فادر کرسمس
کرسمس کا تہوار دنیا کے لگ بھگ تمام ملکوں میں منایا جاتا ہے۔ کہیں یہ تہوار مذہبی طور پر تو کہیں لوگ روایتی طور پر مناتے ہیں۔ زیادہ تر عیسائی مذہب کے ماننے والوں کا عقیدہ ہے کہ یسوع مسیح 25 دسمبر کو پیدا ہوئے تھے۔ لیکن عیسائی مذہب کے مقدّس کتاب بائبل میں یسوع مسیح کی ولادت کی تاریخ کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا ہے۔ انسائیکلو بریٹینیکا کے مطابق رومن کے دور میں 25 دسمبر کو سورج کی پیدائش کی سالگرہ منائی جاتی تھی۔ اسی لئے شاید گرجا گھروں کے رہنماؤں نے اس دن کو یسوع مسیح کی ولادت کا دن مان لیا جو اب بھی بر قرار ہے۔
دسمبر کا مہینہ آتے ہی کرسمس کی تیاریاں اور پارٹیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ دکانیں خریداروں سے بھری ہوتی ہیں اور گھروں اور دفتروں میں کرسمس کی پارٹیاں زور و شور سے منائی جاتی ہیں۔ برطانیہ میں 25 دسمبر کو ایمرجنسی سروس کے علاوہ تمام دفاتر، ٹرانسپورٹ اور دکانیں بند رہتی ہیں۔ لیکن پچھلے چند برسوں سے کچھ دکانیں کھلنے لگی ہیں اور آمد ورفت کے لئے پرائیویٹ ٹیکسیاں بھی سڑکوں پر نظر آتی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ برطانیہ میں کرسمس کے موقعہ پر نو میلین ایسے لوگ ہیں جوتنہا ہوتے ہیں جن میں لگ بھگ دو میلین بزرگ مرد اور عورتیں بھی ہیں۔ ان لوگوں کا نہ تو کوئی رشتہ دار ہے اور وہ دنیا میں تنہا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی مدد کے لئے مقامی چیریٹی رضاکار کرسمس کے دن ان کی تنہائی کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن کرسمس کی بات ہو اور فادر کرسمس کا ذکر نہ ہو تو کرسمس پھیکا اور ادھورا لگتا ہے۔ دنیا بھر میں لوگ فادر کرسمس کی شکل بنا کر اور لال فینسی ڈریس پہن کر بچوں اور بڑوں کو تفریح بہم پہنچاتے ہیں۔ فادر کرسمس کی زندگی پر متعدد فلمیں بھی بنی ہیں اور انہیں خاص کر کرسمس کے موقعہ پر سنیما اور ٹیلی ویژن پر دکھایا جاتا ہے۔ جس سے بچے تو بچے نوجوان اور بوڑھے بھی محظوظ ہوتے ہیں۔ لیکن آج میں سیاہ فادر کرسمس کی بات کروں گا جس کے متعلق نہ ہی ہمارے ذہن میں کوئی تصویر آتی ہے اور نہ ہی ہمیں اس کے بارے میں اتنی معلومات ہیں۔ امریکہ کے کئی شاپنگ مال اس ہفتے خبروں کی سرخیوں میں ہیں۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پہلی بار ان شاپنگ مال نے افریقی امریکی سیاہ فام فادر کرسمس کی خدمات حاصل کی ہیں۔ لیکن شاید آپ کو جان کر حیرانی بھی ہوگی کہ سیاہ سانتا کلاز ایک عرصے سے فادر کرسمس کے بھیس میں اپنے کام کو انجام دے رہے ہیں۔ یہی نہیں انہوں نے 1960 کی دہائی میں سوِل رائٹ کی تحریک میں نمایاں رول بھی نبھایا تھا۔
کینی گرین جو اس بار سیاہ فادر کرسمس کی خدمت کو انجام دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’ سانتا جس بات کی نمائندگی کرتا ہے، اس کی خصوصیت آپ میں ہونی چاہئیں۔ اگر آپ بدمزاج اور بچوں سے محبت نہیں کرتے ہیں تو یہ کام ایسے لوگوں کے لئے ناممکن ہے ‘۔ کینی گرین پچھلے پانچ سالوں سے فادر کرسمس کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ حالانکہ کینی گرین جس شاپنگ مال میں کام کرتے ہیں وہ امریکہ کے واشنگٹن ڈی سی کے مضافات میں واقع ہے۔ کینی گرین کا کہنا ہے کہ اب بھی سیاہ فادر کرسمس بہت کم دکھائی دیتے ہیں ۔ ایورسن مال جو کہ امریکہ کا ایک بہت بڑا شاپنگ مال ہے اور اس بار اس شاپنگ مال نے خریداروں کے تفریح کے لئے سیاہ سنتا کلاز کی خدمات حاصل کی ہے۔ زیادہ ترافریقی امریکی خریداروں کی بھیڑ اور رائے سے یہ پتہ چلاہے کہ ان خریداروں کی دلی خواہش یہ ہے کہ وہ شاپنگ سینٹر میں سیاہ فادر کرسمس کو دیکھیں۔ ان میں کئی فیملی 80 میل کی لمبی مسافت طے کر کے شاپنگ کرنے آرہے ہیں۔
اسی طرح مینوسیتا شاپنگ سینٹر نے بھی ایک افریقی امریکی فادر کرسمس کی خدمات حاصل کی ہیں۔ لیری جیفرسن کا کہنا ہے کہ وہ ہزاروں لوگوں کو فاردر کرسمس بن کر ان کو شاپنگ کے دوران تفریح بہم پہنچا رہے ہیں اور وہ یہ کام تنہا کرتے ہیں۔ لیری جیفرسن کو یہ کام صرف ہفتہ اور اتوار کو دیا گیا ہے لیکن شاپنگ سینٹر کے پیغام بورڈ پر ان کے خلاف نسل پرستی اور نفرتوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن کے بعد لوگوں میں امیگریشن اور دیگر مذاہب کے خلاف جس طرح پروپگنڈہ کیا گیا تھا اس کا اثر اس واقعہ سے سچ ثابت ہورہا ہے۔
لیکن میں جب سیاہ فادر کرسمس کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ سیاہ فادر کرسمس کئی دہائیوں سے فادر کرسمس بن کر اپنے خدمات کو انجام دے رہے ہیں۔ 1901 میں نیو جرسی میں ایک رپورٹ میں یہ لکھا گیا کہ ’ ایک نیگرو سانتا کلاز گھر کی چیمنی میں سر کے بل داخل ہوا اور وہ آگ پر اترا۔ اس کے بعد کمرے میں موجود لوگوں نے نیگرو سانتاکو کوڑے مارے‘۔ اسی طرح پیٹس برگ کے اخبار کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ ’ پہلا نیگرو سانتا کلاز شہر میں دیکھا گیا جو کہ دیگر شہروں میں اب تک نہیں دیکھا گیا تھا۔ ان افریقی امریکی لوگوں کو رضاکار کے طور پرخدمات کے لئے حاصل کیا گیا تھا اور اس کی وجہ مختلف نسلوں کے بچوں کی خواہش تھی‘۔
1936 میں ایک مقامی اخبار کے رپورٹر کے مطابق ایک حقیقی پیش رفت یہ ہوئی کہ معروف افریقی امریکی ڈانسر بل روبنسن کو غریب بچوں کے لئے پہلا نیگرو سانتا کلاز بننے کا موقع دیا گیا تھا۔ جب کہ اس سے پہلے ان بچوں کو نیو یارک لے جایا جاتا تھا اور وہاں ان کو سفید سانتا کلاز سے ملوایا جاتا تھا۔ 1943 میں معروف ہارلیم کے ڈپارٹمنٹ اسٹور نے سب سے پہلے سیاہ سانتا کلاز کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اس کے بعد 1946میں شکاگو کے ایک اسٹور نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔ ساٹھ کی دہائی میں سوِل رائٹ کی تحریک والوں نے سیاہ سانتا کلازکی خدمات حاصل کرنا شروع کیں۔ 1969میں سنسناٹی ڈیپارٹمنٹ اسٹور نے جب سیاہ سانتا کلاز کی خدمات حاصل کرنے سے انکار کر دیا تو سوِل رائٹ تحریک نے سا نتا کلاز کو نسل پرستی کی علامت قرار دیا۔ اسٹور کے مالک نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ ان باتوں کا ملازمت میں مساوات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ بچوں کے لئے سیاہ سانتا کلاز اصل تصویر نہیں بنا پاتا ‘۔
سانتا کلاز روایتی طور پر ایک سفید انسان ہی ہوتا ہے۔ لیکن پرانے زمانے میں اگر کوئی سیاہ سانتا کلاز بنتا تو اسے مقامی اخبار میں ’نیگرو سانتا کلاز ‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا جو کہ اب ممنوع ہے۔ یونیورسٹی آف بفالو کی تاریخ کی پروفیسر وکٹوریہ وولکوٹ کا کہناہے کہ ’ ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور میں جانا اور پھر سانتا کی گود میں بیٹھنا یہ تمام چیزیں ایک سفید مڈل کلاس کی شناخت کے لئے رنجش کی بات ہے۔ ظاہر سی بات ہے مڈل کلاس سفید نسل کو یہ بات کافی پریشان کر رہی ہے اور پرانے زمانے میں مقامی اخبار میں افریقی امریکی سانتا کے بارے میں ’نیگرو سانتا ‘ لکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ نسلی بھید بھاؤ کتنا عام تھا‘۔ یہاں یہ بات بھی غورکرنے کی ہے کہ افریقی امریکی سانتا کلاز کے بارے میں صرف سفید نسل کے لوگوں کو ہی اعتراض نہیں ہے بلکہ کئی افریقی امریکی لوگوں نے بھی ایسے بیان د یئے ہیں جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ سانتا کلاز کی علامت ایک سفید انسان کی شکل میں ہی لوگوں کی ذہن میں بس گئی ہے۔
سترہویں صدی میں انگلینڈ کے بادشاہ ہینری آٹھ ہر سال 6 دسمبر کو سینٹ نکولس کے موقع پر دعوت کا اہتمام کر تے تھے اور ایک بھاری بھر کم انسان بن کر اور لال کپڑوں میں جس میں جھالریں لگی ہوتی تھیں ملبوس ہو کر لوگوں کے سامنے آتے تھے۔ جس کا ایک مقصد یہ تھا کہ اس موقعہ پر لوگوں کو خوشیاں اورامن کے پیغام کو پہنچایا جائے اورساتھ ہی ساتھ کھانے پینے کا لطف بھی لیا جا ئے۔ تاہم انگلینڈ نے سینٹ نکولس کی دعوت کو معطل کردیا اور اس تقریب کو 25 دسمبر کو منتقل کردیا گیا۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ فادر کرسمس کی مقبولیت ان ہی دنوں سے ہوئی تھی۔
عام طور سے کرسمس کے تہوار کے موقع پر فادر کرسمس کو جگمگاتے ہوئے روشنی میں گھروں کے باہر لٹکایا جاتا ہے تو وہیں کچھ موٹے موٹے لوگ لال کپڑوں میں ملبوس اور سفید چمکتی داڑھیوں کے ساتھ پارٹیوں اور شاپنگ سینٹر وں میں’ ہو ہو ‘ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یوں کہئیے کہ کرسمس کے تہوار میں فادر کرسمس ہی ایک اہم علامت ہوتے ہیں جس سے بچے اور بڑے خوب لطف اندو ز ہوتے ہیں۔ کرسمس کے تہوار کے بارے میں مختصر طور بتانے کا مقصد یہ تھا تہوار چاہے مذہبی طورہو یا سماجی روایت، اس کے جشن میں دنیا کے تمام مذاہب اور فرقوں کے لوگ شامل ہوکر بھائی چارے کو فروغ دے سکتے ہیں۔
فادر کرسمس چاہے سفید، بھورا یا سیاہ ہو مجھے اس کے رنگ سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ کیونکہ فادر کرسمس کسی بھی رنگ و نسل میں ہو، ہم اسے محض بچّوں کا دل بہلانے والا فادر کرسمس ہی مانتے ہیں۔