معاشرہ ہمارے رویوں سے تشکیل پاتا ہے

میں ایک دن گاڑی چلا رہا تھا اور میرے ساتھ میرے بڑے بھائی بھی اگلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ مجھے میرے  دوسرے بھائی نے فون کیا۔ میں نے اپنا موبائل اپنے بھائی کو تھماتے ہوئے کہا کہ آپ سن لیں کیوں کہ میں گاڑی چلا رہا ہوں۔ لیکن میں نے دیکھا کہ انہیں پتہ نہیں تھا کہ کال کیسے  ریسیو کرنی ہے۔  میں نے فون واپس لیتے ہوئے بات کی۔  اسی دوران مجھ سے گاڑی آگے پیدل چلنے والے ایک شخص سے جا ٹکرائی۔ چونکہ میں گاڑی  بہت آہستہ چلا رہا تھا، اس لئے بچت ہو گئی۔ اور وہ شخص زخمی ہونے سے بچ گیا۔ لیکن اس کو خاصا جھٹکا لگا۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا یا میں کچھ کہتا، میرے بھائی جھٹ سے بولے کہ کیا اندھے ہو سڑک پر چل رہے ہو اور پیچھے آتی ہوئی گاڑی تمہیں نظر نہیں آئی؟ وہ بیچارہ کچھ سہم سا گیا جیسے اس سے کوئی جرم سرزد ہو گیا ہو۔ میں اسی وقت گاڑی کھڑی کرکے نیچے اترا۔ اس بندے کی خیریت دریافت کی اور معافی مانگتے ہوئے کہا کہ غلطی میری تھی اور اگر آپ کو کوئی زیادہ چوٹ  آئی ہے تو میں آپ کو ہسپتال لے جاتا ہوں۔ لیکن اس نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ جا سکتے ہیں۔ میں نے ایک بار پھر معذرت کی اور دوبارہ گاڑی میں بیٹھ کر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوا۔ میں نے اپنے بڑے  بھائی  سے کہا کہ آپ خواہ مخواہ اس پر خفا ہو رہے تھے حالانکہ غلطی تو ہماری تھی۔ بھائی نے جواب دیا کہ اپنی غلطی تسلیم کرنے سے یہ لوگ سر چڑھ جاتے ہیں۔ ویسے بھی یہاں کوئی بھی اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا کرتا۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ سڑک سے ہٹ کر کیوں نہیں چل رہا تھا سڑک کے اندر کیوں چل رہا تھا۔  خیر میں نے اپنی حد تک اپنے بھائی کو سمجھانے کی کوشش کی کہ جو بھی ہو، غلطی ہماری تھی۔ دوسرا یہ کہ ہم گاڑی میں تھے اور وہ پیدل تو ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ پیدل چلنے والوں کا احترام کریں۔ یہی اسلام کا حکم ہے اور یہی دنیا بھر کا قانون اور اخلاق ہے ۔

یہ تو ایک واقعہ تھا لیکن اس ملک میں ایسے سیکڑوں واقعات روزانہ پیش آتے ہیں جہاں کوئی اپنی غلطی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا بلکہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق دوسروں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ ایسے ہی رویوں کے سبب پاکستان میں نفرتیں جنم لیتی ہیں لوگوں کا ایک دوسرے پر اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور  لوگوں میں  مایوسی (Frustration) پیدا ہوتی ہے۔ پھر لوگ عدم برداشت کا شکار ہو کر بات بات پر لڑنے جھگڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ وطن عزیز میں آئے روز ایسے دلسوز واقعات پیش آتے ہیں کہ اللہ پناہ۔

کسی بھی معاشرے کو بنانے سنوارنے میں سماجی رویے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے رویوں میں بہتری لائیں اور اپنے اندر قوت برداشت پیدا کریں۔ کسی دوسرے پر تنقید سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اور خود کو دوسرے فریق کی جگہ رکھ کرسوچیں۔ کسی بھی جگہ دیکھیں تو ہر شخص جلدی میں دکھائی دیتا ہے اور دوسروں کو روند کر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ انہی رویوں کی وجہ سے معاشرے میں سفارش اور رشوت کو بھی فروغ ملتا ہے۔ اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ کسی کو کوئی جلدی بھی نہیں ہوتی لیکن پھر بھی انتظار کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ سڑکوں پر جہاں ایک لین ہوتی ہے وہاں 2 یا 3 لین بنا کر ٹریفک کو بلاک کرنے کے بعد پھر وہاں ہارن پر ہارن بجائے جاتے ہیں اور اپنی فطری  جلد بازی کا مظاہرہ کرکے اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کر دیتے ہیں۔ انہی رویوں کی وجہ سے حکمران اور سیاستدان خاص پروٹوکول حاصل  کرتے ہیں تاکہ ان کو راستے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ورنہ لوگ تو ایمبولینسوں کو بھی راستہ نہیں دیتے ہیں۔

آج کل ربیع الاول کا مہینہ چل رہا ہے اور سارا پاکستان برقی قمقموں اور رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجا ہوا ہے۔ (یہ فیشن یا مذہبی عقیدت پچھلی ایک دہائی سے وارد ہوئی ہے) 12 ربیع الاول کو سارے پاکستان میں لمبے لمبے جلوس اور ریلیاں نکالی گئی ہیں اور بہت ساری سڑکوں پر ٹریفک جام رہا ہے۔ جگہ جگہ سیرت النبی کی محفلوں اور کانفرنسوں کا اہتمام تھا جو ابھی بھی جاری ہے۔ لیکن حرام ہے کسی نے اپنی سیرت کے بارے سوچا ہو یا اپنی سیرت سنوارنے کی کوشش کی ہو۔ میں نے ذاتی طور پر 4 مختلف جگہوں پر جلوس کے شرکا کو روک کر نشاندہی کی تھی کہ آپ لوگ یہ جو جوس پی کر اس کے ڈبے راستے میں پھینک رہے ہو اور جگہ جگہ گند پھیلا رہے ہو یہ کس کی سنت ہے؟  آپ کو پتا ہی نہیں کہ آپ یوم پیدائش کس کا منا رہے ہیں اور پیروی کس کی کر رہے ہیں۔  نبی الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلی سیرت کے بارے میں تو دنیا پہلے سے ہی جانتی ہے اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کو بھی اس کا اعتراف ہے۔ پھر ہمیں  کیوں ان کی سیرت کا پرچار کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے؟ ہم اپنی سیرت میں کیوں ان کے پیرو کار نہیں بنتے؟ پھر یہ سب وقت اور پیسے کا ضیاع کس لئے؟ کیا  ہی اچھا ہوتا کہ ہمارے علمائے کرام اور خطیب حضرات آج کے مسائل پر، لوگوں کی مشکلات پر، لوگوں کے رویوں پر بات کریں اور اپنے کارکنوں، اپنے پیروکاروں اور عام لوگوں کے رویوں میں بہتری لائیں۔ ان کی سیرت سنواریں اور آج کے زمینی حقائق اور حالات کے تناظر میں لوگوں کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں۔

اس طرح معاشرے میں کچھ سکون اور اطمینان پیدا ہو سکے گا۔ اس کام کے کوئی دام بھی نہیں ہیں۔ بس سوچنے کی ضرورت ہے۔ عام گھروں میں ساس اور بہو اور نندیں اور بھاوجوں میں جو کھچاؤ کی کیفیت ہوتی ہے اور اسی طرح دوسرے کئی رشتوں میں بلاوجہ کے تنازعات ہوتے ہیں، ان سب سے اچھی سوچ اور مناسب رویوں سے نجات مل سکتی ہے۔ اگر لوگوں میں ایک دوسرے کی بات سننے سمجھنے اور برداشت کرنے کی عادت ڈالی جائے۔ اپنا موقف بہتر انداز سے پیش کرنے کی اور ضروری ہو تو اس میں نظر ثانی کی عادت ڈالی جائے۔ یوں بہت سے مسائل کا حل آسان ہو سکتا ہے۔ لیکن کیا ہمارے علماء کے پاس دور حاضر کے تناظر میں کوئی پیغام ہے۔ اگر نہیں تو ان کو دور حاضر کی ضرورت کے مطابق کچھ سیکھنا چائیے۔

میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ پاکستان اور دوسرے مسلم ممالک میں لوگوں کو اللہ سے ڈرا ڈرا کر اور دوزخ کا خوف یا جنت کی خوشخبری کے بارے میں بتا کر، جھوٹ اور برے کاموں سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن یورپ، کینیڈا، نیوزی لینڈ آسٹریلیا وغیرہ میں جہاں لوگ جھوٹ نہیں بولتے اور کسی کا حق نہیں مارتے،  کسی چیز میں ملاوٹ نہیں کرتے،  قتل و غارت نہیں کرتے،  بات بات پر لڑنے جھگڑنے پر نہیں اتر آتے، اپنا اپنا کام بغیر کسی رشوت یا سفارش کے پوری تندہی،  محنت اور دیانتداری سے کرتے ہیں ۔۔۔۔ ان کو کس کا ڈر ہوتا ہے۔ یا ان کو کس نبی کی سیرت کے متعلق پڑھایا جاتا ہے۔  ذرا سوچیں کہ غلطی کہاں ہے۔ ہم اپنے رویوں میں بہتری لائیں اور اپنے وطن کو خوبصورت بنائیں اور دنیا میں اپنا مقام اور امیج بہتر بنائیں۔ معاشرہ ہمارے رویوں سے ہی بنتا ہے۔ پیدا ہوتے وقتکوئی نہ برا ہوتا ہے اور اچھا۔