سندھ میں سیاسی استحکام ضروری ہے

پاکستان کا صوبہ سندھ ہزاروں سال سے سیاسی لحاظ سے اہم رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ کراچی کی بندرگاہ ہے۔  پاکستان کے بننے کے بعد کراچی شہر کے سبب پاکستان اور بالخصوص  صوبہ سندھ تجارت و صنعت اور ترقی کی جانب بڑھا۔ پاکستان کے ابتدائی ادوار سے ہی کراچی کی بندرگاہ بہت ہامیت کے حامل رہی ہے۔ 

تجارت کے علاوہ کراچی کے سمندر کو سفری مقاصد کے لئے  بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ماضی میں حج اور دور دراز ممالک کا  سفر  بحری جہازوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ قیام اکستان کے وقت  کراچی  پاکستان کے تمام شہروں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر تھا۔ یہاں ٹرام وے سے لےکر سرکلر ریلوے اپنی آب و تاب سے بہترین سفری سہولت فراہم کرتی تھیں۔  کراچی کے بڑھتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں کے سبب سندھ کے دیگر شہروں میں بھی صنعت و تجارت کو فروغ حاصل ہؤا۔  حیدرآباد، نوابشاہ، میرپورخاص، سکھر، شکارپور، خیرپورمیرس ، گمبٹ اور دیگر شہروں میں کارخانے لگنے لگے۔ اس کے علاوہ زراعت میں بھی قابل ذکر ترقی ہوئی۔  اس وقت آپ باشی اور جدید زرعی و صنعتی آلات نہیں تھے۔ مین پاور کے ذریعے انتھک محنت کی جاتی تھی۔ زرعی زمین کو زرخیز بنانے کےلئے بیلوں  کے ذریعے ہل چلائے جاتے تھے۔ جبکہ فیکٹریوں میں ہاتھوں سے مصنوعات تیار ہوتی تھیں۔  محنت کے علاوہ دیانتداری کا چلن تھا اس لئے پاکستانی مصنوعات کی مانگ دنیا بھر میں تھی۔ 

پاکستان معاشی اور سیاسی بہتری کے سبب ہی 1965 کی جنگ جیتی تھی لیکن 1971 میں ناکامی کا سبب یہ تھا کہ  پاکستان اُس وقت تک سیاسی طور پر انتہائی کمزور ہوچکا تھا۔  مشرقی پاکستان کی ناکامی کی وجہ سے ہماری خارجہ پالیسی اور سیاست انتشار کا شکار ہو گئی۔  بدنصیبی سے سندھ میں زبان کی وجہ سے شہری اور دیہی علاقوں میں فرق کیا جانے لگا۔ حکومت سندھ کو  ان معاملات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے نا انصافی کے خاتمہ کے لئے اقدام کرنے چاہئیں۔ سندھ  پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔  اس لئے سندھ کی سیاست کا قبلہ درست ہونا چاہئے۔  صاف و شفاف سیاست سے عوامی خدمات بہتر سے بہتر انداز میں کی جاسکتی ہے۔

صوبے کی خوشحالی کےلئے سندھ کی سیاسی صورتحال اور معاملات کا درست ہونا اولین شرط  ہے ۔ صوبے کی سب سیاسی پارٹیوں کو حالات درست کرنے ے لئے کام کرنا ہوگا۔ تب ہی صوبے میں معاشی احیا ور سیاسی استحکام بحال ہو سکتا ہے۔