کیا میں محمدﷺ کو منہ دکھانے کے قابل ہوں!
- تحریر اختر چوہدری
- جمعرات 29 / دسمبر / 2016
- 5811
میرا ایمان ہے کہ محمد ﷺ کائنات میں رحمتِ کامل بنا کر بھیجے گئے تھے۔
میں دنیا میں محمدِ مصطفےٰؐ کا تعارف ہوں۔ لوگ آپ کو میری ذات اور میرے عمل سے پہچانتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے لوگ میرے عمل سے اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ میرے والدین کیسے کردار کے لوگ تھے یا میرے اساتذہ نے میری تربیت کس طرح کی۔ لوگ میرے کردار سے یہ بھی جانچتے ہیں کہ جس نبیؐ کا میں نام لیوا ہوں وہ کیسا ہو گا۔
میرا ایمان ہے کہ مجھے ایک روز حضور کے سامنے کھڑے ہو کر جواب دینا ہو گا کہ میں نے حضور کا دنیا میں کیسا تعارف کروایا۔ میرا ایمان ہے کہ محمد ﷺ کائنات میں رحمتِ کامل بنا کر بھیجے گئے تھے۔ آپؐ نے رحم کی تبلیغ اور ترغیب ہی نہیں دی بلکہ ساری حیات کامل رحم بن کر گزاری۔ اس وقت بھی رحم کیا جب رحم واجب تھا اور اس وقت بھی جب عصری رویے آپ کی طرف سے طاقت استعمال کرنے پر ہر گز احتجاج نہ کرتے۔ اس وقت بھی جب آپ کمزور تھے، اور اس وقت بھی جب آپ زور آور تھے۔ میرے نبیؐ نے مکہ فتح کے بعد اپنے بدترین دشمنوں کو امن، پناہ اور عفو سے نوازا۔ تاریخ عفو اور کرم کی ایسی مثال نہ فتح مکہ سے پہلے فراہم کرتی ہی نہ بعد میں۔
میں جب دنیا میں اپنا تعارف فاتحِ مکہ کے ماننے والوں میں سے کرواتا ہوں تومجھ پر واجب ہو جاتا ہے کہ میں اپنے ہر عمل میں فاتحِ مکہ کے عفو اور کرم کی پابندی کروں اور دنیا میں رحمت بنوں۔ یہ رحمت ان کے لیے بھی جو میرے لیے رحمت ہیں اور ان کے لیے بھی جو میرے لیے زحمت ہیں۔ یہی حکم ہے سرکارؐ کا اوریہی اسوۂ حسنہ بھی ہے۔
مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں اپنی اور اپنے اصولوں کے دفاع میں طاقت کا استعمال کروں۔ لیکن اس وقت بھی مجھ پر واضح قواعد لاگو ہوتے ہیں۔ ایسے میں مجھے حکم ہے کہ کھیتیوں کو، درختوں کو، عبادت گاہوں کو، کمزوروں اور ضعیفوں کو، ان کو جن کے ہاتھ میں ہتھیار نہ ہو، دیگر مذاہب کے پیشواؤں کو، عورتوں اور بچوں کو تحفظ فراہم کروں۔ میں محمد مصطفےٰ ﷺ جیسا رحیم تو نہیں بن سکتا لیکن مجھے روز آخرت یہ جواب دینا ہوگا کہ میں نے حیات دنیاوی میں لوگوں سے حضورؐ کا کیسا تعارف کروایا تھا۔