خادمِ اعلیٰ کے ساتھ ایک محفل
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 24 / دسمبر / 2016
- 5205
گزشتہ ہفتے مجھے ایک ایسے ڈنر کی دعوت ملی جس سے آپ اپنی قوم کی نبض جان سکتے ہیں۔ قوموں کی نبض جاننے کے لیے کسی بھی قوم کے سیاسی رہنماؤں اور سیاسی دانشوروں کے ساتھ گفتگو کریں تو آپ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارا مستقبل کیا ہے۔
میرے لیے یہ دعوت غیرمتوقع تھی، کسی مہربان دوست نے میرا نام اس لسٹ میں شامل کیا تھا۔ میرا یہ مہربان دوست شاید قوم کی نبض والوں کو میرے جیسے ادنیٰ شخص کی نبض سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔ میں کوچۂ سیاست سے کوچۂ صحافت میں آیا ہوں۔ یقین جانیں مجھے موجودہ کردار میں بھی کسی سیاسی دربار میں جاتے خوف آتا ہے۔ یہ جملہ میں نے اپنی تحریر کو حُسن بخشنے کے لیے لکھا ہے نہ ہی تجسس بیدار کرنے کے لیے۔ میرے سیاسی تجربات نے مجھے کسی بھی سیاسی دربار سے نفسیاتی طور پر خوف زدہ کردیا ہے کہ وہاں سیاسی راجہ یا رانی کی جس طرح عظمت بیان کی جاتی اور سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کی تذلیل کی جاتی ہے، میں اس سے بخوبی آگاہ ہوں۔ ہر سیاسی دربار میں ایسے شاہ کے اپنے نورتن ہوتے ہیں جو اس سیاسی جماعت کے بڑے بڑے عہدے دار اور وزیر مشیر کو یوں طلب کرتے ہیں جیسے کسی کمّی کو۔ معذرت کے ساتھ، پاکستان کے ہر سیاسی دربار کی ایک ہی ثقافت ہے۔ یہ دربار لاہور میں لگے یا کراچی، اسلام آباد، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، گجرات یا کسی بھی جگہ، دربار مختلف مگر دربار کی ثقافت ایک ہی اور درباری بھی ایک ہی طرح کے۔ یہ درباری، صاحبِ دربار کے سب سے بااعتماد ساتھی اور فیصلہ کن قوت رکھتے ہیں۔ ایسے درباروں میں بڑے قلم کے مجاہد یوں ادب سے بیٹھے ہوتے ہیں کہ آپ حیران رہ جاتے ہیں۔ اُن کا قلم جس طرح جابر سلطان کے سامنے حق لکھتا ہے، اس کے بالکل برعکس اِن درباروں میں اُن کی زبانیں اور نام نہاد باڈی لینگویج باادب و باملاحظہ پائی جاتی ہیں۔
میرے لیے یہ عجیب بات تھی کہ مجھے رات کو خادمِ اعلیٰ کے ساتھ ڈنر کی دعوت ملی۔ میں اپنے میزبان سے آشنا نہیں تھا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ میزبان میرے گھر سے زیادہ سے زیادہ سوقدم کے فاصلے پر رہائش پذیر ہے۔ میزبان نے بڑی محبت اور ادب سے نہ صرف مجھے دعوت دی بلکہ کمرۂ محفل میں میری نشست بھی ریزرو تھی۔ میں اپنی اس قدر عزت افزائی پر حیران تھا۔ میرا سیاسی تجربہ میری قلم نگاری میں ایک عجیب حیثیت رکھتا ہے۔ مجھے علم ہے کہ سیاسی قائدین کی قربت کے دعوے کرنے والے قلم کار یا کالم نگار دعویٰ کیے گئے سیاسی رہبر کے دل میں کس قدر مقام رکھتے ہیں۔ یہ سب ضرورت کے رشتے ہیں، سب مادی رشتے۔ اس کا محبت اور قربت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ میں نے اپنے ذرائع سے جاننا چاہا کہ خادمِ اعلیٰ کے اعزاز میں دئیے گئے اس ڈنر کی کیا حقیقت ہے، تو معلوم ہوا کہ میزبان، وزیراعلیٰ پنجاب کے ذاتی دوست ہیں اور انہی کے ہاں سال میں ایک سے زیادہ مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف مخصوص لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں اور عوام کی نبض ٹٹولنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ مجھے یقین تھا کہ وہاں بڑے بڑے کالم نگار اور اینکرز بھی موجود ہوں گے اور اس دربار میں بھلا ہماری کیا حیثیت۔ مگر ایسا نہیں تھا۔ وہاں پر صرف دو طاقتور کالم نگار موجود تھے، باقی سب گمنام چہرے۔ میاں شہباز شریف تشریف لائے اور مصروف خادمِ اعلیٰ نےخوب وقت دیا ۔
میزبان نے میاں شہباز شریف کا تعارف کرواتے ہوئے یہ راز بھی فاش کیا کہ خادمِ اعلیٰ کی شخصیت کی ایک جہت کا علم کم ہی لوگوں کو ہے۔ یہ میزبان خادمِ اعلیٰ کے گہرے دوست ہیں اور اس گہرے اور قدیم تعلقات پر انہوں نے خادمِ اعلیٰ کی شخصیت کی اس روحانی جہت سے محفل میں موجود ڈیڑھ درجن لوگوں کو آگاہ کیا کہ جو آج تک ہم جیسے کروڑوں لوگوں سے مخفی رہی۔ ہم اپنے صوبے کے حکمران کی حکمرانی سے تو پچھلے تیس سالوں سے آگاہ تھے لیکن روحانیت سے نہیں۔ میزبان نے اس حوالے سے خادمِ اعلیٰ پنجاب کے دو روحانی واقعات بھی بیان کیے، جو کسی ولی اللہ کے معجزوں سے کم نہیں تھے۔ صاحب دربار بھی بڑے تجربہ کار ہوتے ہیں۔ اُن کو درباریوں کے کلام وبیان کا خوب اندازہ ہوتا ہے اور وہ ایسے بیانات لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ میزبان نے نہایت محبت اور احترام سے اس روحانی اور حکمرانی کی ملی جلی محفل میں طویل بیان فرمایا ۔ سامعین اور حاضرین نے بڑے ادب سے اس راز کو سنا۔ ایک کیفیت تھی جو سب پر طاری کردی گئی۔ محفل میں کالم نگاری کی دعوے دار ایک خاتون بھی تشریف فرما تھیں اور ان کے ہمراہ دو بچیاں بھی تھیں جنہوں نے روحانی یا صوفیانہ کلام پیش کیا۔
یہ خاتون رہتی تو ’’دیارِغیر میں‘‘ ہیں اور دل دھڑکتا ہے وطن میں۔ میرے جیسے افتادگانِ خاک کے لیے ایسے لوگ ایک معمہ ہیں جو مغرب کے مرہون منت ہیں۔ وہاں کی دولت اور سہولیات بھری زندگی سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں، اُن کا پاسپورٹ اور شہریت بھی حاصل کرتے ہیں اور پھر اُسی وطن کو ’’دیارِغیر‘‘ بھی قرار دیتے ہیں۔ تارکِ وطن بھی ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو ’’محب وطن تارکِ وطن‘‘ بھی قرار دیتے ہیں۔ کالم نگاری میں وہ اکثر لکھتی ہیں، ’’امریکہ میں مقیم پاکستان کی بیٹی‘‘ بلکہ اپنے کالموں کی اشاعت کاری کو ممکن بنانے کے لیے وہ یہ بھی دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ ایک اخبار کے مالک وایڈیٹر مرحوم اُن کو اپنی بیٹی قرار دیتے تھے۔ قربان جاؤں، دیارِغیر میں رہنے والے تارکِ وطن محب وطنوں کی ایسی محبتوں کے۔ مگر اس خاتون نے اپنے ہمراہ لائی بچیوں ے ذریعے محفل کو خوب روحانیت فراہم کی، جنہوں نے خادمِ اعلیٰ کی سیاسی وروحانی محفل میں صوفیانہ کلام پیش کرکے چار چاند لگا دئیے۔
میزبان نے اپنے طویل بیان کے بعد محفل کو حاضرین کو گفتگو کی اجازت دے دی۔ اب آپ جان سکتے ہیں کہ محفل کا جو سماں باندھ دیا گیا تھا، اس میں ہمارے جیسے شخص کے بولنے کی تو کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اور باقی لوگوں کے لیے جو فریم ورک تیار کیا گیا اس میں گستاخی کی گنجائش نہ تھی۔ تو بس پھر اس دربار کے ایک کارِخاص نے محفل میں خادمِ اعلیٰ کی روحانیت، سیاست وقیادت پر گفتگو کرتے ہوئے روشنی پھیلا دی اور ان صلاحیتوں کا دائرہ بھی پھیلا دیا کہ وہ اس خاندان کو دہائیوں سے جانتے ہیں۔ اُن جیسی عظمت، فراست، قیادت، صلاحیت بھلا اور کہاں۔ خوب بولے۔ جی بھر کر بولے۔ دل کھول کر بولے۔ اس کے بعد ایک طاقتور قلم کے دھنی نے اپنی زبان، دل اور روح کو یکجا کرکے جس طرح صاحبِ دربار کی خوبیاں بیان کیں تو ہمارے پاس کوئی مقام ہی نہ بچا کہ جہاں کھڑے ہوکر ہم کچھ کہتے۔ ہمیں دعوت دینے والے کو علم تھا کہ اب اسی فریم ورک میں بات کرو تو بات بنے گی۔ اور ہم ٹھہرے مکمل نالائق ۔ اس طاقتور قلم کے دھنی نے جو گیت گائے، وہ ایسے ہی گیت ہر دربار میں گاتے چلے آئے ہیں، بس صرف نام بدلتے ہیں الفاظ وہی رہتے ہیں۔ مزید لوگوں کو بھی بولنے کا موقع ملا۔ مگر کیا بولے کہ لب تو آزاد ہی نہیں، جب بات قیادت سے آگے روحانیت تک چلی جائے۔
سب کے بعد خادمِ اعلیٰ کے سامنے شمع رکھی گئی۔ انہوں نے چین، جاپان، جرمنی اور کوریا کی ترقی کی مثالیں دیں۔ تیس سال حکمرانی کرنے والے خاندان کا فرزند مجھ جیسے گلیوں میں جدوجہد کرنے والے شخص کے سامنے پاکستان کی ناکامی پر آنسو بہا رہا تھا۔ اپنی قیادت کے چرچوں کی داستان کہ کیسے باہر کی دنیا بھی اب اُن کی قائدانہ صلاحیتوں کی مداح ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طویل بیان میں انہوں نے جو کامیابیاں گنوائیں، اس میں کہیں تعلیم، صحت، انڈسٹریلائزیشن، زراعت اور عوامی اصلاحات کا ذکر نہیں تھا۔ آجا کے چند غیرملکی سرمایہ کاروں کے سبب چند پاور پلانٹس کے سوا اُن کے پاس کامیابی کی داستان سنانے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ محفل میں موجود تمام سر خوب ہل رہے تھے اور چہرے خوب مسکراہٹیں پھیلا پھیلا کر خادمِ اعلیٰ کی تائید میں پیش پیش تھے۔
خادمِ اعلیٰ پنجاب نے جاپان سے جرمنی تک ترقی کی کہانیوں کا واسطہ دے کر اپنے اس ملک کی بربادی کا خوب رونا رویا جہاں وہ تیس سالوں سے حکمران ہیں۔ اکیلے نہیں پورا خاندان۔ ہم بالکل خاموش تھے بلکہ چپ ہی سادھ لی تاکہ ہمارا ایک لفظ بھی کہیں اس مقدس سیاسی وروحانی محفل کو آلودہ نہ کردے۔ خادمِ اعلیٰ نے دوسروں کی ترقی کی داستانیں اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بازگشت تفصیل سے بیان کی اور اس کے بعد کھانا پیچ کیا گیا۔ کیا شاندار کھانا تھا۔ حقیقی پلاؤ، خیالی نہیں، یعنی یخنی پلاؤ۔ نام نہاد بریانی نہیں، نایاب شب دیگ، خاندانی اوجڑی اور مخصوص پنجابی آلو گوشت۔ کھانے کی میز پر خادمِ اعلیٰ کے ہمراہ طاقتور قلمکاروں کے علاوہ ہمیں بھی بیٹھنے کی دعوت دی گئی۔ ہماری خاموشی نے رنگ دکھایا۔ اسی لیے تو ڈائننگ ٹیبل پر کرسی پیش کی گئی۔ کھانے کی لذت نے محفل کو دوبالا کردیا۔
اب غیررسمی انداز میں درباری تعریفوں کے بڑے بڑے پُل تعمیر کر رہے تھے۔ باغی دل یکدم بولا۔ بلکہ ہم نے دل پر ہاتھ رکھ کے کہا: “میاں شہباز شریف صاحب، آپ نے خوب پُل، فلائی اوورز، انڈرپاس، میٹرو اور اورنج لائنز بنوائیں۔ لیکن شہروں میں فٹ پاتھ ختم ہوتے جا رہے ہیں اور نئے بن نہیں رہے۔ پیدل چلنے والے کہاں چلیں۔“ خادمِ اعلیٰ نے اس نشان دہی پر داد بھی دی اور ہمدردی بھی کی۔ لیکن کمال ہے درباروں میں مقام پانے والے کیسے کیسے الفاظ اور بیان سے کھیلتے ہیں۔ اس دربار کے کارِخاص نے اس سنجیدہ بات کو غیراہم کرنے کے لیے مزاح کا رنگ دیا اور قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، جب تک فٹ پاتھ نہیں بنتے، پیدل چلنے والوں کو کہیں پارکوں میں چلیں۔
باغی دل جوش میں آیا۔ قابو کرتے ہوئے ہم نے کہا: “میں ایک سنجیدہ مسئلہ عرض کررہا ہوں، جس پر کروڑوں نہیں لاکھوں میں لاگت آتی ہے۔ ذرا شہر میں روز پیدل چلنے والوں کے مرنے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد معلوم کریں تو آپ کو معلوم ہوکہ پیدل چلنے والے کہاں بستے اور چلتے ہیں۔“
بات قہقہے اور کھانے کی لذت میں مل کر آئی گئی ہوگئی۔ کہ یہ مسئلہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں، بڑے مسئلے پُل اور انڈر پاس ہیں جہاں پیدل چلنے والوں کو کچلا جاتا ہے۔ کہاں جائیں پیدل چلنے والے...