیلات میں روز بروز کمی واقع ہونے لگی ہے۔ پارٹی کی اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی کھل کر سامنے آنے کو ہیں۔ سیاسی جبر کا معجزہ دیکھئے کہ پی ٹی آئی کے لئےاب پارلیمنٹ میں پی پی پی کا دم چھلہ بننے کےعلاوہ کوئی چارہ نیہں رہا۔ وزیرآعطم نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس کرپشن پر پارلیمانی تحریک کی باگ ڈور پی پی پی کے ہاتھ میں ہے۔
دوسری جانب بلاول بھٹو دن بدن تیر پہ تیر چلائے جا رہے ہیں۔ سندھ میں پی پی پی حکومت میں تبدیلی، پارٹی کی تنظیم نو اورلاہور میں بھر پور سیاسی سرگرمیوں کے بعد میڈیا نے بلاول کو سنجیدگی کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ اپنے چار مطالبات کی منظوری کے لئے 27 دسمبر کو احتجاجی تحریک کے اعلان سے بلاول عوام اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ سیاسی میدان میں تازہ دم نوجوان بلاول کے بڑھتے ہوئے قدم پی ٹی آئی کے بزرگ چیئرمین کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہسکتی ہے۔ دراصل بلاول نے الیکشن کی تیاری کا طبل بجا دیا ہے۔ اس پرفورا کہا جائے گا کہ آیندہ الیکشن میں پی پی پی کو تو پنجاب میں کچھ نیہں ملنے والا۔ کیونکہ آئیندہ الیکشن میں کپتان کے سامنے بلاول کا چراغ نیہں جلنے والا۔ اور شیر کا شکار تو کپتان اکیلے ہی کرے گا۔ لیکن پنجاب کی الیکشن سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین اس کو مختلف نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ آیندہ الیکشن میں پی پی پی پنجاب میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ مگر پی پی پی پنجاب میں پی ٹی آئی کی کامیابی کو محدود کرنے کا کرشماتی کردار ادا کر سکتی ہے۔
پی پی پی کے پاس پنجاب کے بیشتر انتخابی حلقوں میں ہیوی ویٹ انتخابی امیدوار ابھی تک موجود ہیں۔ رحیم یار خان، ملتان، ساہیوال، اوکاڑہ، گجرات، منڈی بہاوالدین اورفیصل آباد وغیرہ میں الیکشن کے نکتہ نظر سے پی پی پی کے پاس اپنا ذاتی ووٹ بینک رکھنے والے با اثرامیدوار موجود ہیں۔ ایسے امیدوار اگر پی پی پی کی عدم مقبولیت کی وجہ سے جیت نہ سکیں تو وہ اتنے ووٹ ضرور لینے میں کامیاب ہو جائئں گئے جو پی ٹی آئی کے امیدواروں کے ووٹ کم کرکے انہیں شکست سے دوچار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر بلاول نے الیکشن سے قبل پی پی پی پنجاب میں جان ڈال دی تو ان میں سے کئی امیدواروں کی کامیابی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
عمران خان سولو فلائٹ کرکے نواز لیگ کو پنجاب سے بے دخل کرنے میں کامیاب نیہں ہو سکتے۔ پی پی پی کی پرانی ساکھ اگر مکمل طور پر بحال نہ بھی ہو مگر اس بات کے امکانات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں کہ بلاول کی قیادت میں یہ پارٹی اپنے ووٹ بینک میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ بلاول کے بڑھتے قدم نواز لیگ سے زیادہ پی ٹی آئی کے ووٹ بینک پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کو کامیابی کی طرف قدم بڑھانے کے لئے پی پی پی سے پنجاب میں الیکشن ایڈجسٹمنٹ کرنے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ پی پی پی اور پی ٹی آئی کا پنجاب میں الیکشن اتحاد کی حکمت عملی نواز لیگ کو اس صوبہ سے نکالنے میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ کپتان کی سولو فلائٹ سے نواز لیگ کو پنجاب اور ملک کے اقتدار سے ہٹانے کا سہانا خواب حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۔
اگر حکومت نے بلاول کے چارمطالبات پر مثبت ردعمل کا اظہار نہ کیا تو پیپلز پارٹی پارلیمانی بحران کے ذریعے حکومت کے لئے شدید مشکلات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پی پی پی اور تحریک انصاف نے اگر پارلیمان اور پارلیمان سے باہر تعاون کا ہاتھ بڑھایا تو حکومت کے لئے خطرات بڑھ جائیں گے۔ اور 2017 نئے انتخابات کا سال بھی ہو سکتا ہے۔
سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ کپتان کے لئے اس آگ کے دریا کو ‘کل کے سیاسی بچے کی انگلی‘ پکڑے بغیر پار کرنا ممکن نیہں ہو گا۔ بعد ازاں یہی کہنا پڑے گا اب پچھتاوے کیا ہوت جب چیڑیاں چگ گیئں کھیت۔