کن بکروں کی قربانی ہونی چاہئے

میرے ذہن میں اکثر یہ سوال سر اٹھاتا ہے کہ کیا ہم بطور ایک قوم کے ہار مان چکے ہیں کہ ہمارے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر میرے ذہن میں سوالات کا ایک ہجوم اٹھنے لگتا ہے۔  میں خود بھی اسی قوم کا ایک فرد ہوں اور میں نے تو ہار نہیں مانی ہے۔ میرا یقین ایمان کی حد تک پختہ ہے کہ ہم کرکٹ کی زبان میں کم بیک کر سکتے ہیں۔ اور اپنا کھویا ہوا مقام واپس حاصل کر سکتے ہیں۔

میں پہلے نفی والے جواب پر بات کروں گا اور آخر میں ہاں والے جواب پر اپنا موقف پیش کروں گا ۔ اگر میرے سوال کا جواب نفی میں ہے کہ ہم نے ابھی ہار نہیں مانی ہے اور اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں تو پھر میں اپنے سوالات کے مجموعے میں سے چند یہاں پیش کرتا ہوں: 

پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انورظہیر جمالی جو اپنی مدت ملازمت پوری کرنے والے ہیں، نے اپنی ایک الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمارے ملک کے سب ادارے بدعنوانی میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ اور اس ملک میں بادشاہت کا نظام ہے۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ سے اوپر کونسی عدالت ہے جس میں ہم اپنی درخواست لے جائیں کہ جناب ہمارے اداروں میں بدعنوانی در آئی ہے برآئے مہربانی ہمارے اداروں کی تطہیر کروا دیں۔  یا چیف جسٹس صاحب سے زیادہ کس کے پاس اختیارات ہیں جن کے سامنے ہم پیش ہو کر دست بدستہ عرض کریں کہ جناب ہمیں انصاف چائیے۔ اگر چیف جسٹس صاحب ہار مان چکے ہیں تو پھر کیا قوم کو بھی ہار مان لینی چاہئے۔  یاد رہے کہ  چیف جسٹس بننے سے پہلے بندہ ایک مستند وکیل ہوتا ہے جس کا کام لوگوں کو انصاف دلانا ہوتا ہے۔ پھر وہ ہائیکورٹ کا جج اور چیف جسٹس بھی بنتا ہے، پھر سپریم کورٹ کا جج  (معذرت توہین عدالت سے بچنا چاہتا ہوں ) کے عہدے پر فائز ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی جج اپنے منصب کی مدت میں کسی اور ادارے کی نہ سہی اپنے عدالتی نظام کی تطہیر نہ کرسکے، تو اسے کیا کہا جائے گا۔

جس زمانے میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کا طوطی بولتا تھا از خود نوٹسز کا زمانہ تھا  اور کسی بھی محفل میں ان کی شان میں ذرا سی گستاخی بھی توہین عدالت بن جاتی تھی۔ اور اسی محفل میں بیٹھا ان کا کوئی دیوانہ سزا بھی سنا دیتا تھا، میں تب بھی اکثر یہ بات کرتا تھا کہ یہ شخص صرف اپنی ذات کی تشہیر چاہتا ہے اور ایسے مقدمات کو ترجیح دے رہا ہے جس سے میڈیا میں جگہ ملے۔ اگر یہ مخلص ہے تو سب سے پہلے عدالتی نظام میں تبدیلی لائے اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے اقدامات کرے۔

اب بھی ملک میں زیادہ مسائل انصاف نہ ملنے کے باعث پیدا ہو رہے ہیں ۔ اب آئیے اپنے ایک اور بہت بڑے کمرشل ادارے کی طرف چلتے ہیں جس کے ساتھ آئے روز میرا اور بہت سے تارکین وطن پاکستانیوں کا واسطہ پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے اندر بیشمار لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں جس کا سلوگن ہے "باکمال لوگ لاجواب سروس"۔ آج کل اس ادارے کے باکمال لوگ اپنی سروس کو لاجواب بنانے کے لیے کالے بکروں کے صدقے دے رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں کالے بکروں کی قیمت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ جانور جلد ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دنیا کی دوسری ائرلائن بھی پاکستان ائیر لائن کی نقل میں یہی نسخہ آزمانے لگیں۔ پھر کالے بکروں کا قحط یقینی ہو جائے گا۔ کوئی بعید نہیں کہ اگلی بار جب ہم پی آئی اے کی ٹکٹ لینے جائیں تو اس کی قیمت میں کالے بکرے کے اخراجات بھی شامل ہوں۔ یا یہ بھی کہا جا سکتا یے کہ ہر مسافر اپنے ساتھ ائرپورٹ پر ایک عدد کالا بکرا بھی لے کر آئے۔   میں سوچتا ہوں کہ اگر ایک کالے بکرے کے صدقے سے ایک فلائیٹ محفوظ ہو سکتی ہے تو کیوں نہ ہم ایک ہی بار بہت سارے کالے بکروں کا صدقہ دے کر پاکستان کی ناؤ کو ہی محفوظ کر لیں۔  پھر پوری دنیا میں اونچا مقام ہمارا مقدر ٹھہرےگا۔ 

اصل صورتحال یہ ہے کہ اوپر سے نیچے تک کسی سے بھی بات کریں ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ یہ ملک ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ جن کے پاس اختیارات ہیں جب ان کے منہ سے ہم یہ سنتے ہیں کہ یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا تو پھر اصل المیہ تو یہی ہے نا کہ جو جس کام کی  باقاعدگی سے تنخواہ لے رہے ہیں اور پروٹوکول کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اوپر سے ملک بھی لوٹ رہے ہیں۔  وہی ہمیں یہ مژدہ سنا رہے ہیں کہ یہاں کچھ بھی صحیح  نہیں ہو سکتا ہے۔ کسی بھی ملک کے دانشور اس ملک کے دماغ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا کام عوام تک حقائق پہنچانا، لوگوں کی صحیح سمت پر رہنمائی کرنا ، لوگوں کی ڈھارس بندھانا اور معاشرے سے برائیوں اور بدعنوانی کے سدباب کے لئے لوگوں کی مدد کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں دانشوروں کی اکثریت ہمیں مایوسیوں کے اندھیروں میں دھکیل رہی ہے ان کے قلم کی سیاہی ملک کو اندھیرے میں تبدیل کر رہی ہے۔ وہ کوئی حل پیش کرنے کے بجائے مایوسی پھیلانے کا کام کر رہے ہیں۔ اپنے قلم فروخت کرتے ہیں۔ جس کی بدولت اندرون اور بیرون ملک جائدادوں کے مالک ہیں۔ اپنے لئے خصوصی پروٹوکول کے مزے لیتے ہیں، پھر بھی ملک میں بدعنوانی کی دہائی بھی دیتے ہیں۔ اس ملک میں کتنے ایسے دانشور یا لکھنے والے ہیں جو قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہر طرح کی بدعنوانی سے پاک ہیں۔ اور آج تک  اپنے قلم کی قیمت وصول نہیں کی؟ اگر کوئی ہے یا ہیں تو سامنے آئیں۔

اب ذرا آئیں آپ کو جنت کی سیر کرائیں۔ جی ہاں جنت کا راستہ دکھانے والوں کی ایک جھلک۔ میں ایک فوتگی پر گیا وہاں سوئم کا ختم چل رہا تھا، عرف عام میں " قل"۔  کافی زیادہ لوگ جمع تھے اور انواع و اقسام کے پھل اور کھانے سامنے رکھے تھے۔ دعا کے بعد مولوی صاحب سمیت سب لوگ پھلوں پر ہاتھ صاف کرنے لگے تو میں نے دیکھا کہ تمام لوگ جو کیلا کھا رہے تھے اس کے چھلکے ادھر ادھر پھینک رہے تھے۔ ویسے تو دائیں بائیں پہلے بھی بہت گندگی تھی۔ میں نے سوچا کہ میں مولانا صاحب سے اس بارے بات کرتا ہوں۔ میں 3 قطاریں پھلانگ کر مولانا صاحب تک پہنچ گیا۔ ابھی میں نے ان سے ہاتھ بھی نہیں ملایا تھا کہ انہوں نے بھی اسی طرح کیلے کا چھلکا پھینکا۔ اب مجھے ان سے بات کرتے ہوئے شرم محسوس ہونے لگی۔ کہ وہ خود بھی یہی کام کر رہے ہیں اور میری بات کو ذاتی حملہ نہ سمجھ لیں۔  خیر میں نے ان سے مصافحہ کیا اور ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرنے کے بعد کہا کہ آپ مسجد میں اور ایسے ختم وغیرہ کے مواقع پر لوگوں کی  راہنمائی کچھ اس طرح سے بھی کیا کریں کہ لوگ  گندگی نہ پھیلائیں۔ تو انہوں نے جھٹ سے جواب دیا کہ یہ تو ناممکن ہے کیوں کہ یہ لوگ تو اللہ کی بات نہیں مانتے تو میری کہاں سنیں گے۔

میری کئی ایسے افسران سے بات چیت ہوتی رہتی ہے جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور ان کا عام لوگوں پر بہت زیادہ رعب اور دبدبہ ہوتا ہے۔  ان کے ماتحتوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہوتی ہے۔ وہ بھی یہی جواب دیتے ہیں کہ یہاں تبدیلی لانا ناممکن ہے۔ آپ یورپ کی باتیں کرتے ہیں اور یہ پاکستان ہے۔ میری کئی بار اعلی درجے کے سکولوں کے سربراہان سے بھی بات ہوئی ہے جن کی میں نے توجہ ان کے سکولوں کے طلبہ اور طالبات کی ان خامیوں کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی تھی کہ جن کی وجہ سے ان کے طلبہ اور عام ان پڑھ لوگوں میں کوئی فرق نہیں لگتا۔ ان کے جواب بھی باقیوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھے۔ اب عام آدمی کی بات کریں تو کسی کو کسی پر اعتبار نہیں اور اپنی حد تک اور استظاعت اور ضرورت کے مطابق ہر بندہ کسی نہ کسی طرح بدعنوانی میں ملوث ہے۔ لیکن وہ ہر وقت دوسروں کی بدعنوانی، بےایمانی اور منافقت کی بات کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہے کہ یہاں سب لوگ غلط ہیں۔  کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا ہے۔

ان سارے حالات کے بیچ آج کے جنگ اخبار میں پاکستان کے صدارتی ایوارڈ یافتہ اور بہت ذہین اور اعلی پائے کے کالم نگار وجاہت مسعود نے اپنے کالم میں اپنی قوم کی چیدہ چیدہ خوبیوں کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے جن سے اختلاف کی گنجائش بہت کم ہے۔
میں وجاہت مسعود صاحب کے کالم سے قوت حاصل کرکے اپنے سوال کے جواب ہاں کی طرف چلتا ہوں۔ جی نہیں میں اس جواب کو نہیں مانتا۔ کیوں کہ  وجاہت مسعود  نے اپنی قوم کی جن صفات کو خوبصورتی سے سپرد قلم کیا ہے، ان کے علاوہ یہ وہی قوم ہے جس نے علامہ اقبال کے ایک خواب کی ناممکن تعبیر کو ایک دہائی  کی جدوجہد سے ممکن کر دکھایا تھا۔ یہ وہی قوم ہے جس نے 6 ستمبر انیس سو پینسٹھ میں اپنے سے 6 گنا بڑے ملک کی فوج کی یلغار کو نہ صرف روکا بلکہ ان کو شکست سے دوچار کیا۔ یہ وہی قوم ہے جس نے کئی آفات کا جواں مردی سے مقابلہ کیا ہے تو آج ہم اس قدر مایوس کیوں ہیں۔

ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے رویوں میں بہتری لائیں اور اپنی سوچ کو مثبت سمت دیں۔ سب سے بڑھ کر ایک قومی سطح کے راہنما کی ضرورت ہے۔ جو خود حوصلہ مند ہو اور قوم کا حوصلہ بڑھانے کا گر جانتا ہو۔ جو قائداعظم کی طرح ایماندار اور مخلص ہو۔ جس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ لیکن اگر ایسا کوئی راہنما ابھی میسر نہیں  تو کیا ہوا۔ ہم سب مل کر وطن کی ناؤ کو ساحل تک لے جا سکتے ہیں۔ جی ہاں یہ ممکن ہے۔ کیوں کہ میں ہار نہیں مانتا۔ میرے قلم کی کوئی قیمت نہیں لگا سکتا۔ مجھے اپنے عزم سے کوئی عاجز نہیں کر سکتا۔  میں کسی بھی حال میں کوئی غلط کام نہ کرنے کی قسم کھاتا ہوں۔ میں اس بات کی بھی قسم کھاتا ہوں کہ کسی بھی ذاتی فائدے کی خاطر قومی مفاد کا سودا نہیں کروں گا۔  میں سچ اور حق  کی خاطر اپنی جان کی پرواہ نہ کرنے کا بھی حلف اٹھاتا ہوں۔ میں اپنے وطن کی خاطر ہر طرح کی قربانی دینے کا عہد کرتا ہوں۔ میں اپنے اعمال کی سب سے پہلے ذمہ داری لیتا ہوں پھر اپنے اہل و عیال کی تربیت کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ میں ہر مقام پر اور ہمہ وقت حق کی خاطر بولنے کا وعدہ کرتا ہوں۔ اپنے لوگوں کے حق کے لئے کسی بھی حد تک جانے کا وعدہ کرتا ہوں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ قوم ہار مان کر آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائے۔

چیف جسٹس صاحب آپ ہار مان چکے لیکن یہ قوم ہار نہیں مانے گی ۔ اور وہ وقت دور نہیں جب چیف جسٹس انصاف کرنے پر مجبور کر دئیے جائیں گے اور ہر کسی کو تحفظ ملے گا ۔ تو آئیے اپنے عہد کی تجدید کریں۔ اے حکمرانو اپنے حلف کی عبارت کو دوبارہ دیکھو۔ میرے وطن کے رکھوالو اپنے کردار کو دیکھو اور اپنے کام کی طرف توجہ دو۔  جو کام آپ کے کرنے کے نہیں ہیں ان میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کرو  ۔ اے سیاستدانو پاکستان کے لئے سیاست کرو اپنی ذات کے لیے نہیں۔ جیسے کوئی اللہ کے علاوہ سب طاقتوں کی نفی کئے بغیر مسلمان نہیں ہو سکتا، اسی طرح کوئی ملک کے مفاد میں اپنی ذات کی نفی کئے بغیر سیاستدان نہیں ہو سکتا ۔

اے میرے ہم وطنو پہچان کرو اور ایسے لوگوں سے نجات حاصل کرو جو اپنے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہیں اور آپ کے اور ملک کے مفادات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ جذبات سے اور روایات سے جان چھڑا کر عصر حاضر کے زمینی حقائق کا ادراک کرو۔ اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرو۔ اور کالے بکروں کی قربانی کی بجائے ایسے  تمام بکروں کی ‘قربانی‘ کر دو جن کی نحوست سے ہمارا ملک لاغر مریض کی تصویر پیش کر رہا ہے ۔