سی پیک یا یاجوج ماجوج کا روٹ
- تحریر میاں وقاص ظہیر
- اتوار 25 / دسمبر / 2016
- 16249
بچپن میں اکثر بزرگ ایک قوم کے قصے اور کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ کہ اس قوم کے گرد نمک کی دیوار تعمیر کی گئی تھی، وہ سارا دن اسے چاٹتے رہتے۔ حتیٰ کہ رات ہوجاتی ہے۔ اگلی صبح وہی نمک کی دیوار دوبارہ اصلی حالت میں موجود ہوتی ہے جسے سب لوگ دوبارہ چاٹنا شروع کردیتے۔
بچپن میں ایسی بے شمار جادوئی کہانیاں سنتے تو محسوس ہوتا کہ یاجوج ماجوج کوئی مافوق الفطرت قوم ہوگی۔ شعور کی آنکھ کھلی اور قرآن اور دیگر علوم کا مطالعہ کیا۔ تذکرہ دجال میں اس قوم کے بارے میں پڑھنے کا ۔ علم ودانش سے وابستہ افراد کے مقالات بھی پڑھے جن کا کہنا ہے کہ یہ تصور غلط ہے کہ یاجوج ماجوج بنی آدم میں سے نہیں ہیں۔ یہ دعویٰ بھی موجود ہے کہ یاجوج ماجوج اوردجال قربِ قیامت کے نزدیک زمین کے بیش بہا خزانوں کی مالک ہوں گی۔ پہاڑوں سے اتر کرآئیں گی اور جو قوم ان کی بات نہیں مانے گی، ان کا قتل عام کریں گے۔ یہ لوگ جدید سائنس وٹیکنالوجی سے زمین سے قدرتی وسائل تیزی سے باہر نکال لیں گے۔ جو وسائل پچھلے ہزاروں سالوں میں بھی نہیں نکل سکے ہوں گے، ان کو دستیاب ہوں گے۔ جوقومیں ان کی بات مان لیتی ہیں ان کومالامال کردیں گے جوانکارکریں گے، ان پر تباہی نازل کریں گے۔ اسی وقت حضرت عیسیٰؑ اورامام مہدیؑ کا نزول ہوگا جوایمان لانے والے مسلمانوں کو فتنہ دجال وقیامت کی تباہی سے بچائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا تو روز اوّل سے ہی اس کے اندر معاملات کو سمجھنے کا مادہ پیدا کیا۔ اس کےلئے انسان نے کبھی وجدان کا سہارا لیا اورکبھی اپنے تصور کو عملی شکل دی۔ گزشتہ ڈیرھ سال سے میں بھی ملک کے دیگر لوگوں کی یہ بات باربا ر سن رہا ہوں کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) چین کی طرف سے تحفہ ہے۔ اس سے ملک میں تجارت کے نئے امکانات پید ا ہوں گے۔ بیروزگاری کا خاتمہ ہونے کے ساتھ اس بات کا بھی تاثر دیا جار ہاہے کہ سی پیک کے مکمل ہوتے ہی یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہوجائیں گی۔ جو کام 70 برس میں نہیں ہو سکے ، وہ اب پایہ تکمیل تک پہنچیں گے۔ چین اور پاکستان کی دوستی ہماری کوہ ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری ہے۔ اسی لئے گویا چین یہ منصوبہ پاکستان کو تحفے میں دے رہا ہے۔
اگر آپ چند منٹ کےلئے تعصب اور خوش فہمی کی عینک اتار کر دماغ میں کسی بھی بدگمانی لائے بغیر اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالیں اور غور وفکر کریں تو پتہ چلے گا کہ یہاں تو خونی رشتہ بھی بغیر مفادات اور لالچ کے قائم نہیں رہتے۔ ایک ماں کے پیٹ سے جنم لینے والے بچوں کے سوچنے ، سمجھنے کے انداز مختلف ہوتے ہیں۔ پھر پاکستان جیسے ملک کو جس کے عالمی سطح پر کرپشن کے چرچے ہیں ، جس کے باشندوں کو بیرون ممالک کے ایئر پورٹس پر ہتک آمیز رویہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بیرونی ممالک کی سینکڑوں کمپنیوں نے ان پر ملازمت کے دروازے بند کررکھے ہیں جس قوم کے پاس اٹیم بم کے سوا کچھ بھی نہ ہو۔ نہ اچھی گورننس ہو ، نہ صحت و تعلیم کی سہولیات، نہ انصاف ، نہ بنیادی حقوق کا تحفظ اور معاشرہ میں طاقتور کمزورکا اور امیر غریب کا استحصال کرنے پر آمادہ و تیار ہو۔ تو سوچنے کی بات ہے کہ چین جیسی عالمی طاقت کسی مفاد اور لالچ کےبغیر کثیر سرمایہ کاری کرے گی۔
یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اس منصوبہ کا فائدہ پاکستان کو کتنا ہوتا ہے اور چین اس سے کیا مفادات حاصل کرتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ واقع ہی صاف وشفاف ہے تو اس کے معاہدوں کی دستاویزات کیوں پبلک نہیں ہوسکیں۔ یا یہ بھی میٹرو بس ، اورنج ٹرین اور دیگر منصوبوں کی طرح ملک و قوم کو رہن رکھنے کی کوشش ہے۔ خیر اس کی قلعی بھی ایک دن وقت کھول ہی دے گا ۔ میں نے بات یاجوج ماجوج کے تذکرہ سے شروع کی تھی کہ یہ قوم پہاڑوں سے اتر کر میدانوں میں آئے گی، تو یاد رکھیں سی پیک منصوبہ بھی پہاڑوں سے شروع ہو کر میدانوں تک آرہاہے۔
سی پیک کہیں یا جوج ماجوج کا روٹ تو نہیں اس پر ضرور سوچئے گا ۔