ایشیا کا دل ۔۔۔ پاکستان
- تحریر سید شاہد عباس
- سوموار 19 / دسمبر / 2016
- 5615
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس امرتسر میں افغانستان کی بحالی و تعمیر نو کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان کو کس طرح اقوام عالم میں دوبارہ سے ایک ترقی پذیر ملک کی طرح کھڑا کیا جائے۔ اور اس سلسلے میں خطے کے تمام ممالک مل کر کام کریں۔
مگر اندریں حالات یہ کانفرنس کسی بھی طرح سے افغانستان کی تعمیر نو یا اس تباہ حال ملک کی ترقی کے لیے نہیں تھی بلکہ اس کا مکمل طور پر مدعا یہی تھا کہ خطے میں بھارتی بالا دستی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اور دنیا کو دکھایا جائے کہ اس خطے میں چوہدراہٹ کا حقدار نہ صرف بھارت ہے۔ بلکہ باقی ممالک بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بھارت کے ارادے چین ، ایران، پاکستان اور دیگر ممالک کے مضبوط موقف کی وجہ سے کبھی پایہ تکمیل تک پہنچتے نظر نہیں آتے۔
ہارٹ آف ایشیا میں پاکستان کی شرکت آخر وقت تک مشکوک رہی اور قیاس تھا کہ شاید پاکستان شرکت نہ کرے۔ پھر نہ جانے کن حالات کی وجہ سے شرکت کا فیصلہ کیا گیا۔ مگر بھارت نے جس طرح عالمی سفارتی آداب کی خلاف ورزی کی، ہم اس کی کسی بھی سطح پر باز پرس نہ کر سکے نہ ہی اپنے دوستوں کو یہ باور کروا سکے کہ بھارت کا سلوک کسی بھی طرح سفارتی آداب کے مطابق نہیں تھا۔ ترکی میں اس گروپ کے قیام سے لے کر آج تک پاکستان نے اپنی استطاعت کے مطابق افغانستان کی ترقی میں ہر ممکن کردار ادا کیا ہے لیکن برادر اسلامی ملک بھارت کی گود میں بیٹھ کر ان کی ہی زبان میں پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا ہے۔
افغانستان کے صدر نے یہ سوچے بنا کہ ہم تیس لاکھ سے زائد مہاجرین کا کتنے عرصے سے بوجھ برداشت کرکے اپنی معیشت کو تباہی کے دہانے پہ پہنچا چکے ہیں، عیارانہ سوچ کے تحت زہر اُگلا۔ اشرف غنی نے جس متکبرانہ انداز میں پاکستان کی امداد کو ٹھکرایا تو ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے راقم کا ناقص خیال یہی ہے کہ اب ایک پائی بھی نہ دی جائے۔ اور افغانستان کے خلاف پاکستانی سرزمین کے استعمال کو جو راگ الاپا گیا تھا، اس حوالے سے افغانستان کواپنے گریباں میں جھانکنا چاہئے۔ پشاور حملہ ، کوئٹہ دہشت گردی، لاہور و کراچی کے قلب میں دہشت گردی ، اور دیگر کاروائیوں میں افغانستان کی سرزمین کے استعمال ہونے کے جو واضح ثبوت ملے ان کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔ بارڈر سیکیورٹی کے لئے گیٹ تعمیر کرنے پر دشمن کی آشیر باد سے اشتعال انگیز کاروائیاں شروع کی گئیں۔ اگر افغانستان کے صدرپاکستانی سرزمین سے در اندازی کا رونا روتے ہیں تو پاکستان کی طرف سے سرحدی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے میں اشرف غنی کی حکومت کیا مسلہ ہے۔
اشرف غنی جس طرح مودی پارٹ ٹو بنے ہوئے ہیں، ہمیں چاہیے تو یہ تھا کہ ہم کسی نچلے درجے کے افسر کو وہاں بھیجتے ۔ دوسری اہم بات کہ کل وقتی وزیر خارجہ ہوتا تواس کو فیصلوں میں آزادی ہوتی جب کہ سرتاج عزیز ہر فیصلے میں وزیر اعظم کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔ ہم نہ جانے کب تک ایسی پالیسیوں پہ عمل پیرا رہیں گے۔ جس طرح پاکستان ہاکی فیڈریشن نے تہیہ کیا ہے کہ آئندہ ہمسایہ ملک میں کسی ایونٹ میں شرکت نہیں کریں گے اسی طرح یہ طے کرنا بھی لازم ہے کہ ہم کسی ایسے فورم میں شریک نہیں ہوں گے جہاں کسی دوسرے ملک سے مل کر ہماری ہتک کی جائے۔ ایک کثیرالملکی فورم کو دو ملکوں کے اختلافات کا مرکز بنا دیا گیا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہمیں اپنی افغان اور بھارت پالیسی کو ذاتی تعلقات کے بجائے قومی مفادات کے تحت ترتیب دینا ہوگا۔ ہمیں اپنے بارڈر محفوظ کرنے کے ساتھ جلد از جلد افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا انتظام کرنا چاہئے۔ اس طرح ہماری معیشت اور ملکی امن کے لیے بھی بہتر ہوگا۔
پاکستانی سفارت خانوں، سفارتی مشن، ہائی کمشنر، اتاشیوں، ترجمان اور ہر طرح کے افسران پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دنیا پر ثابت کریں کہ ہارٹ آف ایشیا کو کس طرح بھارت نے پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ایشیا کا اصل دل تو پاکستان ہے۔ اور دنیا کہ باور کرائیں پاکستان کے بغیر ایشیا میں کوئی بھی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
نریندر مودی اور اشرف غنی جان لیں کہ سی پیک کی تکمیل کے بعد پاکستان نہیں پوری دنیا کہے گی کہ ایشیا کا دل صرف پاکستان ہے۔