پاکستان پیپلز پارٹی، دوسری نسل کی قیادت
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 17 / دسمبر / 2016
- 5235
1977میں ذوالفقار علی بھٹوکے جیل میں جانے کے ساتھ ہی بیگم نصرت بھٹو نے بڑی جرأت سے پارٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا۔ اس دوران ذوالفقار علی بھٹو چاہتے تھے کہ پارٹی کی قیادت پیپلز پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کریں اور اگر وہ گرفتار ہوجاتے ہیں تو پھر پارٹی کے چیئرمین کی نامزدگی کا اختیار بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کے پاس ہے جس کو وہ چاہیں نامزد کردیں۔
ذوالفقار علی بھٹو پابند سلاسل ہوئے تو شیخ رشید مرحوم جانتے تھے کہ ان نامساعد حالات میں ایک ملٹی کلاس پارٹی آمریت کی چالبازیوں کا شکار ہو سکتی ہے اور وہ جاگیردار جو پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں ہیں، درپردہ جنرل ضیا کے ساتھ شامل ہو جائیں گے۔ یوں پارٹی قیادت بحران کا شکار ہو جائے گی۔ لہٰذا شیخ رشید مرحوم نے جیل جاکر ذوالفقار علی بھٹو کو قائل کیا کہ میری قیادت میں پارٹی کے جاگیر دار سازش کرکے پارٹی کی قیادت کو بحران کا شکار کریں گے، لہٰذا بہتر ہے کہ آپ کی عدم موجودگی میں یہ ذمہ داری بیگم نصرت بھٹو کو دے دی جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو بڑی مشکل سے اس تجویز پر قائل ہوئے اور یوں نچلے طبقے کے ایک قائد بابائے سوشلزم شیخ رشید نے پارٹی کو بکھرنے، ٹوٹنے اور مٹنے سے بچا لیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بیگم نصرت بھٹو کی قیادت میں ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی میں ہی بے مثال جدوجہد کا آغاز کیا اور جب اُن کو سولی پر چڑھا دیا گیا تو بیگم نصرت بھٹو نے پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں انمٹ کردار ادا کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے پارٹی قیادت بے نظیر بھٹو کو منتقل کرنے کے لیے عبوری Transitional کردار بھی ادا کیا۔ یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ اگر بیگم نصرت بھٹو پارٹی کی سیاسی جدوجہد کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کو قیادت Leadership کی منتقلی کا کردار ادا نہ کرتیں تو بے نظیر بھٹو جیسی جواں سال لڑکی اس ملک کی شاید ہی لیڈر بن پاتیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کو جسمانی طور پر مٹانے کے بعد جنرل ضیا اور اس کے حواری سیاست دان یہ سمجھتے تھے کہ بھٹوکو مٹا کر پیپلزپارٹی مٹ جائے گی۔ ان مشکل ایام میں پارٹی کے جاگیردار، جنرل ضیا کے ساتھ درپردہ رابطوں میں تھے، لیکن یہ تمام تر کریڈٹ ان چند ہزار سیاسی کارکنوں کو جاتا ہے جنہوں نے کالعدم اور جنرل ضیا کی جبریت کا شکار پیپلزپارٹی کو زندہ رکھنے کا آغاز کیا۔ انہوں نے ایک مردانہ تسلط والے Male Dominating سماج میں قیادت کا سہرا ایک نوجوان لڑکی (آنسہ بے نظیر بھٹو) کے سر باندھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو کے پابند سلاسل اور سولی چڑھائے جانے کے بعد ایک نئی پارٹی کو جنم دیا۔ یہ پارٹی آگ اور خون کے بطن سے جنم لینے لگی، یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس پارٹی کا جنم اس وقت سے زیادہ بے مثال ہے جس نے 1966-67 میں جنم لیا تھا۔ یہ پارٹی جابرترین آمریت کے دَور میں صرف نوجوان سیاسی کارکنوں کی جدوجہد کے سبب دوسری بار جنم لینے میں کامیا ب ہوئی۔ اس جدوجہد نے (1977-1988)کے دوران ایک نیا کیڈر بھی پیدا کیا اور بے نظیر بھٹو صاحبہ کو لیڈر منوانے میں پہلا اور حتمی کردار ادا کیا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا ایک آمرانہ اور مردانہ سماج میں لیڈرشپ کا کردار حاصل کرنا ایک معجزہ ہے جو صرف سیاسی کارکنوں کا مرہون منت ہے۔ یوں یہ پارٹی درمیانے اور نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والے کیڈر نے اپنی جانوں پر کھیل کر بچا لی۔ اس پارٹی کا بچ جانا اس کے مخالفوں کے لیے ایک گھناؤنا خواب ثابت ہوا اور تجزیہ نگاروں کے لیے باعث حیرت۔ اور جب 1986 میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جلاوطنی کاٹ کر وطن واپس لوٹیں تو پی پی پی کے کارکنوں نے ناممکن کو ممکن ثابت کرکے پاکستان میں جمہوری انقلاب کا پرچم سربلند کردیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو، لاہور آنے کے بعد پورے ملک میں عوامی رابطوں پر نکلیں تو یہ بات غلط ثابت ہوگئی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو مٹا دیا گیا ہے اور یہ کوشش بھی ناکام ہوگئی کہ ایک خاتون قیادت نہیں کرسکتی۔ اسی جدوجہد کے نتیجے میں محترمہ بے نظیر بھٹو ، مسلم دنیا کی پہلی منتخب وزیراعظم بھی بنیں۔ اس کا سہرا سراسر پارٹی کے اس کیڈر کو جاتا ہے جنہوں نے جولائی 1977 کے بعد اپنی پشتوں پر کوڑے کھائے اور عقوبت خانوں میں رونگٹے کھڑے کردینے والا عذاب دیکھا۔ پہلے یہ کارکن چند ہزار تھے اور پھر ان میں اضافہ ہوتا گیا۔ لیکن افسوس اس پارٹی نے جب اس جبر کے دور میں دوسرا جنم لیا تو یہیں سے اس پارٹی کے اندر جاگیردار اور روایتی حکمران طبقات نے گھسنا شروع کردیا۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ان کے لیے دروازے بڑی فراخ دلی سے کھول دئیے اور یوں جدوجہد والی پارٹی، مفاہمت کی پارٹی میں ڈھلنے لگی۔
اس کا آغاز محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی ملک آمد کے ساتھ ہی ہوگیا۔ اسی مفاہمتی حکمت عملی کے تحت ہی 1988 کی حکومت اور پھر 1993 میں حکومتیں بنیں۔ پارٹی کے اندر نظریاتی اور اصول پرست سیاست کی جگہ ’’اقتدارکی سیاست‘‘ کو تقویت دینے کے لیے اعلیٰ قیادت نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اور اس کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) ابھر آئی اور پی پی پی نے اپنے تئیں ہر کوشش کی کہ پی پی پی، مسلم لیگ (ن) کی طرح ہی اپنا رنگ جما کر اس کا مقابلہ کرے۔ اور مقابلے میں ’’اس جیسا‘‘ ہی ہوا جائے۔ دونوں مفاہمتی حکومتیں تمام تر کوششوں کے باوجود جہاں اپنی مدت پوری نہ کر پائیں، وہیں اہم نقصان پارٹی کے اندر کا بحران تھا۔ 1997 کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو خودساختہ جلاوطنی پر مجبور ہوئیں، لیکن پارٹی نے مفاہمت ختم یا کم کرنے کی بجائے مفاہمت تیز کرنے کا عمل جاری رکھا۔ اکتوبر 2007 کو وطن واپس لوٹیں تو ان کے ٹرک پر وہ قیادت ان کے اردگرد تھی جو 1986 کی مفاہمت کے سبب اپنا کردار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دسمبر 2007 کو شہید کردی گئیں اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے لے کرسیکنڈ لائن لیڈرشپ کے مفاہمتی لوگوں کے پاس جا چکی تھی اور پارٹی کا اہم ترین پُل (سیاسی کارکن) بکھر چکے تھے جو عوامی رابطے کا واحد ذریعہ تھے۔
بے نظیر کے قتل کے بعد مفاہمتی سیاست نے مزید عروج حاصل کیا اور اسی کے نتیجے میں حکومت بھی بنی اور پارٹی کا اپنا صدر بھی (آصف علی زرداری )۔ اس پارٹی میں اب اس قیادت کو طاقت حاصل تھی جس کی فصل 1986 میں بوئی گئی۔ حکومت اور پارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے اپنے اس منفرد اعزاز کو خوب بلند کیا کہ ہماری پارٹی کی حکومت نے پہلی مرتبہ اپنی ٹرم مکمل کی ہے۔ حالاں کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے 1972 سے 1977 تک اپنی حکومتی مدت مکمل کی تھی۔ اب کی بار پارٹی نے اپنی حکومتی مدت تو مکمل کرلی لیکن پارٹی اس دوران تمام ہوئی۔ پارٹی نظریے، جدوجہد اور مقبولیت سے نکل گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ پی پی پی جہاں اپنی نظریاتی ساکھ سے دور ہوئی، اسی کے ساتھ پارٹی بھٹو خاندان سے زرداری خاندان کو منتقل ہوگئی۔
(نوٹ: اگلا کالم پارٹی کی تیسری نسل کی قیادت ، یعنی بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے ہو گا۔)