سانحہ کوئٹہ پر جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ

سال رواں میں آٹھ اگست کو کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ بار کے صدر پر حملے کے بعد سول ہسپتال میں خود کش حملہ ہوا تھا۔ جس میں بلوچستان کی وکلا برادری کی تمام سینئر قیادت سمیت 70افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس المناک سانحہ کی تحقیق کے لئے ایک رکنی جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا۔ کل اس کمیشن کی طرف سے110صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

رپورٹ میں اس حادثے کی وجوہات بیان کرنے کے علاوہ ریاستی پالیسی اور اداروں کی ناقص کارکردگی بھی بیان کی گئی ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر کمزور ریاستی پالیسی و حکومتی عمل درآمد میں غفلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے اختتام پر سفارشات بھی کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ انتہائی تشویشناک ، باعث فکر اور ناقابل یقین ہے۔ اس سے  واضع ہوتا ہے کہ حکومتی و ریاستی ادارے اندرونی طور کس قدر کھوکھلے ہو چکے ہیں۔ اس کا تمام تر فائدہ دہشت گرد تنظیموں نے اٹھایا اور بدترین حملے کرنے میں کامیاب ہوئے۔   کوئٹہ کا  سانحہ ان میں سے ایک ہے۔  کمیشن کی رپورٹ صوبائی و وفاقی حکومتوں کے تمام ان دعوؤں کی قلعی کھولتی ہے۔

اس رپورٹ کا ایک بڑا حصہ وزارت داخلہ کی کارکردگی کے متعلق ہے جس کا بار بارذکر ہوا ہے۔ یہی بات گزشتہ تین سالوں سے عوام ، میڈیا اور محب وطن حلقوں کی طرف سے کہی جا رہی تھی کہ وفاقی وزارت داخلہ اور وزیر دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام ہیں۔ اس سے بارے میں یہ شبہ بھی سامنے آتا رہا ہے کہ وزیر داخلہ بعض انتہا پسند گروہوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ کمیش کی اس انکوائری رپورٹ نے ان تمام خدشات اور وسوسوں کی تصدیق کردی ہے۔  رپورٹ میں حیرانی کا اظہار کیا گیا کہ جنداللہ تنظیم کی طرف سے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لینے کے باوجود اسے کالعدم نہیں قرار دیا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل کمیشن کی رپورٹ کے مطابق سانحہ کوئٹہ پر وفاقی اور صوبائی وزرائے داخلہ سمیت صوبائی وزیر اعلیٰ نے غلط بیانی کی تھی۔ کمیشن نے اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کو اس لحاظ سے مکمل ناکام قرار دیا کہ دونوں مل کر بھی بلوچستان میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ وفاقی وزارت داخلہ اور وفاقی وزیر داخلہ کی کارکردگی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وزارت داخلہ کو نہ تو قیادت میسر ہے اور نہ ہی اس کی کوئی راہ متعین ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کالعدم تنظیموں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کیں اور شناختی کارڈ کے معاملہ میں ان کے مطالبات تسلیم کئے۔ قانون کے مطابق کالعدم تنظیموں کے خلاف اب تک نہ توپابندیاں عائد کی گئیں اور نہ ہی نیکٹا ایکٹ پر عملدرآمد ہوا۔ وفاقی وزیر داخلہ کا احمد لدھیانوی کی تنظیم کے اسلام آباد میں جلسے کی اجازت دینا ملکی قوانین کی توہین ہے۔ رپورٹ میں اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ وفاقی محکمہ داخلہ تاحال کاؤنٹر ٹیررزم کی کوئی پالیسی نہیں بناسکا ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔

کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی ناقابل یقین انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ بار کے صدر اور ہسپتال پر حملے میں ایک ہی گروپ ملوث تھا۔  کمیشن کی اطلاع سے پہلے خودکش بمبار کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔ سیکورٹی اداروں نے جائے وقوعہ کو بھی محفوظ نہیں کیا تھا۔ ہسپتال غیر فعال تھا۔ نیشنل ایکشن پلان کے متعلق کمیشن نے جس طرح کی رپورٹ دی ہے اس کو پڑھ کر لگتا ہے کہ اب تک سب کچھ زبانی خرچ ہی ہوتا رہا ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان ایک بے معنی اور بے سمت پلان ہے جس کے مقاصد کی نگرانی کا نہ کوئی طریقہ کار ہے اور نہ ہی اس پر عمل درآمد ہوا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں نہ صرف جاری ہیں بلکہ ان کے سربراہان کے بیانات نشر و شائع ہو رہے ہیں۔ اداروں میں اقربا پروری کے بارے میں اپنے مشاہدے اور فیکٹ فائنڈنگ کا ذکر کرتے ہوئے کمیشن نے لکھا ہے کہ اقربا پروری کے باعث نااہل افراد بھرتی کئے گئے جس کی وجہ سے اداروں کی کارکردگی خراب ہوئی اور ایسے حادثے رونما ہوئے۔

کمیشن نے رپورٹ میں ان چار سیکرٹریوں کی مثال بھی دی ہے جس میں ایک صوبائی سیکرٹری صحت بھی شامل ہے جو ایک سابق لیفٹینٹ جنرل اور وفاقی وزیر کا بھائی ہے۔ کمیشن نے اپنی انکوائری رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ سیاستدانوں کی مداخلت کی وجہ سے اداروں میں ڈسپلن بالکل ختم ہو چکا ہے۔ ایف سی سول انتظامیہ کی کسی درخواست کا جواب نہیں دیتی۔ افسر شاہی وزیر داخلہ کی خوشامد پر لگی ہوئی ہے۔ مذہبی ہم آہنگی کے لئے وزارت مذہبی امور نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ اب تک مدارس کی رجسٹریشن اور ان کی مانیٹرنگ کا کوئی باقاعدہ طریقہ کار نہیں ہے۔ ساڑھے تین سال میں نیکٹا کے ایگزیکٹیو بورڈ کا ایک اجلاس ہوا لیکن اس کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ جوڈیشل کمیشن کی یہ رپورٹ پڑھتے پڑھتے دماغ میں آندھی سی چلنے لگی تھی کہ گزشتہ تین سال سے نیشنل ایکشن پلان کے نام پر جن جن کامیابیوں کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا، کیا وہ سب جھوٹ تھا ۔ یہ بات پوری دنیا کے لئے پریشانی اور حیرانی کا باعث تھی کہ کیوں دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی ۔

فیکٹ فائنڈنگ کے اصول اور طریق کار کے مطابق یہ ضروری ہوتا ہے کہ کسی بھی معاملہ میں جب کوئی کمیشن بنایا جاتا ہے تو وہ اس حادثے کی نہ صرف وجوہات تلاش کرتا ہے بلکہ حکومت وقت یا جملہ ادارہ کو اپنی رپورٹ میں سفارشات بھی پیش کرتا ہے تاکہ ان پر عمل درآمد کرکے مزید نئے سانحوں سے بچا جا سکے۔ جوڈیشل کمیشن نے اپنی انکوائری رپورٹ کے اختتام پر کچھ سفارشات بھی کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی اور نیکٹا ایکٹ پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، تمام کالعدم تنظیموں پر فوری پابندی لگائی جائے اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں۔  کمیشن نے اپنی سفارشات میں کالعدم تنظیموں بارے عوام کو آگاہی دینے، دہشت گردی میں ملوث اور مشکوک افراد کا ڈیٹا بنانے ، ایک جدید فرانزک لیبارٹری بنانے اور واضع مقاصد اور مکمل نگرانی کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کو نافذ کرنے کی سفارش کی ہے۔ سفارشات میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نفرت انگیز تقاریر، اور وال چاکنگ پر پابندی کو یقینی بنائے۔ تمام مدارس، ان کی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبا کے کوائف جمع کئے جائیں۔ مغربی سرحد پر موثر نگرانی کے ساتھ آنے اور جانے والوں کا ریکارڈ رکھا جائے۔  رپورٹ جاری ہونے سے قبل بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل نے رپورٹ کو خفیہ رکھنے اور جاری نہ کرنے کی استدعا کی تھی جس کو رد کردیا گیا۔

یہ انتہائی چونکا دینے والی رپورٹ  ہے، جس نے ملکی سیکورٹی سسٹم  کی  کمزوریوں اور خرابیوں کی نشاندہی کی ہے۔ انہیں دور کئے بغیر نہ تو عوام محفوظ رہ سکیں گے اور نہ ہی ادارے ۔ لہذا قومی مفاد میں کمیشن کی سفارشات پر فی الفور عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ جن خرابیوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان پر قابو پانے کے لئے موثر جامع پالیسی بنائی جائے تاکہ دہشت گردی سے نجات مل سکے۔