شام کا نوحہ
- تحریر سید شاہد عباس
- جمعرات 22 / دسمبر / 2016
- 5148
اسلامی ملک شام اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کاش وہ ایسی توجہ نہ پاتا۔ کاش کچھ ایسا ہوتا کہ اس طرح کی شہرت اس کے حصے میں نہ آتی کہ کھنڈرات اس کا مقدر بن رہے ہوتے ۔ لاشیں اس کی بنیادوں میں دب رہی ہوتیں۔ کاش شام کو ایسی شہرت نہ نصیب ہوتی کہ اس میں بارود کی بو پھیلی ہوئی ہو۔ کاش اس اسلامی ملک کو عالمی منظرنامے میں ایسی توجہ نہ ملتی کہ تمام عالمی طاقتوں نے اس اہم ملک کو بھاگتے چور کی لنگوٹی سمجھا ہوا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ اسلامی دنیا بھی ایک اسلامی ملک کی تباہی پر تقسیم کا شکار ہے اور باقی اسلامی ممالک شام کی تباہی میں اپنا اپنا کردار حصہ بقدرے جثہ کے مصداق ادا کر رہے ہیں۔ عالمی طاقتیں تو اپنے مفادات کا تحفظ کر ہی رہی ہیں مگر حیران کن طور پر دیگر اسلامی دنیا کے ممالک بھی اس بحرانی کیفیت کا شکار ملک کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے ہچکچا نہیں رہے۔ عالمی طاقتیں، ملت اسلامیہ، اور خود شام کے حکمران، سب موجودہ بحران کے نہ صرف ذمہ دار ہیں اور انہوں نے اس بحران کے خاتمے کے لیے بھی کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا۔
شام میں جب شورش نے سر اُٹھانا شروع کیا تو عرصے سے اقتدار سے چمٹے ہوئے بشار الاسد نے نہ اس جانب توجہ دی نہ ہی اسلامی ممالک نے اس ناسور سے نمٹنے کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے۔ عراق میں عرصے سے جاری خانہ جنگی کی سی صورت حال نے اب پورے خطے کو لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے اور مفادات کی یہ جنگ عراق ، شام سے پھیلتی ہوئی یمن تک پہنچ چکی ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ عالمی سازشوں کو ہم نے فرقہ وارانہ جنگ قرار دے دیا ہے۔ سب سے پہلے یہ امریکہ اور بشار الاسد کی ذاتی مخاصمت تھی۔ اس کے بعد اس میں خلیجی ممالک شامل ہوئے۔ جو عراق میں صدام کے ساتھ ہوا وہی یہاں بشار الاسد کے ساتھ کرنے کی ٹھان لی گئی ۔
تاہم حالات تب بگڑے جب ستمبر2015 میں روس کھل کر اس جنگ میں شامل ہو گیا۔ امریکی مفادات بشار الاسد کی موجودگی سے متصادم تھے تو روس کو اس حکمران کا ہونا فائدہ دیتا ہے۔ کریمیا اور جارجیا کے بحران کے بعد امریکہ اور روس نہ صرف کھل کر سامنے ہیں۔ بلکہ حالیہ امریکی صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کی خبروں نے تعلقات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ شام میں ترکی کے اپنے مفادات ہیں ۔ ترکی مخالف اور حامی کرد دو گروہ ہیں جن میں سے ایک کے خلاف ترکی بر سر پیکار ہے اور دوسرے کو مدد دے رہا ہے۔ روس کا طیارہ گرانے سے جو تعلقات خراب ہوئے تھے وہ بھی معمول پہ آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اور ایک نیا اتحاد بنتا نظر آ رہا ہے جس میں روس، ترکی، ایران اپنے ہمنواؤں کے ساتھ مل کر شام میں آنے والے دنوں میں کام کر سکتے ہیں۔ لیکن تباہی شام کا مقدر ہی ہوگی۔ حلب میں حالیہ شامی فوجوں کے دوبارہ قبضے کے دوران عالمی میڈیا چیخ اٹھا ہے ۔ اور ایسا ہونا بھی چاہیے تھا کیوں کہ یہ انسانی المیہ ہے مگر جب اس پہ شدت پسند قابض تھے تب یہی میڈیا خاموش تماشائی بنا ہؤا تھا۔
کسی اسلامی ملک کو بھی توفیق نہیں ہوئی کہ اس مسئلہ کا سیاسی حل نکالا جاتا۔ ترکی اور ایران جو اب روس کے ساتھ مل کر چل رہے ہیں ان دونوں کو بھی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ صورت حال کا سیاسی حل تلاش کرتے اور بشار الاسد کو مجبور کرتے کہ اگر یہ بحران اس کے اقتدار چھوڑنے سے ٹل سکتا تھا تو اقتدار چھوڑ دو۔ اور باقی اسلامی ملکوں کو قائل کرتے کہ امریکہ و روس کی ذاتی جنگ میں نقصان مسلم امہ کا ہو رہا ہے اور اگر یہ جنگ فرقہ ورانہ چپقلش میں ہی تبدیل ہو گئی تو دنیا کا کون سا اسلامی ملک اس سے بچ پائے گا۔ مگر تف ہے کہ کسی کان پہ جوں بھی رینگی ہو۔ باغی کامیاب ہوئے تو جشن امریکہ اور حواری خلیجی ممالک نے منایا ۔ بشار الاسد کامیاب ہوا تو جشن ترکی، ایران اور روس اتحاد نے منایا۔ شامی عوام کو کیا حاصل ہوا۔ تباہی، لاشیں، خون اور بارود۔ جب سے بشار کی حامی فوجوں نے حلب پر کنٹرول حاصل کیا ہے اس کو مخصوص گروہ کی نسل کشی قرار دیا جانے لگا ہے۔ میں حیران ہوں ایسے تجزیہ کاروں پر کہ انہیں ایک مخصوص گروہ کے مرتے لوگ کیوں نظر آتے ہیں۔ انہیں صرف شامی کیوں نہیں کہا جاتا۔ گولی کیا کوئی فرقہ دیکھتی ہے۔ بارود کیا رنگ ، نسل یا فرقہ دیکھ کر چیتھڑے اُڑاتا ہے۔
اس وقت شام عالمی طاقتوں سمیت دنیا بھر کی کھینچا تانی کا شکار ہے۔ یہ تاریخی ملک عالم اسلام پر چھائی اس مجموعی بے حسی کا شکار ہو رہا ہے جس پہ مفادات کی گرد پڑی ہوئی ہے۔ ایران اپنے مفادات حاصل کر رہا ہے۔ سعودی عرب اپنے مقاصد پورے کر رہا ہے۔ عالمی طاقتیں اپنی باہمی مخاصمت میں ایک دوسرے کو آنکھیں دکھا رہی ہیں۔ مگر ان شامی بچوں کا کیا قصور ہے جنہوں نے آنکھ ہی بارود کی بو میں کھولی۔ جو اپنی ٹانگیں اور بازو کھو کر تا عمر اپاہج رہیں گے۔ قصور اس شامی نسل کا کیا ہے جو روایتی عالمی و مسلم امہ کی بے حسی کا شکار ہو رہی ہے۔
بشار الاسد اچھا ہے یا برا خدارا شامی عوام کو فیصلہ کرنے دیجئے ۔ جنگ سے تباہ حال اس ملک میں کسی نہ کسی طرح ایک ریفرنڈم کی راہ ہموار کیجئے جو تمام عالمی و اسلامی طاقتوں و اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ہو۔ جس میں صرف عوام سے یہ جانا جائے کہ انہیں بشار الاسد بطور حکمران قبول ہے یا نہیں۔ اگر جواب انکار ہو تو بشار الاسد کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔ اور اگر جواب ہاں میں ہو تو عالمی طاقتوں کو شام کی جان چھوڑنے کے لئے کہا جائے۔ مضبوط فوج کے قیام تک شامی حکومت کی رضامندی سے عالمی فوج تعینات کی جائے۔ خدارا اس ملک کو فرقہ وارانہ جنگ میں نہ دھکیلیں۔ اور نہ ہی اسے عالمی طاقتوں میں مفت کا مال سمجھ کر تقسیم ہونے دیں۔ ورنہ اسلامی دنیا کے باقی ممالک بھی غیر محفوظ ہو جائیں گے۔