سیکولر جناح

کچھ حلقوں کی جانب سے یہ مسلسل پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ایک سیکو لر شخص تھے اور ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہ تھا۔ وہ لوگ یہ تو بتاتے نہیں سیکو لر کہتے کسے ہیں۔ پہلے انہیں سیکولر کے معنی معلوم ہونے چاہئیں۔ ویبسٹر ڈکشنری کے مطابق سیکولرازم سے مراد دنیاوی امور سے مذہب اور مذہبی تصورات کا اخراج یا بے دخلی ہے۔ آکسفرڈ ڈکشنری میں سیکولرازم کے معنی وہ نظریہ کہ مذہب اور مذہبی خیالات و تصورات کوارادتا دنیاوی امور سے حذف کر دیا جائے ۔

اب قائد کے فرمودات کی روشنی میں ان کے نظریہ ریاست کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔  قائد اعظم نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن کے طلبا کو خطاب کرتے ہوئے 1941 میں کہا: ’’اسلامی حکومت میں اطاعت اور جفا کشی کا مرجع خدا کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عمل ذریعہ قرآن مجید کے احکام واصول ہیں ۔ قرآن کے احکام ہی سیاست ومعاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرتے ہیں‘‘ ایک اور موقع پر انہوں نے کہا: ’’قرآن مسلمانوں کا ضابطۂ اخلاق ہے جوتمام قوانین کو اپنا ئے ہوئے ہے۔ مذہبی رسوم ہوں یا معاشرتی معاملات تمام امور اس ضابطۂ حیات میں موجود ہیں ۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ ہر مسلمان کو قرآن کا نسخہ اپنے پاس رکھنا چاہیے اور اس طرح اپنا مذہبی پیشوا آپ بن جائے‘‘۔

مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس (1943) کراچی میں خطاب کرتے ہوئے قائد نے کہا: ’’ وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے تمام مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں۔ وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملت کی عمارت استوار ہے۔ وہ کون سا لنگر ہے جس سے امت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے۔‘‘ پھر ان سوالوں کا خود ہی جواب دیاْ: ’’وہ بندھن، وہ رشتہ ، وہ چٹان، وہ لنگر خدا کی عظیم کتاب قرآن حکیم ہے۔ مجھے یقینِ محکم ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ سے زیادہ وحدت پیدا ہوتی جائے گی ۔ ایک خدا،ایک رسول، ایک کتاب‘‘۔ علی گڑھ میں 1944 میں تقریر کرتے ہوئے کہا: ’’پاکستان کی ابتدا تو اُسی دِن سے ہوگئی تھی جب ہندوستان میں پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا۔‘‘ قیامِ پاکستان کے بعد اپنے ایک خطاب میں کہا: ’’میرا ایمان ہے ہماری نجات اس اُسوۂ حسنہ پر چلنے میں ہے جو قانون عطا کرنے والے پیغمبر نے ہمیں دیا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں پر رکھیں۔‘‘ کیا یہ ایک سیکولر شخص کے نظریات ہیں۔

قائد اعظم کے پرائیویٹ سیکریٹری کی ایچ خورشید لکھتے ہیں کہ 1944 میں جب قائد اعظم کشمیر کے دورے پر گئے اور وہاں نیشنل کانفرس کے استقبالیہ میں شیخ عبداللہ کے سپاسنامہ کے جواب میں فرمایا: "آپ نے استقبال میری ذات کا نہیں بلکہ اس لئے کیا ہے کہ میں ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کا صدر ہوں۔" بعد ازاں مسلم کانفرس کے استقبالیہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ :"ہمارا خدا ایک، رسول ایک، کتاب ایک اور دین ایک ہے۔" ان کے دورہ کشمیر کے دوران سناتن دھرم سبھا کے رہنما پنڈت شیونرائن نے اپنی طرف سے قائد اعظم پر چوٹ کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ اگرچہ میں کشمیر میں اقلیتوں کا لیڈر ہوں مگر کشمیر کا جناح نہیں ہوں۔ قائد اعظم نے مسکراتے ہوئے برجستہ کہا: ’’ پھر تو تم بد قسمت ہوئے نا، میں آپ کے مقدر کی بہتری کے لئے دعا گو ہوں‘‘۔

17 ستمبر 1944 کو گاندھی کے نام اپنے ایک خط میں تحریر فرمایا کہ: " قرآن مسلمانوں کا ضابطہ حیات ہے۔ اس میں مذہبی اور مجلسی ، دیوانی اور فوجداری ، عسکری اور تعزیری ، معاشی اور معاشرتی سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ یہ مذہبی رسوم سے لے کر جسم کی صحت تک ، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق تک ، اخلاق سے لے کر انسدادِ جرائم تک ، زندگی میں سزا و جزا سے لے کر آخرت کی جزا و سزا تک غرض کہ ہر قول و فعل اور ہر حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔ لہذا جب میں کہتا ہوں کہ مسلمان ایک قوم ہیں تو حیات اور مابعد حیات کے ہر معیار اور پیمانے کے مطابق کہتا ہوں۔" 10 ستمبر 1945  کو عید الفطر کے موقع پر پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ: " ہمارا پروگرام قرآنِ کریم میں موجود ہے۔ تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ قرآن غور سے پڑھیں۔ قرآنی پروگرام کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ مسلمانوں کے سامنے کوئی دوسرا پروگرام پیش نہیں کر سکتی۔"

25 جنوری 1948 کو عید میلاد النبی ﷺ  کے موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: " آج ہم یہاں دنیا کی عظیم ترین ہستی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزت و تکریم کروڑوں عام انسان ہی نہیں کرتے بلکہ دنیا کی تمام عظیم شخصیات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سر جھکاتی ہیں۔ وہ عظیم مصلح تھے ، عظیم رہنما تھے ، عظیم واضع قانون تھے ، عظیم سیاستدان تھے اور عظیم حکمران تھے۔ ہم ان کی تعلیمات پر عمل کرتے رہے تو کسی میدان میں کبھی بھی ناکامی نہ ہوگی۔" اپنی زندگی کے آخری سرکاری تقریب میں انہوں نے یکم جولائی 1948 کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔ صرف ایسا نظام ہی بنی نوع انسان کی خوشی اور خوشحالی کا امین و محافظ ہے۔“

یہ ہیں اس قائد کے نظریات جنہیں کچھ حلقے سیکولر بنانے پر بضد ہیں۔ اگر ان نظریات کا حامل شخص سیکولر ہوسکتا ہے تو پھر ان حلقوں کو یہ نظریات اپنانے میں کیا مسئلہ ہے ۔ محض مغربی لباس پہننے سے کوئی سیکولرنہیں ہوجاتا ۔ جو حلقے تاریخ مسخ کرتے ہوئے قائد اعظم کو ایک سیکولر شخصیت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیا وہ کوئی ایک ثبوت بھی پیش کرسکتے ہیں کہ جس میں قائد اعظم نے کہا ہو کہ پاکستان ایک سیکولر ریاست ہوگی۔