دہشت گردی کا عفریت

  • تحریر
  • جمعہ 16 / دسمبر / 2016
  • 4614

شام کا شہر حلب ، جسے انگریزی میڈیا الیپو کہتا ہے، بالآخر مسلسل بارود کی بارش اور گولیوں کی ترتڑاہٹ سے کرچی کرچی ہو کر شام کی حکومت کے قبضے میں آ گیا۔ چار سال سے زائد مسلسل جنگ اور تین لاکھ سے زائد ہلاکتوں کے بعد اس شہر میں کھنڈر اور کھنڈروں سے بھی زیادہ ٹوٹے ہوئے انسانوں کے دل دوز نظارے ہی بچے ہیں۔

ٹی وی فوٹیج میں تباہی، لا شوں اور فریادوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ شہر برباد ہوا، لوگ تباہ حال ہوگئے لیکن  اسی بربادی اور تباہ حالی پر دھڑلے سے سیاست ہو رہی ہے۔ باغی گروہوں کے سرپرست دہائی دے رہے ہیں کہ روس نے اندھا دھند مسلسل بمباری کی صورت وار کرائمز کیے او ر حکومت نے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دیں۔ شام اور روس اس واویلے کو پروپیگنڈا قرار دے کر اپنے فتح کا پھریرا لہرا رہے ہیں۔ ۔۔ کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ٹھہری۔

عراق کا شہر موصل بھی چاروں طرف سے گھیرے میں ہے۔ دس لاکھ سے زائد لوگ زندگی کے عذاب میں ہیں۔  کوئی دن جاتا ہے کہ موصل شہر بھی نڈھال ہو کر گر جائے گا۔ عراق اور شام کے علاوہ یمن اور لیبیا بھی مسلسل بارو د اور گولیوں میں بھن رہے ہیں۔ دہشت گردی کا گرداب ہے کہ اس نے مشرق وسطیٰ کے ان بھلے چنگے ملکوں کو برباد کرکے رکھ دیا ہے لیکن دہشت گردی کا عفریت ہے کہ اسے ابھی بھی چین نہیں۔ اسی ہفتے ہم نے تواتر سے کئی دیگر ممالک کی خبریں سنیں تو چکرا گئے۔ ترکی میں دو بم دھماکوں میں چالیس کے قریب افراد جان سے گئے۔ مصر میں چرچ پربم دھماکہ ہو ا تو دو درجن افراد ہلاک ہوئے، صومالیہ میں بھرے بازار میں دھماکہ ہوا تو درجن سے زائد افراد رزقِ خاک ہوئے۔ ان تمام واقعات کی بنیادی ذمہ داری دہشت گردی پر ڈالی گئی۔ مقتولین کے لواحقین بھی دہشت گردی کی دہائی دیتے ہیں اور قاتل کی زبان اور خنجر بھی مخالف فریق کی دہشت گردی کا نام لے کر ہمدردی کے طالب ہیں۔

دہشت گردی کے یہ مختلف رنگ ہیں۔ کہیں مذہبی، کہیں نسلی، کہیں سیاسی کہیں پرائی طاقتوں کی پراکسی وار۔ ہم پاکستان کے باسی دہشت گردی کے ان مختلف رنگوں کو بھگت چکے ہیں۔ بلکہ بہت دیر تک خاک و خون کا شکار ہونے کے باوجود یہ طے نہ کر سکے کہ دہشت گردی کی یہ جنگ اپنی ہے یا پرائی۔ دہشت گردی کی آگ کلیجوں تک پہنچی اور مرنے والوں میں معصوم ننھے پھول سینکڑوں کی تعداد میں قربان ہوئے تو اقرار کرتے ہی بنی کہ یہ جنگ ہماری ہی ہے اور اسے ہمیں ہی لڑنا اور جیتنا ہے۔ اس دوران اس جنگ کی تاریخ، اس کے کرداروں، فنڈنگ اور بیانیے سمیت مختلف پہلوؤں پر بہت کچھ کہا گیا۔ گذشتہ دو سال میں البتہ ریاست اور عوام کی اکثریت کا بیانیہ قدرے صاف ، واضح اور غیر مبہم ہونے لگا ہے۔ زمینی کوششوں نے اس بیانیے کو سہارا بھی دیا اور ریاست کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ ضرب عضب کی ملک گیر جنگ اور کراچی آپریشن نے بہت حد تک دہشت گردی کے عفریت کو قابو کر لیا ہے لیکن ابھی اس کی مکمل بیخ کنی کے لیے عسکری اور غیر عسکری لڑائی جاری رکھنا ہوگی۔ ابتدائی کامیابیوں کو دیرپا شکل دینے کے لیے انتظامی اور سیاسی اقدامات کے ایک مربوط سلسلے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

ان میں سے ایک انتظامی اور سیاسی ا قدام ایک ایسے ریاستی اور عوامی بیانیے کی تخلیق ہے جو اس کے تاریخی تناظر کا نباض بھی ہو اور اس کے دشوار راستے اور منزل کا نقیب بھی ہو۔ ایسیا بیانیہ جو غیر مبہم ہو، توانا اور قومی حمیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہو۔ ہمارے رفیق کا لم نگار اور دانش ور سلمان عابد نے اسی بیانیے کی تاریخ ، تشکیل اور اس کے فکری مطالعے پر ایک اہم کتاب تصنیف کی ہے۔ دہشت گردی : ایک فکری مطالعہ۔ سلمان عابد میڈیا کی متحرک شخصیت ہیں، متعدد ٹی وی ٹاک شوز اور کانفرنسوں میں اپنے تجزیوں کا برملا اظہار ان کا معمول ہے۔ اپنی اس نئی کتاب میں انہوں نے دہشت گردی کے مختلف پہلووں کا احاطہ کرتے ہوئے اس سے جڑے تمام موضوعات کو زیر بحث لانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ دہشت گردی کی جنگ کیا ہے اور کس کی ہے، دہشت گردی اور نوجوان، مدارس، سیاسی جماعتیں ، ادارے، ذرائع ابلاغ سمیت علاقائی اور عالمی سیاست جیسے عناصر پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اندازِ بیان میں لگی لپٹی رکھنے کی بجائے دلائل کے ساتھ صاف اور واضح نکتہ نظر اپنایا گیا ہے۔ قلم پر عبور اور درد مندی نے ان کے دلائل کو اس قدر جاندار بنا دیا ہے کہ سوچ کی کھڑکی کھولتے ہی بنتی ہے۔

پیش لفظ میں انہوں نے دہشت گردی کے مسئلے کو یوں سمیٹا کہ بات آنکھوں سے ہوتی دل میں اتر گئی۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بیانہ وجوہات جہاں خارجی ہوں گی، وہیں یہ مسئلہ داخلی سیاست اور ریاست کے بنیادی مسائل کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہ جو ہمیں معاشرے میں انتہا پسندی، طاقت، بندوق اور پر شدد مزاج و ذہنیت کا غلبہ نظر آتا ہے ، یہ کوئی اچانک پیدا نہیں ہوا۔ اس کی جڑیں ماضی کی بے رحم اور مفادات پر مبنی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ ہمارے ہاں دو مسائل  غالب رہے ۔ اول: ہم معاملات کو محض خارجی معاملہ سمجھ کر اپنی داخلی کمزوریوں کا اعتراف کرنے کو تیار نہیں تھے۔ دوم: ہم نے قومی مفادات اور قومی سلامتی کے معاملے کو ملکی مفاد کے حوالے سے دیکھنے کی بجائے اس کو اپنے اقتدار یا ذاتی یا وقتی مفاد کے تحت دیکھ کر حکمت عملی اختیار کرنے کی کوششیں کیں جو کارگر ثابت نہ ہو سکیں۔

ان کے اس ہمہ گیر نکتہ نظر کی تائید شمشاد احمد خان، سابق سیکریٹری خارجہ، نے اس کتاب کے فلیپ پر بھی کی کہ پاکستان انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جنگ سے نمٹ کر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کی ناکامی ریاست کی ناکامی ہوگی اور ہم اس ناکامی کا بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے۔ ہمیں ملامتوں کے درمیان پھنسنے کی بجائے اصل مسائل اور اس کے محرکات کر سمجھ کر ادراک کرنا ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے بھی دیباچے میں بجا نشاندہی کی کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی ایسے انفرادی اور اجتماعی رویے ہیں جن سے معاشرتی عمل کو اسلام، جمہوریت اور انسانیت کے تقاضوں کے مطابق چلانا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ نامورسیاسی تجزیہ نگار اور دانش ور فرخ سہیل گوئیندی ، جن کے ادارے جمہوری پبلشرز نے یہ کتاب چھاپی، نے بھی مقدمے میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آج پاکستان دہشت گردی کی جس لہر کا شکار ہے اس نے ریاست اور سماج کی چولیں ہلا دی ہیں۔ اب تو یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ یہ جنگ ہماری ہے کہ بیرونی طاقتوں کی لیکن ایک بات طے ہے کہ اس دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ ریاستِ پاکستان اور پاکستانی سماج ہے۔

ملک کے کئی نامور دانش وروں کی آراء کی شمولیت نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مسئلے اور انسداد کے کئی نئے پہلووں کو اجاگر کیا ہے۔ ایکسپریس کے ایڈیٹر ایڈیٹوریل لطیف چوہدری کی ایک تحریر کا حوالہ بھی بڑی با معنی اور پر اثر ہے کہ پاکستان میں سیاسی قیادت ہو یا ادارہ جاتی قیادت ، کسی نے ملک کو درست راستے پر چلانے کی کوشش نہیں کی۔ ملک میں انتہا پسندی کو فروغ دینے اور اسے مضبوط کرنے کے لیے ہر گروہ نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ اس میں دائیں اور بائیں بازو کی کوئی تفریق نہیں۔ خرابی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اگر ہم اسے خود نہ دور کر سکے تو کوئی دوسرا کرنے آ جائے گا۔ عراق، لیبیا اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

دہشت گردی : ایک فکری مطالعہ، کا حاصلِ مطالعہ کچھ یوں ہے۔ بقول سلمان عابد دہشت گردی کی اس جنگ سے نکلنے کے لیے ہم سب کو ایک دوسرے کی سیاسی طاقت بننا ہوگا۔ مسئلہ انتظامی طاقت سے حل نہیں ہوگا۔ اس جنگ کو سیاسی محاذ پر لڑنا ہو گا، لیکن کیا اس کے لیے ہم واقعی تیار ہو گئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو دہشت گردی کا علاج ممکن ہو گا۔ ورنہ محض سیاسی نعروں سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ ریاست اور معاشرے کو اور زیادہ خطرات سے دو چار کر دے گا۔ 2003- 2016 کے دران سا ٹھ ہزار سے زائد لوگ جان سے گئے، ملک کو اربوں ڈالرز کا معاشی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ حلب کی تباہی اور موصل سمیت دنیا میں جگہ جگہ دہشت گردی کے پے در پے واقعات ہمیں یہ باور کروانے کے لیے کافی ہونے چاہیئں کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ساتھ جینا بھی کوئی جینا ہے۔