جب بے نظیر بھٹو شہید کی گئیں

محترمہ بے نظیر بھٹو سے میری پہلی ملاقات طلبا کے وفد میں شامل ایک رکن کی حیثیت سے ہوئی۔ یہ ملاقات ستمبر 1978 کو سابق صدر فاروق لغاری مرحوم کے لاہور میں واقع گھر پر ہوئی۔ اُن دنوں ذوالفقار علی بھٹو پابند سلاسل تھے اور اپنے خلاف مقدمہ قتل کا سامنا کررہے تھے۔ اس وقت تک جنرل ضیا دھیرے دھیرے اپنا آہنی جال پھیلا کر پی پی پی کی سرگرمیوں کو نہایت محدود کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔

اس ملاقات کا اہتمام طلبا امور کے انچارج پیر سید ناظم حسین شاہ اور جہانگیر بدر مرحوم نے کیا تھا۔ ہم تقریباً سات طلبا ہوں گے اور لان میں موجود پی پی پی کے ورکرز کی تعداد ڈیڑھ درجن سے زیادہ نہ تھی۔ بے نظیر بھٹو سے ملاقات کا مطلب جیل ہوتا تھا، لہٰذا اس قدر خوف کی فضا میں سترہ سال کا ایک نوجوان جو ولولہ رکھتا ہوگا، اس کا اندازہ جبر کے اس خوف کی فضا سے کیا جاسکتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے  طلبا سے ملاقات کرتے ہوئے جو گفتگو کی، اس میں ابھی وہ گہرائی نہیں تھی جو بعد میں سخت جدوجہد کے سبب اُن کی شخصیت میں بڑھتی چلی گئی۔ وہ خود بھی ابھی اوائل نوجوانی میں تھیں، باپ کے پابند سلاسل کیے جانے کے بعد ملک میں ایک آمر کے خلاف سینہ سپر ہو جانا اس عمر کی لڑکی کے لیے کوئی آسان کام نہ تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو میں جرأت کا سبب ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت ہی تھی۔  اس دن کی تصویر کہ جب وہ ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ  لوگوں سے لغاری مرحوم کے گھر میں کرسی پر کھڑی ہوکر خطاب کررہی ہیں، انہوں نے اپنی کتاب دختر مشرق Daughter of the East میں بھی شامل کی۔ اس تصویر میں قیوم نظامی نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں۔ اور راقم اُن کی بائیں جانب کھڑا ہے۔ یہ خوف کے دنوں کی جدوجہد کا آغاز تھا۔ اس کے بعد جو کچھ ان کے خاندان، پارٹی اور  پارٹی کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ ہوا ، وہ آگ و خون کا دریا تھا۔ اس جدوجہد کا پرچم بیگم نصرت بھٹو نے بلند کیا اور بے نظیر بھٹو کی شخصیت سازی اور جدوجہد کی تربیت کا بیڑا بھی اٹھایا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان میں جس جدوجہد کی قیادت کی، اس کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی اور پھر انہوں نے اپنے خون سے اس کو جِلا بخشی۔ اپنے والد کی پھانسی کے وقت وہ اپنی والدہ کے ہمراہ پابند سلاسل تھیں۔ چادرا ور چار دیواری کے دعوے دار جنرل ضیا نے بے نظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کو ذوالفقار علی بھٹوکی پھانسی کے بعد بھی ان کا چہرہ دیکھنے کی اجازت نہ دی۔  بھٹو کا جنازہ کسی دردناک کہانی سے کم نہیں۔ جلدی میں پھانسی کی سزا، جیل میں غسل کا اہتمام اور مار دئیے جانے کے بعد ختنے دیکھنے کے لیے سرکاری سطح پر کیمروں کا انتظام، جنرل ضیا جیسا شخص ہی کرسکتا تھا۔ اور اس کے بعد ایک طیارے پر ان کا جسدخاکی لے جانے کا اہتمام جس کے پائلٹ کو یہ علم نہ تھا کہ وہ کس لیے پرواز کررہا ہے۔ جب پائلٹ کو علم ہوا تو اس نے جہاز راستے میں ہی لینڈ کردیا کہ میں اس قابل نہیں کہ پرواز جاری رکھ سکوں۔ لینڈنگ کے بعد دوسرا پائلٹ، پھر سکھر ایئرپورٹ پر لینڈنگ اور سکھر سے ایک فوجی ہیلی کاپٹر میں تابوت لادا گیا اور صبح کے پہلے پہر سخت نگرانی میں مت گڑھی خدا بخش پہنچائی گئی۔  دفنائے جانے کی فلم بندی کی گئی تاکہ حاکمِ وقت کو یقین ہوجائے کہ بھٹو کو دفن کردیا گیا ہے۔ لیکن دفن کیا جانے والا بھٹو اس سے دفن نہ ہوسکا۔
گور پیا کوئی ہور

جس بیٹی کے والد کے جنازے میں درجن بھر لوگوں کو شامل ہونے کی اجازت دی جائے، آپ اس نوجوان بیٹی (بے نظیر بھٹو ) کی کیفیت پوچھیں۔ جس کی مقبولیت کا یہ عالم ہو کہ جلسہ کرے تو پانچ پانچ لاکھ لوگ اکٹھے ہوجائیں۔ اس دہشت کو قائم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اب کوئی بھٹو کا نام نہ لے۔ تاکہ بھٹو کو ایک نشانِ عبرت بنا دیا جائے۔ جیساکہ امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا۔ بے نظیر بھٹو اس پارٹی کی قائد بنیں۔ بس ذرا غور کریں کہ کتنا مشکل کام ہوگا جس کا بیڑا نہوں نے اٹھایا۔ بے نظیر بھٹو کو پابند سلاسل اس لیے نہیں کیا جاتا رہا کہ وہ کسی کرپشن سکینڈل میں ملوث تھیں، اُن کا قصور بھٹو کی بیٹی ہونا اور ان کی جدوجہد جاری رکھنا تھا۔ جدوجہد کے اس کارواں کی کہانی بہت طویل اور دل دہلا دینے والی ہے۔ یہ جرأت، بہادری اور وفاداری سے بھی لبریز ہے اور دغابازی  Betrayal سے بھی۔ پی پی پی کے کارکنوں نے ہی بے نظیر بھٹو کو ’’دخترِ مشرق‘‘ بنایا، جیسے انہوں نے ان کے والد کو ’’فخرِ ایشیا‘‘ بنایا تھا۔ اس ساری داستان کے ہیرو وہ کارکن ہی ہیں جنہوں نے اپنے قائد ذوالفقار علی بھٹو کی جواں سال بیٹی کو ملک کا لیڈر بنا ڈالا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو مجھ جیسے نوجوان سیاسی جدوجہد کرنے والوں کی اس وقت لیڈر قرار دی گئیں جب ملک میں دہشت ہی دہشت اور وحشت ہی وحشت تھی۔ اسی دہشت سے آج کی دہشت گردی نے جنم لیا۔ بے نظیر بھٹو کی کہانی اپنے اندر بہت سے پہلو لیے ہوئے ہے۔ دوبار وزارتِ عظمیٰ حاصل کرنے والی دنیا کی اس نامور خاتون کے ساتھ ہزاروں نہیں لاکھوں کہانیاں جڑی ہیں۔ مجھے وہ دن بھی بخوبی یاد ہے جب اگست 1985 میں وہ اپنے بھائی شاہنواز بھٹو کی میت فرانس سے لے کر موہنجوداڑو ایئرپورٹ پر اتریں۔ میں اُن نوجوانوں میں شامل تھا جنہوں نے وہ بھاری بھرکم تابوت اپنے کندھوں پر اٹھا کر المرتضیٰ کے لان میں رکھا۔ تابوت پر افغان صدر بیبرک کامل کی طرف سے پیش کیا گیا گُلدستہ ان کے نام کے کارڈ کے ساتھ رکھا تھا۔

اُن دنوں امریکہ کابل میں موجود ان افغان اشتراکیوں کو کافر اور اپنے آپ کو اللہ کے ماننے والوں کا مشترکہ اتحادی قرار دیتا تھا۔ انہوں نے بھٹو کے دونوں بیٹوں مرتضیٰ اور شاہنواز کو وہاں پناہ بھی دی اور دونوں بیٹے دو افغان دختروں کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ میں نے بے نظیر بھٹو کو جدوجہد کرتے ہوئے ایک ادنیٰ ساتھی کی حیثیت سے دیکھا۔ اور پھر اس کاروانِ جدوجہد کو اقتدار کے ہوس زدوں میں شامل ہوتے بھی دیکھا اور اُن کے خلاف پارٹی کے اندر جدوجہد بھی کی۔ جس کی قیادت میں صرف میلے کچیلے کپڑوں والے شامل تھے۔ اس میں بڑی بڑی گاڑیوں، جاگیروں، پیرخانوں، نو دولتیوں کو عزت پاتے بھی دیکھا۔ جدوجہد کی پارٹی کو اقتدار کے دَر پر مفاہمت کرتے بھی دیکھا۔ میری زندگی کے تجربات میں یہ سب سے بڑا تجربہ تھا جس نے میرے جیسے ادنیٰ علم رکھنے والے شخص کو اَنہونے سیاسی واقعات سے یوں آگاہ کیا کہ اس جیسا علم مجھے مطالعہ کی جانے والی ہزاروں کتابوں میں نہ مل پایاکہ سیاست اور جدوجہد کیسے اپنا رنگ بدلتی ہے۔ بے وفائی نیچے سے نہیں اوپر سے ہوتی ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میرے لیے تین وجوہات کی بنا پر قابل احترام ہیں، ایک یہ کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی تھیں۔ دوسرے انہوں نے اپنے والد کی جدوجہد کا پرچم سربلند کیا۔ تیسری وجہ یہ  کہ وہ ایک لڑکی ہوتے ہوئے مردانہ معاشرے میں ’’بازار میں پابجولاں‘‘ چلیں۔ میری زندگی کا ایک عجب اتفاق ہے کہ اگر میں تواہم پرست ہوتا تو کسی بڑے کی طرح روحانیت کا دعویٰ کرتا لیکن میرے نزدیک یہ محض اتفاقات ہیں۔ میں اُن کی شخصیت اور سیاست کا مداح بھی رہا اور نقاد بھی۔ لیکن میری تنقید تعمیری تھی، کردار کشی نہیں۔ یہ اتفاق میرے لیے آج بھی معمہ ہے کہ جب انہوں نے جنرل پرویز مشرف سے رابطے کیے، انہی دنوں میں نے سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی) جوائن کیا کہ اب سیاست کھلے گی۔ ٹی وی انتظامیہ میرے نظریات کے سبب خائف تھی، اسی لیے مجھے کوئی پروگرام نہ دیا گیا۔ لیکن جس روز وہ شہید کی گئیں، اس سے ایک روز قبل مجھے پی ٹی وہ ہیڈ کوارٹر سے آئندہ انتخابات کی ٹرانسمیشن کے لیے خصوصی طور پر اسلام آباد طلب کیا گیا۔ جس وقت وہ راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کررہی تھیں، میں اس وقت پی ٹی وی کے ڈائریکٹر شکور طاہر کے دفتر میں ایم ڈی پی ٹی وی یوسف بیگ مرزا کے ساتھ چند روز بعد انتخابات کی نشریات کی تیاری کے لیے بیٹھا تھا۔ یکایک خبر آئی، محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کردی گئیں۔

بس پھر کیا تھا، شکور طاہر اور ایم ڈی صاحب دوڑتے ہوئے میرا بازو پکڑ کر مجھے نیوز روم میں چھوڑ آئے کہ چلو نشریات کرو۔ آہ! کیا کروں۔ مجھے نیوز کاسٹ زبیر صدیق کے ساتھ بٹھا دیا گیا۔ دل عجیب کیفیت میں تھا۔ 1977 سے 2007 تک تیس سال کا سیاسی سفر اور مشاہدہ۔ حکومت جنرل پرویز مشرف کی، قتل بے نظیر بھٹو کا۔ کیوں اور کیسے ہلاک ہوئیں۔ بس پھر مجھے نہیں معلوم کیا ہوا، میں نے سکرین پر نمودار ہوتے ہوئے کہا، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کردی گئیں۔ پورا ملک آگ میں جلتا رہا۔

راقم نے تین دن مسلسل بے نظیر بھٹو پر چھتیس گھنٹوں سے زائد نشریات کیں اور ایک مرتبہ مسلسل دس گھنٹے۔ موضوع تھا، بے نظیر بھٹو شہید، ذوالفقار علی بھٹو، اُن کی پارٹی اور جدوجہد، سیاسی فلسفہ، اور اس خاندان کا کردار جس نے آج اپنا چوتھا فرد لوگوں کے حقوق کے لیے قربان کردیا۔ میرے لیے یہ سب کچھ ابھی تک سمجھ سے بالاتر ہے۔ تین دن مسلسل بڑے سے پی ٹی وی سٹوڈیو میں جہاں صرف میرے چہرے پر روشنی تھی اور چاروں طرف اندھیرا۔