ڈنمارک میں مسلمان

یورپی ممالک میں مسلمانوں کی اصل تعداد کتنی ہے۔ اس بارے میں کئی تخمینے لگائے جاتے ہیں اور کئی ملکوں میں مسلمانوں کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے انہیں مقامی آبادی کے لیے ایک ’’ ممکنہ خطرہ‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ صورتِ حال اِس کے بالکل برعکس ہے ۔ یورپی ملکوں میں مسلمانوں کی اصل تعداد  اُس سے کہیں کم ہے جو تعداد سیاستدان اور  مسلمان مخالف شدت پسند تحریکیں اور گروپس بتاتے ہیں ۔ ڈنمارک میں بھی یہی صورتِ حال ہے ۔ یہ بات چالیس  یورپی ملکوں میں مسلمانوں کی تعداد کے حوالے سے کیے گئے’’برطانوی رائے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ،  اپسوس موری ‘‘ کے  ایک جامع سروے میں بتائی گئی ہے ۔

اس سروے کے مطابق ڈینش سمجھتے ہیں کہ ڈنمارک  کی آبادی میں مسلمانوں کی شرح تناسب پندرہ فیصد ہے  جب کہ یہ حقیقت سے بہت دور ہے ۔  ڈینش آبادی میں مسلمانوں کی شرح تناسب چار فیصد سے قدرے زیادہ ہے۔ لیکن کوپن ہیگن یونیورسٹی سے منسلک ایسوسی ایٹ پروفیسر  برین ارلی  یاکوبسن کا اندازہ ہے کہ مسلمانوں کی شرح کم سے کم پانچ فیصد ہے یعنی ڈینش آبادی میں ہر بیسواں فرد مسلمان ہے ۔ ڈینشوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ملک میں حقیقتاً  پائے جانے والے مسلمانو ں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ مسلمان ہیں ۔

برین ارلی  یاکوبسن کے مطاب  امسال یکم جنوری تک مسلمانوں کی تعداد دو لاکھ  چوراسی ہزار کے قریب تھی  جب کہ  یکم جنوری سنہ  2015  تک یہی تعداد دو لاکھ تریسٹھ ہزار آٹھ سو تھی ۔ اُن کا کہنا ہے کہ اِس تعداد میں اضافے کی وجہ یہاں آنے والے شامی اور دوسرے مسلمان مہاجرین ہیں ۔ اپنے اِن  محتاط تخمینوں کے باوجود اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈنمارک میں مسلمانوں کی اصل تعداد کتنی ہے، اس بارے میں یقینی اور حتمی اعداد و شمار پیش کرنا  اگرچہ مشکل ہے لیکن اس بارے میں حقیقت کے قریب اور قابل قبول اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ ( ڈنمارک میں لوگوں کی مذہبی بنیادوں پر کسی قسم کی کوئی رجسٹریشن نہیں کی جاتی اور گرجا گھروں کے ہاں رجسٹرڈ اُن کے اپنے اپنے ارکان سے مسیحیت کے ماننے والوں کی تعداد معلوم کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس میں بھی اُن لوگوں کو شمار نہیں کیا جا سکتا جو چرچ سے الگ ہو جاتے ہیں یا کبھی کسی گرجا گھر کی رکنیت ہی اختیار نہیں کرتے )۔

ڈنمارک میں مسلمانوں کی تعداد کے حوالے سے اگرچہ میڈیا بھی مفروضے پھیلانے میں کم نہیں لیکن بلدیاتی، ریجنل اور پارلیمانی انتخابات کے موقع پر سیاست دانوں کی جانب سے اس موضوع پر بڑھا چڑھا کر دھواں دار بیانات دیے جاتے  ہیں۔ اُن کا ثر اگلے انتخابات تک نہ صرف قائم رہتا ہے بلکہ اس میں ’’ اسلاموفوبیا ‘‘ کو ہوا دینے والے مزید اضافہ کرتے رہتےہیں ۔ ڈینش محکمۂ شماریات تارکین وطن اور اُن کی اولادوں کی نسل سے متعلقہ معلومات محفوظ رکھتا ہے ۔ لہٰذا مسلمانوں کی تعداد جاننے کے لیے محکمۂ شماریات کے اعداد و شمار کو یوں بروئے کار لایا جا سکتا ہے کہ تارکین وطن کے ناموں اور اُن کی نسلی و قومیتی  اصلیت کو بنیاد بنا کر ان کی گنتی کر لی جائے ۔ ایک دوسرا طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ڈینش آبادی میں مسلمانوں کی دین پرستی کے حوالے سے مختلف محققین کی جانب سے کئے جانے والے سروے میں بتائے جانے والے اعداد و شمار کواحتیاط سے پرکھتے ہوئے انہیں یکجا کر لیا جائے۔ اسی طرح مختلف شہروں میں مسلمانوں کی تعداد کے متعلق  دوسرے ذرائع کی مہیا کردہ معلومات پر انحصار کر لیا جائے۔ اِس طریقے کے تحت یہ خیال رکھنا اہم ہے کہ جن غیر ملکیوں کو مسلمان سمجھا جا رہا ہے وہ کن ملکوں سے آئے ہیں۔ کیونکہ  ہم جانتے ہیں کہ اسلامی ملکوں سے آنے والے تارکین وطن اور مہاجرین زیادہ تر مسلمان ہی ہوتے ہیں، البتہ کچھ ملک ہیں جہاں سے غیر مسلم مثلاً عیسائی یا کسی دوسری اقلیتی مذہبی برادری کے لوگ بھی ہوتے ہیں ۔ اور مسلمانوں کی اصل تعداد جاننے کے لیے ان اسلامی ملکوں سے آنے والے مسلمان اور غیر مسلم تارکین وطن یا مہاجرین کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے ۔

سنہ 1999 اور سنہ 2009 کے درمیان کئے گئے ایک سروے کے مطابق،  ڈنمارک میں چوراسی فیصد عراقی تارکین وطن اور اُن کی اولادوں کا کہنا تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔ ذیل میں دیا گیا تخمینہ ڈنمارک میں مسلمانوں کی نسلی شناخت کی اساس پر استوار ہے ۔ اس میں تین ہزار چھ سو  وہ ڈینش اور دوسرے لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کر چکے ہیں۔  جب کہ مسلمان کی اولادوں کے  کم و بیش بارہ ہزار آٹھ سو بچے بھی شامل ہیں ۔ ڈینش محکمۂ شماریات کے پاس تارکین وطن ( مسلمانوں ) کے  ملکی آبادی میں پھیلاؤ، اُن کی عمروں، جنس اور کئی ایک دوسرے اہم امور کے متعلق بھی  معلومات  موجود ہیں۔

• مسلمانوں کی آبادی:
  یکم جنوری سنہ 2016 تک ڈنمارک میں مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ دو لاکھ  چوراسی ہزار لگایا گیا تھا  یعنی کل ملکی آبادی میں مسلمانوں کی شرح تناسب پانچ فیصد تھی  ۔ سنہ 2015 میں مسلمانوں کی یہ تعداد دو لاکھ تریسٹھ ہزار آٹھ سو تھی۔ بہ الفاظ دیگر کل ملکی آبادی میں ان کی شرح تناسب چار عشاریہ سات فیصد تھی لیکن شامی  مہاجرین کے ساتھ چند ایک دوسرے مسلمان ملکوں کے مہاجرین کی آمد کی  وجہ سے اس میں اضافہ  ہوا ہے۔

• نسلی / قومی پس منظر :
 یکم جنوری سنہ 2016 تک  ڈینش شہریت اختیار کرنے والے مسلمانوں کی  شرح  ستر عشاریہ نو فیصد تھی ۔ جب کہ اس سے پچھلے سال  جنوری 2015 تک ڈینش شہریت رکھنے والے مسلمانوں کی یہی شرح تہتر عشاریہ نو فیصد تھی ۔
• مسلمانوں میں بڑے بڑے  نسلی گروہ، تارکین وطن اور ان کی اولادوں کی درجہ بندی کے لحاظ سے، محکمۂ شماریات کی نظر میں :
• ترک: انیس عشاریہ نو فیصد
• عراقی: نو عشاریہ تین فیصد
• لبنانی: آٹھ عشاریہ سات فیصد
• شامی: آٹھ عشاریہ پانچ فیصد ( یکم جنوری سنہ 2015 میں ان کی یہ شرح چار عشاریہ آٹھ فیصد تھی)
• پاکستانی : آٹھ عشاریہ ایک فیصد
• صومالی : سات عشاریہ ایک فیصد
• افغانی : پانچ عشاریہ نو فیصد
• بوسنیئن : چار عشاریہ سات فیصد
• ایرانی: چار عشاریہ صفر فیصد
• مراکش : تین عشاریہ آٹھ فیصد
• متفرق: بیس عشاریہ دو فیصد

مسلمانوں کے گروپ:
سنہ 2009 میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق ڈنمارک میں نسلی اعتبار سے مسلمانوں کے سات بڑے گروپ تھے (پاکستانی،  عراقی، ایرانی ، ترک، صومالی اور سابق یوگوسلاویہ  سے تعلق رکھنے والے اور فلسطینی) ۔ دینی مسلکی بنیادوں  پر ان گروپوں کی ترتیب کچھ یوں بتائی گئی تھی،  پینتالیس فیصد سنی العقیدہ ( یعنی کل مسلمانوں کا ستاون فیصد) ۔ گیارہ فیصد شیعہ ( کل مسلمانوں کا  چودہ فیصد )  اور 23 فیصد دیگر اسلامی مسالک سے تعلق رکھنے والے تھے ۔ ( کل مسلمانوں میں ان کی شرح انتیس فیصد تھی) ۔
احمدی جو خود کو مسلمان قرار دیتے ہیں اور جنہیں پاکستان میں آئین مملکت کے تحت ’’ خارج از اسلام ‘‘ قرار دیا جا چکا ہے ڈینش محکمۂ شماریات کے مطابق، ڈینش مسلمانوں میں ان کی شرح  صفر عشاریہ چار فیصد ہے جب کہ اسی طرح کل مسلمانوں میں علویوں کی شرح تناسب دو عشاریہ پانچ فیصد ہے۔ لیکن ’’صوفیہ مسلک‘‘ سے تعلق رکھنے والے خود کو اسلام کے کسی بھی بڑے مسلک سے جوڑنے کی خواہش نہیں رکھتے ۔

جغرافیائی پھیلاؤ:
ڈنمارک میں اکیس عشاریہ آٹھ فیصد مسلمان دارالحکومت کوپن ہیگن اور اس کی نواحی بلدیہ فریڈرکسبرگ میں رہتے ہیں۔ جو کہ ڈنمارک میں مسلمانوں کی کل آبادی کا آٹھ عشاریہ نو فیصد حصہ بنتا ہے ۔ (مسلمانوں کی کل تعداد کا کم و بیش نصف حصہ  ’’ گریٹر کوپن ہیگن ‘‘ میں رہتا ہے ) اور اسی طرح کل مسلمانوں میں سے آٹھ عشاریہ نو فیصد صوبہ جُٹ لینڈ کے بڑے شہر آرھُس میں رہتے ہیں ۔ جو مقامی ڈینش آبادی  کا سات عشارہ سات فیصد بنتے ہیں ۔  صوبہ فیون کے صدر مقام اُڈنسے میں ان کی شرح پانچ عشاریہ تین فیصد ہے  جو وہاں کی ڈینش شہری آبادی میں سات عشاریہ چھ فیصد کے برابر ہے ۔ دوسرے مسلمان ڈنمارک میں اِدھر اُدھر بڑے بڑے شہروں  اور قصبوں میں رہتے ہیں ۔

مساجد:
ڈنمارک میں سب سے پہلی اور پرانی ’’ مسجد نصرت جہاں ‘‘  احمدی برادری کی عبادت گاہ ہے ۔  اِس برادری کی اب دو عبادت گاہیں ہیں ۔
ملک بھر میں مسلمانوں کی  کم و بیش ایک سو پنتالیس مساجد پائی جاتی ہیں جو زیادہ تر سنی العقیدہ مسلمانوں کی ہیں  ۔ ان میں شیعہ مسلمانوں کی ’’ امام علی مسجد ‘‘ بہت مشہور ہے جو کوپن ہیگن میں ہے ۔ شیعہ مسلمانوں کی کل نو مساجد ہیں ۔  علوی مسلمانوں کی آٹھ  مساجد ہیں جہاں   وہ عبادت کرتے ہیں  اور جنہیں وہ اپنے تنظیمی  اجلاس اور دیگر سماجی و ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے بھی  استعمال کرتے ہیں ۔

(نصر ملک، ڈنمارک سے شائع ہونے والے آن لائن اخبار اُردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ، کے مدیر اعلیٰ ہیں)