نواز حکومت انتہا پسندوں کی سہولت کار ہے
- تحریر ارشد بٹ ایڈووکیٹ
- سوموار 19 / دسمبر / 2016
- 6154
وزیر اعلیٰ شہبازشریف نے پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف رینجرز کے آپریشن کرنے اور رینجرز کو اختیارات دینے کی شدید مزاحمت کی۔ شہباز شریف تو دہشت گرد گروہوں کو یہ درخواست کرتے بھی نیہں شرمائے کہ دہشت گرد برائے مہربانی پنجاب میں دھماکے نہ کریں، کیو نکہ پنجاب حکومت تو ان کے خلاف کسی کارروائی کا حصہ نہیں ہے۔ پنجاب حکومت کے سئنیر وزیر رانا ثنا اللہ کے کالعدم انتہا پسند فرقہ پرست نتظیموں سے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ طالبان کے لیڈر حکیم الٰہ مسحود کی ڈرون حملے میں ہلاکت پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان کے ٹسوے بہانا بھی سب کو یاد ہے۔ چوہدری نثار کی کلعدم فرقہ پرست مذہبی راہنماؤں سے ملاقات تو کل کی بات ہے۔ سونے پہ سہاگہ کہ کلعدم مذہبی تنظیموں کے لیڈرحضرات دن دہاڑے اسلام آباد میں دھڑلے سے جلسہ کر جایئں تو وزیر داخلہ ڈھٹائی سے صفائی پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے توجلسے کی اجازت نہیں دی۔
جسٹس قاضی فایئزعیسیٰ کمیشن رپورٹ نے رہی سہی کسر بھی نکال دی اور نواز حکومت کے دہشت گردی اورانتہا پسندی کے خلاف زبانی جمع خرچ کا پردہ چاک کر دیا۔ کلعدم تنظیمیں نام بدل کر سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ ان تنظیموں کے لیڈر گلے پھاڑ پھاڑ کر نفرت انگیز تقاریر کرنے، کھلے عام چندہ اکٹھا کرنے اور فرقہ پرستانہ مواد شائع کرنے میں مصروف ہیں۔ جسٹس عیسیٰ نے کھل کر لکھا ہےکہ انتہا پسندی کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لئے وزارت داخلہ، وزارت مذہبی امور یا کسی اور حکومتی ادارے نے ریاست پاکستان کو درپیش خطرات کے خلاف کوئی بیانیہ جاری نہیں کیا۔ مدارس کی رجسٹریشن یا نگرانی نہیں کی جارہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیشنل کاونٹر ٹیررسٹ اتھارٹی ‘نیکٹا‘ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ وفاقی وزیر داخلہ دہشت گردی کے مسئلہ پر اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف فوجی آپریشن کے مثبت نتائج تو سامنے آ رہے ہیں مگر دہشت گردوں کی پرورش کرنے والی انتہا پسند سوچ کی نرسریوں کے خلاف کسی قسم کی مربوط کارروئی کرنے سے نواز حکومت اجتناب کرتی رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لیگی حکومت سے اب بھی انتہا پسندی کی پرورش گاہوں کے خلاف کسی حتمی آپریشن کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ جس شد و مد کے ساتھ چوہدری نثار نے کھلے عام قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ پر غصے اور ناراضی کا اظہار کیا ہے اور اپنی کارکردگی کا دفاع کیا ہے، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ نواز لیگ حکومت آئندہ بھی مذہبی انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کے خلاف کوئی بڑا حتمی آپریشن کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ محض شہباز شریف، چوہدری نثارعلی اور رانا ثنا اللہ یا کسی اور حکومتی اہلکارکی کوتاہی یا نا اہلی نہیں ہے بلکہ مسلم لیگ نواز اور لیگی حکومت کی سوچی سمھجی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔
نام نہاد جہادی نتظیمیں جن کا اصل روپ فرقہ پرست اور دہشت گرد گروہوں کی شکل میں برآمد ہوا، یہ سب ضیا آمریت کی یادگار ہیں۔ جن کے ساتھ نواز شریف، شہباز شریف، چوہدری نثار اور دیگر نواز لیگی راہنماوں کے قریبی رابطے رہے ہیں۔ ریاست کے بدلتے بیانیے کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی اسٹیبلشمنٹ میں ابھی تک ضیا دور کی سوچ رکھنے والی باقیات اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ حقیقت بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ یہ گروہ سیاسی اورانتخابی معرکہ آرائی میں نواز لیگ کے حواری رہے ہیں۔ نواز لیگ کی انتخابی کامیابیوں میں ان انتہا پسند گروہوں کا بھی کافی ہاتھ رہا ہے۔
پنجاب میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کی وجہ سے لیگی حکومت کے انتہا پسند گروہوں کے خلاف کارروائی سے گریز کی پالیسی پر گامزن رہنے کے امکانات اور بڑھ گئے ہیں۔ کیونکہ نواز لیگ سے منہ موڑ کر یہ گروہ پی ٹی آئی کی شکل میں نئی پناہ گاہ تلاش کر سکتے ہیں۔ اور اس کا قوی امکان ہے کہ پی ٹی آئی کھلے دل سے ان گروہوں کو چھتری فراہم کرنے میں دیر نیہں لگائے گی۔ ایسے گروہ صوبہ خیبر پختون خوا میں پہلے سے ہی پی ٹی آئی کی پشت پناہی کر تے رہے ہیں۔ فرقہ پرست گروہوں کے خفیہ مسلح سیل اور پسماندہ سوچ رکھنے والےعناصر کے لئے پی ٹی آئی نواز لیگ کا متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔ انتخابی دنگل کی دھمک سنائی دینا شروع ہو چکی ہے۔ ان حالات میں میاں نواز شریف کی قیادت میں لیگی حکومت، کلعدم مذہبی انتہا پسند تنظیموں اور ان کے لیڈروں کے خلاف کارروائی کرکے انکی طاقت کو پی ٹی آئی کی جھولی میں ڈالنے کی غلطی کیسے کر سکتی ہے۔
حکمران جماعت کی سیاسی مجبوریاں اور مصلحت پسندی نیشنل ایکشن پلان کے سیاسی حصہ پرعملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ پلان پر پوری طرح عمل نہ ہونے کی وجہ ایک یا دو وزیر یا وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ یہ نواز لیگ کی سوچی سمجھی سیاسی پالیسی کا حصہ ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ نواز لیگ یا لیگی حکومت ایسی پالیسی مزید کتنا عرصہ جاری رکھ سکے گی۔ یہ بھی آنے والے وقت ہی بتائے گا کہ انتہا پسند گروہوں کے خفیہ سیل آنیدہ انتخابات پر کتنا اثر انداز ہو سکتے ہیں۔