آصف علی زرداری کی نگاہ وزارت عظمیٰ پر ہے
- تحریر ارشد بٹ ایڈووکیٹ
- جمعرات 29 / دسمبر / 2016
- 5721
سابق صدرآصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے موجودہ قومی اسمبلی میں جانے کا اعلان کرکے، اس قومی اسمبلی اور نواز حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کا لائسینس جاری کردیا ہے۔ ساتھ ہی بلاول بھٹو نے حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے، اپنے چار مطالبات کی منظوری کے لئے سیاسی لانگ مارچ کرنے، عوامی جلسوں اور رابطہ مہم سے حکومت پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
سیاسی پنڈتوں اور تجزیہ کاروں کو آصف زرداری کے اعلان نے حیرت زدہ کر دیا۔ اس سلسلہ میں ہر تجزیہ کار اپنے اپنے مطالب نکالنے میں مشغول ہے۔ ان تبصروں میں یہ رائے نمایاں ہے کہ اس طرح بلاول کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جس سے بلاول کے لئے پارٹی کے تنظیمی امور اور دیگر معاملات آزادانہ چلانا دشوار ہو جائے گا۔ اس سے پی پی پی کو پنجاب کےعوام کی مقبول سیاسی جماعت بنانے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ بلاول کو پارٹی امور چلانے میں خومختاری حاصل نیہں ہو گی۔ بلاول پارٹی کے تنظیمی معاملات چلانے میں کس قدر خودمختار ہوں گے، یہ حقیقت آہستہ آہستہ آشکارہو جائے گی۔
آصف زرداری کے ذہن میں کیا ہے اس کو تو پڑھنا بہت مشکل ہے مگرآثار بتاتے ہیں کہ سیاسی جوڑتوڑ کرنے میں تو آصف علی زرداری کی اجارہ داری رہے گی۔ اس کے برعکس پارٹی کے تنظیمی معاملات کو بلاول کے حوالے کر دیا جائے گا۔ سیاسی اور قومی امور میں مہارت حاصل کرنے کے لئے بلاول کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب تفویض کرنے کا قوی امکان ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ بلاول کے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھالیں گے اور وہ ایوان میں بلاول کے مشیر کے فرائض سرانجام دیں گے۔ پی پی پی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر ایک مؤثر قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے کا واضح منصوبہ رکھتے ہیں۔
ملکی سیاست اور جماعتی امور میں بلاول کا بتدریج بڑھتا ہوا کردار نہ صرف پارٹی امور میں ان کی گرفت مضبوط کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا، ساتھ ہی سیاسی فہم و فراست میں پختگی بھی لانے کا موجب بنے گا۔ اس وقت بلاول آنے والے ملکی انتخابات میں نمایاں اور قائدانہ کردار ادا کرنے کی تیاری کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مگر کم عمری کے باعث وہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہر گز نہیں ہو سکتے۔ تو پھر پیپلز پارٹی کا وزارت عظمیٰ کا امیدوار کون ہوگا۔ آصف علی زرداری کے قومی اسمبلی میں جانے کے اعلان کے بعد یہ بات کافی حد تک واضع ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
آصف زرداری کی اپوزیشن گرینڈ الائنس بنانے کی سوچ الیکشن میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا الیکشن اتحاد کی سمت بڑھ سکتی ہے۔ اس سے نواز لیگ کو الیکشن میں شکست دینے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ جس کا نتیجہ تقسیم شدہ پارلیمانی میںڈیٹ کی صورت برآمد ہوسکتا ہے۔ اگراپوزیشن کی مشترکہ کاوشوں سے نواز لیگ کو وفاقی پارلیمان اور پنجاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وفاق، پنجاب اور دیگر صوبوں میں مخلوط حکومتیں قایم کرنا پڑیں گی۔ اگر سیاسی حالات ایسا رخ اختیار کر لیتے ہیں تو وفاق اور صوبوں میں مخلوط حکومتیں بنانے کے لئے ایم کیو ایم، جے یو آئی، اے این پی، قاید اعظم لیگ اور بلوچستان کے قوم پرست گروپوں کے لئے عمران خان کی بجائے آصف علی زرداری ایک بہتر آپشن بن کر سامنے آسکتے ہیں۔ آصف علی زرداری کا پارلیمانی سیاست کی طرف رجوع کرنا، اسی نادر موقع کے میسر آنے کی جستجو میں ملفوف لگتا ہے۔
نواز لیگ کوتخت لاہور سے محروم کرنے کا اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ اس کے خلاف وسیع انتخابی اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے اسے شکست سے دوچار کیا جائے۔ الیکشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بشمول پی پی پی اور پی ٹی آئی اگر الیکشن میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا الیکشن اتحاد کرنے میں ناکام رہیں تو پنجاب اور پاکستان کو نواز لیگ کی اجارہ داری سے نجات دلانا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ مشرف دور اور منظور وٹو کے مختصر دور وزارت اعلیٰ کے علاوہ نواز لیگ 1985 سے اب تک پنجاب کی حکمران پارٹی رہی ہے۔
اگرعمران خان ماضی کی طرح آئندہ الیکشن میں بھی سولو فلائٹ پربضد رہے تو وہ آنے والے انتخابات میں پی ٹی آئی کی کشتی کو تو ڈبو ہی دیں گے، ساتھ ہی وہ نواز لیگ کو اقتدار کے ایوانوں میں براجمان رکھنے کے بھی ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔