پاکستان پیپلز پارٹی، تیسری نسل کی قیادت

’’آصف علی زرداری ، سب پہ بھاری‘‘ یہ نعرہ اس پارٹی کے پلیٹ فارم سے لگا، جس کا سیاسی فلسفہ ہے، ’’عوام طاقت کا سرچشمہ ہیں۔‘‘  یہ نعرہ اس پارٹی کے بنیادی فلسفے کی مکمل ضد اور نفی کے سوا کچھ نہیں جس کے لیے اس کے قائد ذوالفقار علی بھٹو شہید سولی پر جھول گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو 27 دسمبر 2007کو شہید ہوگئیں اور اس کے بعد خودبخود پارٹی کی قیادت اور اقتدار جناب آصف علی زرداری کو منتقل ہوگئے۔

وہ ایک ایسی پارٹی کے قائد اور وارث بنے جس کے پلیٹ فارم سے چار بھٹو شہید ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو، شاہنواز بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور بے نظیر بھٹو شہید، جبکہ محترمہ نصرت بھٹو ان چاروں کی قیادت کا تسلسل بھی بنیں اور اپنے چاروں پیاروں کے اندوہناک قتل کے دکھ اپنی آنکھوں سے دیکھے اور سہے۔ پارٹی سوشلسٹ نظریے اور بھٹو خاندان سے مفاہمتی سیاست اور زرداری خاندان کے ہاتھوں میں آگئی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اُن کو ورثے میں ساری وہ قیادت ملی جس کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1986 سے 2007 تک پروان چڑھایا۔ اسی قیادت میں دو وزرائے اعظم 2008 سے 2013 میں سامنے آئے جن کی کارکردگی اور کہانیاں زبان زدِعام ہیں۔ 2013 کے انتخابات کے بعد وہ پارٹی جس کا دل کبھی پنجاب میں دھڑکتا تھا اور جس کی شناخت چاروں صوبوں کی زنجیر تھی، سندھ تک محدود ہوکر رہ گئی۔ پی پی پی کے وہ مخالف دھڑے اور دانشور جو پی پی پی کو وفاق کی علامت سمجھتے تھے، اس کے یک دم اور اس قدر محدود ہوجانے پر حیران ہی نہیں بلکہ پریشان بھی ہوئے۔ مفاہمت میں اٹی پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس اب نہ تو ذوالفقار علی بھٹو جیسا جرأت مند اور ترقی پسند لیڈر تھا اور نہ ہی محترمہ بے نظیر بھٹو جیسی جرأت مند تاریخ کی وارث۔

2013 کے انتخابات میں بری طرح شکست کے بعد پارٹی کے اندر پارٹی کے حامیوں اور ملک کے سیاسی وصحافتی حلقوں میں شان دار تاریخ رکھنے والی پارٹی کے حوالے سے حیرانی پر مبنی سناٹا تھا۔ شروع شروع میں کچھ عرصہ سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے مخصوص انداز میں بیانات سے اپنے وجود کا احساس دیالا لیکن ان بیانات اور طرزِ سیاست کا تعلق پارٹی کے نظریے اور فلسفے سے نہیں تھا۔ آصف علی زرداری یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چونکا دینے والی باتیں کرتے ہیں۔  ان کے بارے میں اب پورا ملک جانتا ہے کہ اگر ان کی پارٹی کے لوگ انہیں کسی سیاسی معاملے کے حوالے سے کچھ کہیں تو اس کا ایک ہی جواب ملتا ہے کہ ’’مجھے پتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنے اردگرد پارٹی قیادت کو یہ باور کرواتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ کوئی سیاسی آگاہی اور ادراک نہیں رکھتا۔ وہ پارٹی کے اندر اس مکینزم کو برقرار رکھنے میں کامیاب نہ رہ سکے جس کو ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت نے قائم رکھا۔ وہ عملاً اقتدار کی سیاست کے تخت پر براجمان ہوئے جو حادثات کے سبب ممکن ہوا۔

پاکستان پیپلزپارٹی ملک کی ایک مقبول پارٹی رہی ہے، مگر اپنی تنظیم کے حوالے سے ایک مشکل پارٹی بھی ہے جس کو قائم ودائم رکھنے میں اس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو، کارکنوں اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا کردار اہم رہا ہے۔ آصف علی زرداری کی طویل عدم موجودگی کے بعد پارٹی کے اندر بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی تنظیمِ نو کا فیصلہ کیا اور ہم دیکھنے لگے کہ انہوں نے خصوصاً پنجاب میں پارٹی کی تنظیمِ نو کے لیے پچھلے ایک ڈیڑھ سال میں اہم اقدامات اٹھائے۔ اس حوالے سے انہوں نے قمرالزماں کائرہ، ندیم چن، چوہدری منظور اور دیگر ترقی پسند لوگوں کو پارٹی کے تنظیمی معاملات میں اہمیت دینا شروع کردی اور یوں پاکستان پیپلزپارٹی اب تیسری نسل کے ہاتھوں میں ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جہاں پارٹی کی قیادت بھٹو خاندان سے زرداری خاندان کو منتقل ہوئی، وہیں ہم نے دیکھا کہ والدہ کی شہادت کے بعد بے نظیر بھٹو  کے بیٹے بلاول اور بیٹیوں آصفہ اور بختاورکے ناموں کے ساتھ بھٹو بھی لگا دیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بلاول زرداری کے نام کے ساتھ بھٹو لگانے سے ہی پارٹی اپنی تنظیم مضبوط، مقبولیت بحال، نظریے کی طرف واپسی اور کارکنوں کو متحرک کرپائے گی؟ اس کا جواب اتنا مشکل نہیں۔ اگر بلاول بھٹو زرداری واقعی ہی بھٹو بننا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے نانا ذوالفقارعلی بھٹو کی سیاست کو اپنانا ہوگا۔ 1966 سے پہلے بھی ذوالفقار علی بھٹواس ملک کے اہم ترین لیڈر تھے، بحیثیت وزیرخارجہ اور کونسل مسلم لیگ کے قائد کے طور پر انہوں نے قومی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن پاکستان کے عوام میں جو ذوالفقارعلی بھٹومقبول ہوا، وہ ایوب خان کی آمریت کے سامنے ڈٹ جانے اور سوشلسٹ سیاست کو مین سٹریم میں لانے ، شان دار جماعت بنانے اور عوامی سیاست کو متعارف کروانے کے سبب ممکن ہوا۔  شاہنواز بھٹو جاگیردار کا بیٹا تو متعارف تھا ہی اور اپنے اسی خاندانی پس منظر کے حوالے سے حکمرانی کی سیاست میں داخل ہوا، لیکن یہ ذوالفقار علی بھٹو، خورشید بیگم کے بطن سے پیدا ہوا جن کا پس منظر جاگیردارانہ نہیں تھا۔

غریب ماں کے بطن سے جنم لینے والے ذوالفقار علی بھٹو 1970 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ایک کانفرنس میں ایک غیرملکی صحافی کے اس سوال پر بلند آواز میں رو دئیے، جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آپ تو ایک جاگیردار شاہنواز بھٹو کے بیٹے ہیں اور آپ کی پارٹی ایک سوشلسٹ پارٹی ہے۔ بھلا آپ کیسے اپنی پارٹی کے فلسفے پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔ تو ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ہمراہ نوجوان سوشلسٹ رہنما اور ساتھی معراج محمد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ہرکوئی میرے والد کا حوالہ دیتا ہے۔ معراج ان کو یہ بھی بتاؤ کہ میں ایک غریب ماں کا بیٹا ہوں۔ بلاول بھٹو زرداری صاحب! آپ کے لیے یہ واقعہ آپ کی مستقبل کی سیاست اور پارٹی کی نظریاتی مراجعت اور مقبولیت کے لیے رہنما ثابت ہوسکتا ہے کہ آپ اپنی پارٹی کو اپنے نانا کے اس سوال میں تلاش کرنے کے لیے ازسرنو منظم کریں۔

چند روز قبل مجھے دیگر اینکرز اور میڈیا کے لوگوں کے ہمراہ بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کا موقع ملا۔ ان کی شخصیت کے دو پہلو بہت خوب صورت ہیں۔ ایک یہ کہ وہ منکسر Humble ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ سکون سے بات سننے اور سیکھنے والے Good Listener and learner ہیں۔ ان کی یہ دو خوبیاں اگر دربار میں موجود خوشامدیوں کے ہاتھوں دبانے نہ دی جائیں تو وہ ایک ایسے لیڈر کا کردار ادا کرسکتے ہیں جو نانا کی پارٹی کی ساکھ بحال کرسکے گا۔ افسوس، ہمارے ہاں جاگیردار اور اوپری طبقے میں ایسے درباری ہر وقت موجود ہوتے ہیں جو لیڈر کو ایک مقدس اور عام لوگوں سے مختلف ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ دیکھنے میں لیڈر کے وفادار دوست ہوتے ہیں، بعد میں برآمد ہونے والے نتائج میں یہی درباری مقبولیت کے بھی قاتل ثابت ہوتے ہیں اور عملی طور پر بھی۔ اگر بلاول بھٹو زرداری ان درباریوں کے ہالے کو توڑ کر یا غیر اہم کرکے پارٹی کے اندر موجود سیاسی کارکنوں اور پارٹی سے متعلق دانشوروں کے ساتھ کھلے دل سے رابطے میں رہتے ہیں تو وہ اس راز کو بھی پا جائیں گے کہ ایک سیاسی پارٹی کی تنظیمِ نو کیسے کی جاتی ہے۔

جب میں نے اس ملاقات میں پارٹی کی تنظیمِ نو کے حوالے سے چند گزارشات کیں تو انہوں نے نہایت میٹھے  Sweet انداز میں جناب قمرالزماں کائرہ کی جانب دیکھ کر مسکراتے ہوئے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا:
How do you know the secrets of the party یعنی میں پارٹی کی تنظیمِ نو کے حوالے سے ان کے فیصلوں سے کیسے آگاہ ہوں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ میری گزارشات میرے علم اور تجربے کی بنیاد پر تھیں۔ اس محفل میں ملک کے بڑے بڑے اینکرز اور اینکرخواتین موجود تھیں جو اس نوجوان کو مشکل مشکل باتیں کرکے مرعوب کرنے اور اپنی دھاک بٹھانے میں پیش پیش تھے۔ میں نے بلاول بھٹو زرداری کو اس دوران کہا کہ ’’یہ اینکرز کیا جانیں کہ کوئی سیاسی پارٹی کیسے بنائی جاتی ہے اور اس کی تنظیمِ نو یا تشکیلِ نوکیسے کی جاتی ہے، اور وہ بھی پی پی پی جیسی جماعت۔‘‘ میرے اس کمنٹ پر سناٹا چھا گیا تو عارف نظامی نے کہا کہ کیا آپ سب اینکرز کے بارے میں کہہ رہے ہیں۔ یقیناً میرا اشارہ میڈیا کے مقبول شعبدہ بازوں Performers کی جانب تھا۔

میں نے  بلاول سے کہا کہ میں آپ سے ایک اور تاریخی بات کرنا چاہتا ہوں کہ پارٹی آپ کے نانا ذوالفقارعلی بھٹونے نہیں بنائی تھی۔ انہوں نے ایوبی آمریت کے خلاف جدوجہد کے دوران باربار مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے ایک ترقی پسند پارٹی بنانے کا پیغام دیا تھا اور جب اس پارٹی کا پہلا کنونشن ہوگیا تو ہر ضلع اور تحصیل میں لوگوں نے پارٹی ازخود بنائی اور یوں پارٹی بنتی چلی گئی۔ عوامی اور ترقی پسند پارٹیاں لوگ خود بناتے ہیں۔ آپ بھی اپنا سیاسی پیغام دیں، اپنے اردگرد ایسے لوگ متحرک کریں خصوصاً اپنی پارٹی کے کارکن، قومی سطح سے لے کر دیہات تک۔ یہ کارکن ہی آپ کو پارٹی بنا دیں گے اور یوں 2018 تک پیپلزپارٹی اپنی اساس کی جانب کامیابی سے گامزن ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ بات درج بالا چند نکات کے ساتھ مشروط ہے۔ وگرنہ پی پی پی ممکن ہے اگلے انتخابات میں کسی مخلوط حکومت کا حصہ تو ہو مگر عوامی سیاست کرنے، عوامی اصلاحات کرنے سے معذور رہے گی۔