جنید جمشید: اللہ جسے چاہے عزت دے
- تحریر تنزیلہ یوسف
- اتوار 18 / دسمبر / 2016
- 7825
زندگی کے رنگ ڈھنگ بھی بڑے عجیب ہیں۔ کبھی کبھی وہ بھی اپنے لگنے لگتے ہیں جن سے آپ کبھی نہ ملے ہوں، کبھی دیکھا تک نہ ہو، اور اگر دیکھ بھی رکھا ہو تو گھر میں رکھی 24 انچ کی ٹی وی سکرین پر ہی۔ مگر تعلق ایسا کہ جس کی مثال نہ دی جا سکے۔
آج جنید اپنی قبر میں منوں مٹی تلے جا سویا ہے۔ مگر شاید نہیں وہ اب بھی جاگ رہا ہے۔ آنکھوں میں حیرت لئے، مسکراتے چہرے کے ساتھ جیسے کہہ رہا ہو کہ دیکھو میری زندگی میں جو نہ ہوسکا میرے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ہوگیا۔ اتنا منظم جم غفیر، جانے کہاں کہاں سے لوگ آئے تھے۔ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ برستی آنکھوں کے ساتھ نماز ادا کرتے اور اس کوشش میں کہ آگے بڑھیں اور اس عظیم انسان کے جنازے کو کاندھا دےسکیں، جس نے شہرت کے بام عروج پر اللہ کی رضا کی خاطر سب کچھ چھوڑ دیا۔ وہ سب کچھ ہر دنیا دار انسان جس کی تمنا کرتا ہے۔ مگر دیکھو اسی پروردگار نے شہرت کو اس کے در کی باندی بنا دیا۔ پھر بھی اللہ کے نیک بندے نے عاجزی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر اس کی بھی معافی مانگی کہ جو جرم اس نے کیے ہی نہ تھے۔
گانے گاتا تھا تو مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس کا گایا کوئی گانا بے ہودگی لئے ہوتا تھا۔ نرم میٹھے بول، روح میں اتر جانے والی شاعری....... پھر جب گانا چھوڑا تو اللہ اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں حمد و ثنا اور نعت گوئی میں دل کی کیفیت بیان کرنے لگا۔ میرے جیسی کتنی ہی ہیں جو نوے کی دہائی میں اس کے گانوں پر سر دھنتی تھیں اور بعد میں اس کی نعتیں، دعائیں سن کر اس کو روتا دیکھ کر خود بھی روتی تھیں اور آج بھی رو رہی ہیں۔
مگر جانے کیوں جسے اللہ عزت اور نام عطا کرتا ہے، لوگ اس کے مخالف کیوں ہو جاتے ہیں۔
آج بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس کے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی اپنی گندی ذہنیت کے مطابق اس کے بارے میں مغلظات بک رہے ہیں۔
پہلے اگر کوئی دنیا سے رخصت ہوتا تو اس کے بارے میں منہ سے برے کلمات نکالنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ کہ مرنے والا ہم سے آکر تو وضاحت طلب نہیں کرے گا، نہ ہی کسی بات کا جواب دے سکتا ہے۔ یہ کوشش ہوتی تھی کہ مرنے والے کے بارے میں اچھی بات ہی کی جائے۔ اب کتنی آسانی سے کسی کے بھی بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرلی جاتی ہے۔ کسی بھی طرح کے فقرے بول دیئے جاتے ہیں کہ سن کر دل ہول اٹھتا ہے۔
آج بھی سوشل میڈیا پر بہت سے نام نہاد دانش ور اپنی دانش وری کے جوہر دکھانے میں سرگرم ہیں۔ تاکہ کسی طرح اللہ کے اس نیک بندے کو بدنام کرسکیں۔ مگر کیا ہے کہ اللہ جسے عزت دینا چاہے اسے ساری دنیا کے لوگ بھی مل کر بدنام نہیں کرسکتے۔ اللہ پاک ایسی عزت اتنی عاجزی ہر مسلمان کا مقدر کرے۔ آمین۔