لاہور سے اوسلو تک ۔۔۔ ادب اور ادیبوں کا قصہ

  • تحریر
  • اتوار 18 / دسمبر / 2016
  • 5224

اپنے نہایت ہی قابل احترام دوست سعید انجم کے انتقال کے اگلے روز میں فیورست لائبریری گیا۔ کتابوں کے شیلف میں جیسے ہی ان کی کتاب پر میری نظر پڑی تو میرے منہ سے بے ساختہ نکلا ’’سعید انجم آپ مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں‘‘۔

سعید انجم ناروے میں اردو ادب کے آغاز کا اہم حصہ تھے۔ انسان اپنی طبعی زندگی پورا ہونے کے بعد دوسروں کی نظروں سے اوجھل تو ہو جاتا ہے لیکن وہ ان کے دلوں اور دماغوں میں اپنی کاوشوں اور خدمات کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے ایک یاد بن کر سما جاتا ہے۔ ذاتی طور پر تو اوسلو کے ادبی حلقوں میں میرا عمل دخل کبھی نہیں رہا لیکن ذہنی طور پر میں نے خود کو ان حلقوں سے دور نہیں پایا۔ میرے دل میں ہمیشہ سے ہی ان حلقوں میں بیٹھ کر ان لوگوں سے سیکھنے کی تمنا رہی۔ میرے نزدیک تخلیقی کردار کسی بھی معاشرہ کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہ حساس دل اور دماغ رکھنے والے تخلیقی صفات کے حامل وہ افراد ہیں جو معاشرہ میں ایک خوشگوار علمی، فکری اور تربیتی ماحول پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

لاہور سے تعلق ہونے کے ناطے مجھے پاکستان کے نامور اور شہرہ آفاق شعرا اور ادیبوں کو قریب سے دیکھنے اور ان کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ ان دنوں مال روڈ پر واقع پاک ٹی ہاؤس اور چائنیز لنچ ہوم ایسے ریسٹورنٹس تھے جہاں آغا شورش کاشمیری، حبیب جالب، عطا الحق قاسمی، شریف کنجاہی، انتظار حسین، احمد ندیم قاسمی، منیر نیازی اور دیگر شعرا و ادیب ہر شام حالات حاضرہ پر تبصرہ کرنے کے لئے  اکٹھے ہوتے۔  اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اپنے انداز  میں  اپنے دلوں کی بھڑاس نکالتے۔ آغا شورش کاشمیری جب سنجیدہ ماحول میں گفتگو کرتے تو ان کے علم کی وسعت، شعلہ بیانی، الفاظ کا چناؤ اور ادائیگی و روانی قابل دید ہوتی۔ لیکن غیر رسمی گفتگو میں وہ بے تکلف اور عام فرد کی طرح ہی ہوتے تھے۔  ادیبیوں کی باہم لڑائیاں بھی ہوتیں اور وہ ایک دوسرے پر الزام تراشی بھی کرتے ۔ ان واقعات کے بارے میں کتابوں اور رسالوں میں بہت مواد میسر ہے۔

ان دنوں حبیب جالب کی عوامی شاعری کا چاروں جانب طوطی بولتا تھا۔ اپنی اس شاعری کی وجہ سے وہ اکثر پابند سلاسل بھی رہتے۔   ایک مرتبہ جب ہمارے قریب سے گزرے تو میرے دوست حافظ نے کہا:  دیکھو احسان جالب صاحب آج کل باہر ہیں۔ انہوں نے ہماری یہ بات سنی، ایک لمحے کے لئے رکے اور ناگواری کے تاثرات چہرے پر لاتے ہوئے روانہ ہو گئے۔ حبیب جالب کا ایک عجیب اور منفرد فقیرانہ انداز تھا۔ لٹھے یا کھدر کا سفید پاجامہ، کرتہ اور قینچی چپل پہنے وہ نہایت شان بے نیازی سے دنیا سے داد وصول کرتےتھے۔ صدر ایوب خان کے  ‘بہادروں‘ نے جب لاہور میں طلبا کے جلوس کو منتشر کرنے کے لئے گولیاں چلائیں اور بعد ازاں محترمہ فاطمہ جناح انتخابات میں ایوب خان کے مدمقابل آئیں تو حبیب جالب نے اپنی مشہور زمانہ نظم ’’ماں‘‘ لکھی:

بچوں پہ چلی گولی
یہ دیکھ کر ماں بولی
یہ دل کے میری ٹکڑے
یوں روئیں میرے ہوتے
میں دور کھڑی دیکھوں
یہ مجھ سے نہیں ہو گا
یہ مجھ سے نہیں ہو گا

اور پھر ماں ہار گئی اور بوٹ جیت گئے۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے چغدوں نے بوٹوں اور وردی پر صدقے واری ہوتے ہوئے پاکستان کی مقدس دھرتی پر ‘جمہوریت‘ کی نئی روایات کو جنم دیا۔

میں 1981 میں ناروے آ گیا۔ کہاں لاہور کی رنگارنگ اور شوروغل سے بھری زندگی اور کہاں گہرا سکوت لئے ہوئے  ماحول۔ یہاں نہ کوئی جاننے والا تھا اور نہ پہچاننے والا۔ ہم تھے ہمارا اسٹوڈنٹ ٹاؤن تھا اور یا پھر Blindern یونیورسٹی۔ ہمیں باہر کی دنیا کا کچھ علم نہیں تھا۔ ایک دن اچانک کرنگشو Kningsja کے ایک ہال میں مختار مسعود سے ملاقات ہو گئی اور وہیں پر  صوفی محمد انور سے بھی شرف بازیابی حاصل ہوا۔  مختار مسعود ان دنوں صوفی صاحب کے مہمان تھے اور ان کی کتاب ’’آواز دوست‘‘ کا بہت چرچا تھا۔ بعد ازاں کبھی کبھار اوسلو کے سینٹرم میں واقع ’’جناح ہال‘‘ میں صوفی صاحب کی نظامت میں منعقد ہونے والی ادبی محافل میں جانے کا موقع ملا۔ ایک طرف کونے میں بیٹھ کر اوسلو کے دانشوروں اور صاحب علم کی باتیں سن کر اپنی تشنگی دور کرتے۔ میں صوفی انور کا بہت معتقد ہوں جنہوں نے ہر قسم کے حالات میں اپنی شمع روشن رکھی اور ابھی تک کئے ہوئے ہیں۔

اس دور میں این آر کے اردو سروس پر انیس احمد، سید مجاہد علی، محمد اشرف ، عطا انصاری ، حیدر حسین ، رخشندہ رباب اور راحیلہ کوکب نے ایک سماں باندھ رکھا تھا۔ ہفتہ وار پروگرام کے ختم ہونے کے فوراً بعد اگلے ہفتے کے پروگرام کا انتظار شروع ہو جاتا۔ میں خالد تھتھال کی پنجابی شاعری میں نہ سمجھ آنے والے پنجابی الفاظ کے باوجود ان کا آئندہ کلام سننے کا منتظر رہتا۔ انیس احمد کا اپنے مخصوص انداز سے اردو الفاظ کا چناؤ اور  ادائیگی اور کبھی کبھار قلیل وقت میں بہت اچھے ادبی شاہ پاروں کا بیان،  ناروے کی ادبی روایات کے آغاز میں  نہایت قابل قدر خدمات ہیں۔ انیس اس حوالے سے قابل تحسین و آفرین ہیں۔

اس موقع پر اپنے قابل قدر دوست فیصل نواز چوہدری کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہو گا۔ انہوں نے ادبی سنگت کے زیر اہتمام اردو ادب کے علاوہ نارویجن زبا ن میں شاعری کے فروغ کے لئے بھی جو کام کیا اس کا ایک علیحدہ مقام ہے۔موجودہ وقت میں ’’دریچہ‘‘ کے پلیٹ فارم پر مقامی اور دیگر ملکوں سے آنے والے شعراء کرام کی میزبانی ، ادیبوں کی کتب کی رونمائی اور حلقہ ارباب ذوق کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ادبی سرگرمیاں شہر کے لوگوں کی ادبی بھوک کو کم کرنے کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔

جب اوسلو کی تاریخ مرتب کی جائے گی تو اس میں سید مجاہد علی کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ میں نے جب سے (اوسلو میں) آنکھیں کھولی ہیں ان کو کبھی عالمی مشاعروں کے انعقاد اور کبھی مجلہ کاروان اور پنجابی مجلہ کی اشاعت کرتے پایا۔ اب آپ کے اردو ادب و زبان کے ساتھ محبت کے عزم نے کاروان آن لائن پر جنون کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس کے ذریعے قارئین روزانہ آپ کے خیالات گلوبل، پاکستان اور مقامی سیاست کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ 

علاوہ ازیں قارئین کاروان کے ذریعے  بڑے لکھنے والوں مثلاً مسعود منور کا بطیحا اور ارشد بٹ کے سیاسی  تبصرے کالم اور مضامین کی صورت میں  پڑھ سکتے ہیں۔ سید مجاہد علی  ایک ایسی بے لوث، محنتی اور اخلاص سے بھرپور ہستی کا نام ہے جنہوں نے میرے نزدیک صحافت کو عبادت کا درجہ دے رکھا ہے۔ جی تو چاہتا ہے کہ لکھنے کا فن نہ جانتے ہوئے بھی لکھتا چلا جاؤں لیکن شاہ صاحب نے 5-3 منٹ کا وقت دیا ہے اور تہذیب کا تقاضا یہی ہے کہ میں اس کا احترام کروں۔ لہٰذا اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ (میرے یہ الفاظ) ناروے میں اردو ادب کا آغاز کرنے والوں سے لے کر اس کو جاری رکھنے اور آگے بڑھانے والوں کے بارے میں میرے جذبات کی مکمل طور پر ترجمانی نہیں کر سکتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بہت بڑا کام کیا اور کر رہے ہیں۔ اس خدمت کاا حق الفاظ کے ذریعے ادا نہیں کیا جا سکتا۔ میں ان لوگوں کی ثابت قدمی، استقامت اور اخلاص کے لئے دلی طور پر دعاگو ہوں اور صرف یہی کہہ سکتا ہوں ’’جزا من اللہ‘‘ خوش رہئے اور اپنے مشن کو جاری رکھتے ہوئے انسان اور انسانیت کی خدمت کرتے جایئے۔

(یہ مضمون کینیڈا سے آئے ہوئے اردو کے ممتاز شاعر اشفاق حسین کی اوسلو اآمد کے موقع پر منعقدہ ایک نشست میں پڑھا گیا)