آہ میرا بچہ
- تحریر محمود شفیع بھٹی
- اتوار 18 / دسمبر / 2016
- 12197
دسمبر 2014 صبح پانچ بجے ریٹائرڈ صوبیدار بارک اللہ اٹھتا ہے۔ وضو کرتاہے اور مسجد کی جانب چل پڑتا ہے۔ فجر کی نماز اداکرتا ہے اور دعا مانگتا ہے" اے رب کریم! سقوط ڈھاکہ میں شہید ہونے والوں کے درجات بلند فرما اور ان کو جنت میں اعلی مقام عطاء فرما"۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد صوبیدار بارک اللہ اپنے گھر کی جانب لوٹ آتا ہے۔ صبح کے سات بج چکے ہیں۔
صوبیدار صاحب ٹی۔ وی لاؤنج میں داخل ہوتے ہیں اور ٹی۔ وی آن کرتے ہیں۔ خبریں شروع ہوچکی ہوتی ہیں۔ سقوط ڈھاکہ کے بارے میں سپیشل رپورٹ دکھائی جارہی ہے۔ جس میں محب وطن بنگالی پاکستانیوں کا کردار اور بھارت کی دخل اندازی پر روشنی ڈالی جارہی تھی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا جارہا تھا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی پر بغاوت کے دو ماہ بعد تک پاکستان کا پرچم لہرانے والے جماعت کے ورکرز کو آج کی سرکار پھانسیاں دے رہی ہے اور ہماری حکومت وقت خاموش ہے۔
نشریات دیکھ تے ہوئے یکایک اصوبیدار کے منہ سے آواز بلند ہوتی ہے" آہ میرا ڈھاکہ" ۔ آواز اتنی بلند تھی کہ ساری فیملی اٹھ کر ان پاس آجاتی ہے کہ کہیں ان کو کچھ ہوا تو نہیں۔
بہو رانی: بابا جان کیا ہوا؟
بارک اللہ: کچھ نہیں بنّو ! بس ماضی یاد آگیا۔ اکہتر کی وہ جنگ اور ہماری اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کی نابالغانہ روش، آہ میرا ڈھاکہ توڑ کر ، مجھ سے جدا کردیا۔
سرمد: ( صوبیدار کا بڑا بیٹا) بابا جان چھوڑیں، بنگالی غدار تھے، ہیں اور رہیں گے!
بارک اللہ: نہیں، نہیں ! یہ کس نے کہا؟ کیا رمیض الدین کی کتاب تو نے نہیں پڑھی؟ جس میں وہ ایوبی دور میں پورٹ اینڈ شپنگ کے وزیر تھے اور ہماری بیورکریسی خود سقوط ڈھاکہ چاہتی تھی۔
اتنے میں صوبیدار بارک اللہ کا نو سال کا پوتا حنان سرمد آتا ہے اور کہتا ہے۔۔۔
بڑے بابا میں نے سکول جانا ہے۔ آپ ممی کو بھیج دو۔
بارک اللہ: جاؤ بیٹا حنان کو تیار کرو اور میرے لئے چائے بنا لاؤ۔
بہو رانی اچھا بابا جان! لاتی ہوں اور یہ کہہ کر چلی جاتی ہے۔
صوبیدار صاحب چینل بدل دیتے ہیں۔ کوئی اور پروگرام دیکھنے لگتے ہیں۔ بہو رانی حنان کو تیار کرتی ہے، ناشتہ ٹفن میں بند کرتی ہے۔ سکول بیگ پہناتی ہے اور پھر حنان دادا جان کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے" بڑے بابا جان! میں سکول جارہا ہوں، میری پاکٹ منی کہاں ہے؟" صوبیدار صاحب حنان کو پچاس روپے تھما دیتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں" میرا بیٹا بڑا ہوکر آرمی آفیسر بنے" ۔ جاؤ اور دل لگا کر پڑھو، ساتھ ہی حنان کا بوسه لیتے ہیں۔ حنان کا والد اس کو سکول چھوڑنے چلا جاتا ہے۔
ساڑھے نو بج چکے ہیں۔ سرمد بھی واپس آچکا ہے۔ بہو رانی صوبیدار صاحب کو کہتی ہے: " بابا جان ناشتہ تیار ہے، آجائیں۔ " صوبیدار صاحب اٹھتے ہیں اور ناشتے کی میز پر آجاتے ہیں۔ سرمد بھی آجاتا ہے۔ رسمی گفتگو ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ ناشتہ بھی کرتے ہیں۔ دس بج جاتے ہیں۔ صوبیدار صاحب بازار چلے جاتے ہیں۔ سرمد دفتر روانہ ہوجاتا ہے۔ صوبیدار صاحب بازار سے چند اشیائے خوردونوش خرید کے گھر آتے ہیں اور بہو رانی سے ایک کپ چائے کا کہتے ہیں۔ ٹی۔ وی آن کرتے ہیں، گیارہ بجے کا نیوز بلیٹن۔ بریکنگ نیوز کا ٹکر چل رہا ہے" آرمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کا حملہ" ذرائع کا دعوی۔
یہ الفاظ کانوں میں پڑتے ہی ایک دم ریموٹ ان کے ہاتھ سے گر گیا۔ جسم پر کپکپی طاری ہوگئی۔ ہونٹ ہلانے کی کوشش کے باوجود نہیں ہل رہے وجود ساکت تھا۔ بہو رانی چائے لے کر آتی ہے اور صوبیدار کی حالت دیکھ کر چونک جاتی ہے۔ جلدی سے پانی لاکر پلاتی ہے اور معلوم کرتی ہے آخر ہوا کیا ہے؟ اتنے میں صوبیدار صاحب چینل بدلنے کا کہتے ہیں۔ ہرچینل پر یہی خبر چل رہی ہے" صوبیدار صاحب کی زبان سے یہ الفاظ جاری ہوتے ہیں" ہاۓ میرا آرمی پبلک سکول"۔
بہورانی جلدی سے سرمد کو فون لگاتی ہے، سرمد پریشانی کے عالم میں بابا جان کے ساتھ سکولکی طرف بھاگتا ہے۔ ۔ صوبیدار بوکھلایا ہؤا ہے۔ وہاں جا کر معلوم ہوتا ہے کہ آپریشن جاری ہے، انتظار کریں۔ مائیں بلک بلک کر روئے جارہی ہیں اور صوبیدار ایک جانب ساکت کھڑا ہے۔ دل ہی دل میں حنان کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہا ہے۔
آپریشن مکمل ہوجاتا ہے۔ فورسز سکول کو کلئیر کردیتی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ افسوس ناک خبر آتی ہے کہ سات دہشت گردوں کو ملاکر کل ایک سو اڑتالیس افراد جان دے گئے۔ جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔ یہ خبر آتے ہی پشاور میں کربلا کا سماں طاری ہوجاتا ہے۔ والدین زارو قطار رورہے تھے۔ شہید ہونے والے بچوں کی شناخت ہورہی تھی کہ اچانک خبر آتی ہے ،" حنان سرمد" بھی دہشت گردوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ شہید ہوچکا ہے۔ یہ خبر جب صوبیدا بارک اللہ اور سرمد کو معلوم ہوتی ہے، وہ تڑپ کررہ جاتے ہیں۔ صوبیدار اپنا سر پیٹ رہا ہوتا ہے۔ سرمد ماتمی کیفیت میں ہے اور حنان کی والدہ کی حالت غیر ہوجاتی ہے۔ خدا سے سوال و جواب کیا جارہا ہے۔ صوبیدار صاحب اپنی داڑھی کے بالوں کو نوچنے لگتا ہے، سر کو پیٹتا ہے اور بار بار یہی فقرہ دہراتا ہے ہائے میرا بچہ ۔۔۔ میرا بچہ ۔۔۔
( یہ پاکستان کو پیش آنے والے سانحات کے تناظر میں تاثر نامہ ہے جس کے کردار حقیقی نہیں ہیں۔)