سیکولر ازم اور مذہب کی بحث
سیکولرازم ایک عمرانی نظریہ ہے ۔ ایک مہذّب طرزِ معاشرت ہے ۔ سیکولرازم کوئی مذہب یا مذہبی فرقہ نہیں ہے ۔ متعّصب ، اور مذہبی تنگ نظر لوگ ، سیکولر کا ترجمہ لادین کرتے ہیں جوکہ قطعی غلط ہے ۔ سیکولرازم میں ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ سیکولر کا ترجمہ لادین کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ایک سیکولر معاشرے میں ریاست لادین ہوتی ہے مگر اس ریاست کے باشندے لادین نہیں ہوتے۔ اُن کا کوئی نہ کوئی مذہب ضرور ہوتا ہے ۔ ہمیں یہاں اسی بنیادی فرق کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
پاکستان کے حوالے سے متعّصب ، اور مذہبی تنگ نظر لوگ یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ سیکولرازم کے حامی پاکستان کے کے عوام کو لادین بنا کر ان سے ان کا مذہب اسلام چھیننا چاہتے ہیں۔ یا ان کو مذہب اسلام سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کم علمی اور جہالت پر مبنی پروپیگنڈا ہے۔ جس کا واضح مقصد معصوم عوام کو گمراہ کرکے ان کو مہذّب طرز معاشرت اور جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے ثمرات سے محروم رکھنا اور معاشرے میں مذہب کے عمل و دخل کی آڑ میں معاشرے پر ملّاؤں اور مذہبی دہشت گردوں کے کنٹرول اور اجارہ داری کو قائم رکھنا ہے ۔
اس موقع پر ایک اور غلط فہمی کے ازالے کی بھی ضرورت ہے کہ کچھ لوگ سیکولر اور دہریت کو بھی آپس میں مدغم کرکے کنفیوژن پھیلاتے ہیں۔ ان دونوں اصطلاحات کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ لوگ دانستہ یا نادانستہ دو مختلف نظریات کو ملا کر پریشان حالی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ دہریت، اللہ تبارک و تعالیٰ کے وجود کے انکار کو کہتے ہیں۔ کچھ دہریے اللہ تبارک و تعالی کے وجود کو تو مانتے ہیں، مگر اس کے قادر المطلق ہونے پر شبہ کرتے ہیں۔ جب کہ اس کے برعکس سیکولر اپنی ذاتی زندگی میں مکمّل طور پر مذہبی ہوسکتے ہیں۔ اور اپنے اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق قادرِ مطلق کی حاکمیت کا کوئی نہ کوئی وجود ضرور تسلیم کرتے ہیں۔ وہ اپنے عقیدے کی تعلیمات پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔ مگر اجتماعی زندگی میں ریاست کے آئین اور قانون پر عمل کرتے ہیں جس کا کسی مذہب سے کوئی تعلّق نہیں ہوتا ہے اور جو سب کے لئے یکساں ہوتا ہے ۔
سیکولر ریاست کے ہر باشندے کا اپنا ایک مذہب اور عقیدہ ہوتا ہے ۔ اس سیکولر ریاست میں رہنے والے تمام انسان اپنے اپنے مذاہب اور عقائد کی بنیاد پر زندگی گزارتے ہیں۔ سیکولر ریاست میں رہنے والا ہر شخص اپنے مذہب کو اپنا ذاتی فعل اور ذاتی عمل مانتا ہے ۔ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کا مذہب اس کا ذاتی ایمان، عقیدہ اور معاملہ ہے۔ وہ جس ملک میں بھی رہتا ہے، اس ملک کی اجتماعی زندگی میں اس کے ذاتی مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہے کیونکہ اس ملک میں دوسرے مذاہب اور عقائد کے لوگ بھی رہتے ہیں ۔ لہذا وہ ان سب کے مذاہب اور عقائد احترام کرتا ہے ۔ اور اپنے ملک کے معاشرتی قوانین اور نظامِ عدل کے مطابق اپنی زندگی گزارتا ہے۔ اور خود اپنے عقیدے پر قائم رہتا ہے۔ دوسرے کے عقائد پر اعتراض اور نکتہ چینی نہیں کرتا ہے ۔ اپنی زندگی کو پرسکون رکھتا ہے اور دوسروں کی زندگی کو اجیرن نہیں بناتا ۔ اس طرح ایک سیکولر معاشرہ انتشار اور بے چینی سے محفوظ رہتا ہے ۔ معاشرے میں رواداری کو فروغ ملتا ہے۔
یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ سیکولر ریاست بلا امتیاز ہر مذہب، عقیدہ، فرقہ، زبان، رنگ و نسل تمام انسانوں کی جان و مال عزّت و آبرو، مذہب اور عقیدہ کے تحفّظ کی ضامن ہوتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ایک سیکولر ریاست مذہب ، عقیدہ، فرقہ، زبان، رنگ و نسل کے معاملے میں بالکل غیر جانبدار ہوتی ہے ۔ ریاست کا ہر باشندہ یکساں حقوق کا حامل ہوتا ہے ۔ سیکولر ریاست میں اکثریتی گروہ کے مذہب اور عقائد کو پورے ملک کا مذہب و عقیدہ نہیں بنایا جاتا۔ ریاست اپنی جغرافیائی حدود میں رہنے والے تمام باشندوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے ۔
زیادہ عبادت گزار اور دوسروں کے عقائد اور نظریات کو شک وشبہ کی نیت سے دیکھنے والے لوگوں سے میری گزارش ہے کہ غور فکر کرنے ، سوچنے ، سمجھنے ، تجزیہ کرنے ، سوال اٹھانے ، کسی معاملے کا منطقی جواز تلاش کرنے کی بنیاد پر انسان کافر نہیں ہوجاتا۔ تنگ نظر مولویوں نے سوچنے سمجھنے ، تجزیہ کرنے کی جبلّت کو مذہب کے منافی اور گناہ قرار دیا ہوا ہے ۔ یہ لوگ معصوم انسانوں کو مذہب کی بند ٹوپی سر پر پہنا کر ان کی عقل سلب کردینا چاہتے ہیں۔ اللہ نے انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ شعور کی دولت سے نوازا ہے۔ الہامی کتابوں میں بارہا انسانوں کو غور و فکر اور تدبّر کی دعوت دی گئی ہے ۔ قرآنِ پاک میں تاکید کی گئی ہے کہ اے انسانوں غور فکر کرنے ، سوچنے ، سمجھنے ، تجزیہ کرنے ، سوال اٹھانے ، کسی معاملے کا منطقی جواز تلاش کرنے کی کوشش کیا کرو۔ یہ عمل اسلام کی تعلیمات کے منافی نہیں ہے ۔ یہ شعور اس قادر مطلق کا ہی بخشا ہؤا ہے ، جو اس کائنات کا ملک ہے ۔
لہذا اس بات کی ضرورت ہے کہ اس شعور کو استعمال میں لایا جائے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں سارے انسان برابر ہوں۔ سب کو بنیادی انسانی حقوق بلا تفریق حاصل ہوں۔ غور و فکر اور اظہار رائے کی آزادی میسّر ہو۔ سماجی انصاف معاشرہ کا نفسِ ناطقہ ہو۔ معاشرہ کے کمزور سے کمزور فرد کو انصاف میسّر ہو۔ قانون کا یکساں اطلاق ہو۔ اکثر مذہبی تنگ نظر اور اور سیکیولرازم کے معانی و مفہوم سے نا آشنا لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیااسلام اور سیکیولرازم ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں، یا نہیں۔
ان تمام لوگوں کی خدمت میں دست بستہ گزارش ہے کہ اسلام اور سیکیولرازم ہی تو ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں کیونکہ یہ دو علیحدہ علیحدہ ڈومین ہیں۔ ان کا آپس میں کوئی ٹکراؤ نہیں کیونکہ اسلام ایک مذہب ہے اور سیکولر ازم ایک طرزِ معاشرت۔ مذہب کا تعلّق عقیدے سے ہوتا ہے اور عقیدہ انسانوں سے جڑا ہوتا ہے جب کہ ریاست کا تعلّق زمین ، جغرافیہ، آئین اور قانون سے ہوتا ہے ۔ ایک آزاد اور روادار معاشرہ ہی کسی مذہب کو آزادی اور عزّت و احترام فراہم کر سکتا ہے ۔ ایسی آزادی صرف سیکولر معاشرے میں ہی ممکن ہے ۔ مذہبی معاشرے بہت تنگ نظر اور ظالم ہوتے ہیں۔ کسی مخالف مذہب اور عقیدے کو عزّت و آزادی فراہم نہیں کرسکتے ہیں۔ سعودی عرب کی مثال اس سلسلے میں پوری طرح صادق آتی ہے۔ جہاں اپنا عقیدہ سب پر ٹھونسنے کا طریقہ اپنا لیا گیا ہے۔
سیکولر ریاست کا ہر باشندہ یکساں حقوق کا حامل ہوتا ہے ۔ سیکولر ریاست میں اکثریتی گروہ کے مذہب اور عقائد کو پورے ملک کا مذہب و عقیدہ نہیں بنایا جاتا ہے ، سیکولر ریاست اپنی جغرافیائی حدود میں رہنے والے تمام باشندوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے جس کی اعلی ترین مثالیں کینیڈا ، امریکہ اور برطانیہ ہیں جہاں مسلمانوں اور ان کے مذہب اسلام کو دوسرے تمام اسلامی ممالک سے زیادہ مذہبی آزادی ، عزّت و احترام حاصل ہے ۔
اسلام خود ایک سیکولر طرزِ معاشرت کی حمایت کرتا ہے ۔ سیکولرازم کا فلسفہ خود قرآن میں موجود ہے ۔ قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ سورۃ الکافرون کا ترجمہ:
“کہہ دو اے کافرو، نہ تومیں تمہارے معبودوں کی عبادت کرتا ہوں، اور نہ تم ہی میرے معبود کی عبادت کرتے ہو، اور نہ میں تمہارے معبودوں کی عبادت کروں گا، اور نہ تم میرے معبود کی عبادت کرو گے ، تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔“
قرآنِ پاک کی یہ آیت مبارکہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیکولرازم اور اسلام نہ صرف ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں، بلکہ یہ تو ہیں ہی ایک دوسرے کے لئے ۔ وما علینا الالبلاغ۔