مبارک مبارک سردار گروپ جیت گیا

اس وقت ضلع چکوال میں مبارک سلامت گونج رہی ہے۔ حال ہی میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے سردار صاحب کا گروپ چکوال ضلع کا چیئرمین اور نائب چیئرمین منتخب کروانے میں کامیاب ہوگیا۔ یوں مسلم لیگ نے چکوال فتح کر لیا۔

یہ ایک سردار صاحب کی سیاسی سر گزشت نہیں بلکہ پنجاب کی روایتی سیاست کی داستان ہے۔ سردار غلام عباس 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد آمریت کی کوکھ سے جنم لینے والی مسلم لیگ کے ہمسفر بنے اور پھر جنرل ضیاء الحق کے طیارہ حاد ثے میں ہلاک ہونے کے بعد بحالئ جمہوریت کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو کے ٹرک پر سوار ہوگئے۔ 1990 کی دہائی میں صوبائی وزارت کے دوران وہ اپنے خود کو محترمہ بے نظیر بھٹو کا بھائی کہلاتے تھے۔ لیکن جب جنرل پرویز مشرف کا مارشل لاء پوری آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوا تو وہ مسلم لیگ (ق) میں شامل ہو کر اقتدار کی کوہ قاف وادی میں داخل ہو گئے۔

اُن دنوں جب بھی وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کا ہیلی کاپٹر چکوال اُترتا تو اس کا دروازہ کھولنے اور ان کے گلے میں ہار ڈالنے کا فریضہ سردار صاحب ہی انجام دیتے۔ چوہدری پرویز الٰہی کی مشہور تقریر جس میں جنرل مشرف کا بار بار وردی میں صدر منتخب کرنے کا اعلان کیا گیتھا، اس میں بھی سردار غلام عباس ان کے شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیتے تھے۔

واقعی چکوال کے لوگ مشکل وقت میں تعلق نبھانا جانتے ہیں۔ جب جنرل مشرف کو وکلاء بحالی تحریک کا سامنا تھا تو چکوال سے سردار صاحب جلوس لے کر12مئی2007 کو اسلام آباد پہنچے اور پرویز مشرف کے اجتماع کو رونق بخشی۔ اسی جلسے میں  جنرل مشرف نے اجتماع کو عوامی طاقت کا اظہار قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ اسی دن کراچی میں چیف جسٹس افتخار چوہدری ائر پورٹ پر محبوس رہے اور کراچی شہر میں 80 کے لگ بھگ لوگ شہید ہوئے۔

سردار غلام عباس  ق لیگ سے الیکشن ہارنے کے بعد تبدیلی کے علمبردار عمران خان کے ٹرک پر سوار ہوئے۔ تحریکِ انصاف کے پلیٹ فارم سے انہوں نے اِس عزم کا اظہار کیا کہ اب ان کی سیاست کا حصول اقتدار نہیں بلکہ پاکستان ہے۔ لیکن جب تحریکِ انصاف انتخابات میں کامیاب نہ ہو سکی تو انہوں نے اس سے اپنی سیاسی راہیں جدا کر لیں اور آزاد حیثیت میں سردار گروپ کے نام سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا۔ انتخابات کے دوران مسلم لیگ (ن) کی زرعی پالیسیوں، مہنگائی، لاقانونیت، کرپشن کو ہدف تنقید بنایا۔ البتہ بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے۔

چند روز قبل ان کا بیان نظر سے گزرا کہ آج سے میرا جینا مرنا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہے۔ اور وہ اچھے برے وقت میں مسلم لیگ (ن) کے ہی ساتھی رہیں گے۔
ان کا یہ بیان پڑھ کر جنوبی پنجاب کے معروف زمیندار سیاستدان یاد آ گئے جو ہر دفعہ نئی سیاسی پارٹی میں شامل ہوتے۔ جب میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے دلچسپ جواب دیا کہ وہ تو ایک ہی پارٹی یعنی حکومت میں شامل ہوتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ حکومت پارٹیان بدلتی رہتی ہے۔ یعنی مختلف پارٹیوں کی حکومت قائم ہوتی ہے۔ آفرین ہے چکوال کے باشعور اور پڑھے لکھے عوام پر جو ان سرداروں کی جیب میں پڑی ہوئی گھڑی کی طرح ہر نئی سیاسی پارٹی کے ہم رکاب اور ووٹر بن جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایک سردار صاحب ہی نہیں میرے ضلع کی دیگر سیاسی شخصیات بھی اسی طرح کا سیاسی کردار رکھتی ہیں۔