روسی ایجنٹ ترکی میں سرگرم ہیں
جب سے طیب اردگان ترکی کے صدر منتخب ہوئے ہیں تب سے ہی ترکی آفتوں میں گھِرا ہؤا ہے۔ کبھی کرد گروپ کا خود کش حملہ تو کبھی داعش کا خوف۔ کبھی فوجی بغاوت تو کبھی اپوزیشن کی سازش۔ اور تو اور شام کی خانہ جنگی کی وجہ سے ترکی پر مسلسل جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اب تو امریکہ سمیت مغربی ممالک نے بھی ترکی سے دھیرے دھیرے دوریاں پیدا کرنا شروع کردی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک وجہ طیب اردگان کی اسلامی اقدار پر اصرار اور عوامی مقبولیت ہے۔
حال ہی میں بی بی سی نے ایک رپورٹ شائع کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ترکی میں ہونے والے قتل میں روسی ہٹ مین ملوث تھے۔ ترکی کے کئی علاقوں میں سابق سویت یونین کے ایسے لوگوں کا قتل ہوا ہے جس پر خدشہ ظاہرکیا جارہا ہے کہ اس کام کو انجام دینے میں بھی سابق سویت یونین کے ہٹ مین ہی تھے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ روس اور ترکی کے تعلقات میں شام کی جنگ کی وجہ سے کافی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ کشیدگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حال ہی میں ترکی نے روس کا ایک لڑاکا جہاز مار گرایا تھا۔
چیچنیا کے رہنے والا رسلن اسراپیلو کو اس بات کااندیشہ تھا کہ اس کو مارنے کے لئے روسی ہٹ مین ترکی میں آچکے ہیں۔ اس بات کا پتہ رسلن اسراپیلوکے اس پیغام سے ملا جو اس نے اپنے دوست کے فون پر چھوڑا تھا۔ اس پیغام میں رسلن اسراپیلو نے یہ بھی کہا تھا کہ دو لوگ سامنے والے پیڑ کے پاس چھپ کر اس پر نظر رکھ رہے ہیں۔ رسلن اسراپیلوچیچنیا کے ان لوگوں میں سے تھا جو اپنی جان بچانے کی خاطر ترکی کے چھوٹے سے شہر لیمٹیپ میں رہ رہا تھا۔ رسلن اسراپیلو نے اپنے پیغام میں اس بات پر بھی حیرانی ظاہر کی تھی کہ اگر لوگوں کو ان دو روسیوں پر شک ہے تو وہ ان کے بارے میں پولیس کو کیوں اطلاع نہیں دیتے۔
دو ہفتے بعد روسی رسلن اسراپیلوکو مارنے میں کامیاب ہوگئے ۔ روسی قاتلوں نے 46 سالہ رسلن اسراپیلو کو اس کے گھر کی چوکھٹ پر سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ رسلن اسراپیلوکی بیوی نے بتایا کہ ’ اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میرے شوہر کو گھر کی چوکھٹ پر مار دیا گیا ہے‘۔ فاطمہ اس وقت باورچی خانے میں کھانا بنا رہی تھی جب اس کے بیٹے نے چیخ کر فاطمہ کو پکارنا شروع کیا کہ: ’ اوہ میرے ڈیڈی!‘ فاطمہ نے بتایا کہ: ’رسلن اسراپیلوکو سر، گردن اور دل میں گولی ماری گئی تھی اور ان کا فوراً انتقال ہوگیا ۔ اب یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہی اس کا انصاف کرے گا‘۔
رسلن اسراپیلوایک سپاہی اور انقلابی نوجوان کی طرح نوے کی دہائی میں چیچنیا کی آزادی کے لئے روس کے خلاف جنگ لڑاتھا۔ اگرچہ روس نے ایسے نوجوانوں کو جو روس کے خلاف لڑ رہے تھے مار ڈالا اور ان میں ہی سے ایک لیڈر رمضان کدریو کو جمہوری چیچنیا کا سربراہ بنا دیا۔ ویسے فیس بُک کی تصویروں سے یہی پتہ چلتا ہے کہ رسلن اسراپیلوترکی میں بھی چیچنیا کی آزادی کی تحریک چلا رہا تھا۔ ایک تصویر میں رسلن اسراپیلو اپنا پاسپورٹ لے کر کھڑا ہے جس میں آزاد چیچنیا لکھا ہوا تھا۔ یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ آخر روسی قاتلوں نے رسلن اسراپیلوکو کیوں مارا تھا۔ لیکن اب تک ترکی میں ایسے بارہ قتل ہوچکے ہیں اور مارے جانے والے لوگوں کا تعلق چیچنیا، ازبکستان اور تازکستان سے ہے۔
اسی طرح سے ایک اور چیچنیا کے باشندے عبدل وحید ایدلگری کو اُس وقت مارڈالا گیا جب وہ اپنے بھانجی کے ساتھ استنبول کے بازار جارہا تھا۔ عبدل وحید ایدلگری کا حملہ آوروں نے پیچھا کیا اور اس کو زمین پر گرا کر گولی مار دی ۔ عبدل وحید ایدلگری بھی چیچنیا کی آزادی کا ایک سپاہی تھا اور کئی برسوں سے ترکی میں مقیم تھا۔ عبدل وحید ایدلگری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شام کی حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے کچھ دنوں کے لئے شام بھی گیا تھا جہاں زخمی ہوکر وہ ترکی واپس لوٹ آیا تھا۔
روسی صدر ولادمیر پوتن کا کہنا ہے کہ یہ لوگ کبھی مجھے نہیں مار سکتے خواہ وہ اس کے لئے جتنی بھی کوشش کریں۔ بلکہ ان کو ہم سے خوف زدہ رہنا چاہئے۔ روسی ایجنٹ اپنے کام کو انجام دینے میں کافی ماہر مانے جاتے ہیں۔ یہاں میں آپ کو دس سال قبل لندن میں روسی الیکزینڈار لیتی وینیکو کی موت کویاد دلاتا چلوں جب اسے روسی ایجنٹوں نے ریڈیو ایکٹیو مواد کے ذریعے مار ڈالا گیا تھا۔ اس واقعہ سے برطانیہ سمیت دنیا کی ماہر خفیہ ایجنسیوں کے ہوش اڑگئے تھے۔ تاہم اس واقعہ سے برطانیہ نے سیاسی فائدہ نہیں اٹھایا۔
2004 میں چیچنیا کے سابق صدر کو قطر میں اس وقت بم سے اڑا دیا گیا تھا جب وہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے ۔ قطری پولیس نے دو روسی ملٹری ایجنٹوں کو اس سلسلے میں گرفتار کیا تھا اور ان پر مقدمہ بھی چلایا گیا تھا۔ بعد میں ان دونوں روسی ایجنٹ کو سزا کاٹنے کے لئے روس بھیج دیا گیا تھا۔
پروفیسر مارک گیلوتی جنہوں نے بیس سال روسی خفیہ ایجنسی کا مطالعہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ روسی حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اپنی حفاظت کے لئے وہ بیرون ممالک میں دشمنوں کے خلاف اسی طرح سے حملہ کرے۔ اس کے علاوہ روسی حکومت اس بات پر بھی یقین رکھتی ہے کہ ان خطرناک لوگوں کو جان سے مار ڈالنا ہی ایک واحد حل ہے۔ بی بی سی رپورٹ اس بات سے بھی آگاہ کرتی ہے کہ ترکی پولیس نے زیادہ تر ہلاکتوں کا سراغ لگا لیا ہے۔ مارنے والوں سے ملنے والی دستا ویزات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ سارے لوگ روس سے ایک خاص مقصد کے لئےترکی آئے تھے ۔ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عبدل وحید ایدلگری جیسے سیکڑوں نوجوانوں کو روسی قاتل تلاش کر رہے ہیں۔ روس کی شبہ ہے کہ یہ لوگ روسی صدر ولادیمیر پیٹن پر حملہ کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روسی ہٹ مین ان نوجوانوں کو ڈھونڈ کر مار رہے ہیں۔
روسی ایجنٹ نے صرف چیچنیا کے لوگوں کا ہی خون نہیں کیا ہے بلکہ ازبکستان کے عالم عبداللہ بخاری کو بھی استنبول میں اس وقت مارا گیا جب وہ مدرسہ میں پڑھانے آرہے تھے۔ سی سی ٹی وی کو دیکھ کر اس بات کا پتہ چلا کہ عبداللہ بخاری نے مدرسہ پہنچ کر جب دروازہ پر دستک دی تو دروازہ بند تھا۔ انہوں نے دوبارہ کھٹکھٹایا اس کے فوراً بعد ایک آدمی عبداللہ بخاری کے قریب آکر ان کے سر پر گولی مار کر فرار ہوجاتا ہے۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق روسی ایجنٹ ب سابق سوویٹ یونین کے بہت سے لوگوں کو ان مقاصد کے لئے خطیر رقم ادا کرتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف سابق روسی شہری الیمن نے کیا جس نے یہ ساری بات ترکی پولیس کو بتائی ہے۔ ترک پولیس نے اس بات کا پتہ تب لگایا جب دو روسی ایجنٹ استنبول ایئرپورٹ پر اترے اور انہوں نے ایک سفید گاڑی کرایہ پر لی۔ جس سے ترکی پولیس کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ یہ دونوں روسی کس خاص مقصد کے لئے ترکی آئے تھے۔ اس سے پہلے بھی متعدد جرائم میں ایسی ہی گاڑیاں استعمال کی گئی تھیں۔
اگر دیکھا جائے تو زیادہ تر ممالک جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے، وہاں کےحکمران طاقت کی بنا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ عام طور سے یہ حکمران نکمّے ہیں جنہیں امریکہ اور مغربی ممالک اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ یہ حکمران ظالم بھی ہیں جس کی وجہ سے امریکہ اور مغربی مما لک ان ملکوں کے عوام ورغلا کر بغاوت یا خانہ جنگی پر آمادہ کرلیتے ہیں۔ ایسے میں سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ اصل قصوروار کون ہے۔ حکمران جو کسی نہ کسی طرح ملک پر حکومت کر رہے ہیں یا ایسے عناصر جو کسی نہ کسی وجہ سے امریکہ اور مغربی ممالک کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنتے ہیں۔
مسلم آبادی والے بیشتر ملکوں میں سوائے ہنگامہ اور بد نظمی ہے۔ امن وسکون نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔ کسی ملک میں خانہ جنگی نے معصوم عوام کا جینا دو بھر کر رکھا ہے تو کہیں بے ایمان حکمرانوں نے عوام کا گلا دبا رکھا ہے۔ نتیجہ مغربی ممالک کی دخل اندازی ااور ان ملکوں کے عوام کی خستہ حالی ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ میں روسی ایجنٹوں پر لوگوں کو نشانہ بنانے میں ملوث ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مغربی ممالک جس طرح روس کے خلاف پروپگنڈا کر رہے ہیں، اس سے عام آدمی اس قسم کی رپورٹوں سے اثر قبول کرے گا ۔ روس کا شام کے ساتھ اشتراک اور ترکی سے کشیدگی سے یہ بات حقیقت کے قریب لگتی ہے کہ روس اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ترکی میں لوگوں کو قتل کرواتا ہے۔