ایمسٹرڈیم میں چار روز

کرسمس کے موقع پربرطانیہ میں دو روز کی چھٹّیاں ملتی ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھا کر زیادہ تر لوگ سیر و تفریح کے لئے دوسرے ممالک چلے جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں میں نے بھی اس کا فائدہ اٹھا کر چار دنوں کے لئے چھٹّی گزارنے کی غرض سے( Amsterdam) ایمسٹرڈیم چلا گیا۔ یوں بھی ایمسٹرڈیم جانے کے لئے میں کچھ ہفتے سے کافی پر جوش تھا کیونکہ لندن کی تیز رفتار اور مصروف زندگی سے راحت پانے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ ویسے بھی انگریز اور یورپ کے دیگر ممالک کے لوگ چھٹّیاں گزارنے اور دنیا کے مختلف مقام پر جانے کے لئے ہمیشہ پر جوش ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی چھٹّیوں کے ذریعہ دوسرے ملکوں کی ثقافت کو جاننے کے شوقین ہوتے ہیں۔ اس کے علاو ہ وہاں کی آب و ہوا اور کھانے پینے کا بھی کافی لطف لیتے ہیں۔

میرے چاہنے والوں نے سوشل میڈیا پر مجھ سے اصرار کیا کہ اس بار میں ایمسٹرڈیم شہر کے بارے میں لکھوں اور کیوں نہیں جو لوگ میرے کالم کو باقاعدگی سے پڑھتے ہیں بلکہ میری حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں ان کے لئے یہ میرا فرض ہے کہ میں ان کو اپنے ساتھ ایمسٹرڈیم شہر کی سیر کراؤں اور وہاں کی جانکاری دوں 24دسمبر کی صبح پانچ بجے میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ لندن سٹی ائیر پورٹ پہنچ گیا ۔ پاسپورٹ اور دیگر لوازمات کے بعد برٹش ائر ویز کا جہاز دیگر مسافروں کے ساتھ ہمارا انتطار کر رہا تھا۔ یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ لندن میں پانچ ائر پورٹ ہیں جن کہ نام ہیں ہیتھرو ائر پورٹ، گیٹ وک ائر پورٹ، سٹی ائر پورٹ، اسٹین سٹیڈ ائرپورٹ اور لوٹن ائر پورٹ ہیں۔ ہوائی جہاز پر بیٹھ کر کیپٹن نے مسافروں کو اطلاع دی کہ لندن سے ایمسٹرڈیم کا سفر ایک گھنٹے کا ہے۔ لیکن ہوائی جہاز پچاس منٹ میں ہی ایمسٹرڈیم پہنچ گیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ ہمارے جوش اور بیقراری کوپائلٹ نے بھی محسوس کرلیا تھا۔ تبھی اس نے ہوائی جہاز کو قبل از وقت ایمسٹرڈیم کے( Schiphol) سکی پھول ائیر پورٹ پر خیر عافیت سے اتار دیا ۔  اس ایئر پورٹ کا آغاز 1916 میں ہؤا تھا۔  اِس سال ائیر پورٹ نے اپنے سو سال پورے کئے ہیں۔  پورے ائیر پورٹ پر اس کے متعلق اشتہار لگے ہوئے ہیں اور ائیر پورٹ تمام سہلویات سے لیس ہے۔ اس کے علاوہ ائیر پورٹ کی لمبائی اور چوڑائی دیکھ کر اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ائیر پورٹ واقعی قابلِ تعریف ہے۔

ہم ائیر پورٹ پر تمام کارروائی مکمل ہونے کے بعد ٹرین پر سوار ہوکر (Amsterdam Centraal station)ایمسٹرڈیم سنٹرال اسٹیشن پہنچے۔ اس وقت صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔ اسٹیشن سے باہر نکل کر سامنے والی سڑک (Damrak ) پہنچ کر ناشتہ کھایا۔ تھوڑی دیر بعد (Ibis) ہوٹل پہنچے اور اپنے کمرے میں جا کر تھوڑا آرام کیا۔

عام طور پر ایمسٹرڈیم کو ثقافت اور رواداری کا شہر مانا جاتا ہے۔ لیکن میں نے اپنے قیام کے دوران ایمسٹرڈیم کو میوزیم، سائیکل سواری اور حشیش پینے والوں کا شہر بھی پایا۔ ایمسٹرڈیم میں لگ بھگ 75 میوزیم ہیں ۔ میں نے یہاں زیادہ تر لوگوں کوسائیکل کی سواری کرتے ہوئے دیکھا ۔ ایک اطلاع کے مطابق ایمسٹرڈیم میں ایک دن میں لگ بھگ 350.00 لوگ سائیکل کی استعمال کرتے ہیں۔  ایمسٹر ڈیم کے لوگوں کی سائیکل سواری سے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ڈچ لوگ اپنی صحت کا خیال رکھنا ضروری سمجھتے ہیں اور وہ اپنے شہر کو آلودگی سے بھی پاک رکھنا چاہتے ہیں۔

راہ چلتے اکثر ایک سخت بو سے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ایمسٹرڈیم میں لوگ حشیش کھلے عام طور پر پیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک وقت غیر قانونی ڈرگز کے استعمال سے ہالینڈ کی آبادی پر کافی بُرا اثر پڑ رہاتھا جس کی وجہ سے پارلیمنٹ نے چند ڈرگز کو قانونی درجہ دے دیا ۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ غیر قانونی طور پر ڈرگز کا دھندہ ناکام ہوگیا اور لوگ حشیش قانونی طور پر دکانوں سے خریدنے لگے۔ میں نے بازاروں اور دکانوں میں حشیش کے پتوں کی تصویریں دیکھیں جو اس بات کی نشاندہی تھی کہ ہالینڈ میں حشیش کھلے عام فروخت ہوتی ہے۔ لیکن ہالینڈ سے باہر لوگوں کا خیال ہے کہ ایسا اس لئے کیا گیا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ حشیش پینے کے بہانے ایمسٹر ڈیم کی سیر کو آئیں۔ یہ بھی ایک امکان ہو سکتا ہے۔  میں نے ایمسٹرڈیم شہر کی ایک اور خوبی یہ دیکھی کہ پورا شہر (Canal) نہروں سے گھرا ہوا ہے۔ جن میں سیّاحوں کو شہر دکھانے کے لئے چھوٹی چھوٹی کشتیاں گھومتی رہتی ہیں۔ یہ نہریں ایک سو کلو میٹر سے بھی زیادہ لمبی ہیں اور ان پر 1,500چھوٹے چھوٹے پُل بنے ہوئے ہیں۔

ایمسٹرڈیم کے( Prins ) کا علاقہ دنیا کے مختلف لوگوں سے بھرا رہتا ہے ۔ ہم کشتی پر سوار ہونے کے لئے نکلے توشام اپنا جال دھیرے دھیرے بچھا رہی تھی ۔ سرد ہواؤں کے تھپیڑوں  ہمارے گالوں کو گاہے بگاہے اپنی برفیلی احساس سے سرخ کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر قطار میں کھڑے رہنے کے بعد ایک خوبصورت ڈچ خاتون نے ہمیں انگریزی زبان میں کشتی پر سوار ہونے کو کہا۔ یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ہالینڈ میں لوگ ڈچ زبان کے علاوہ انگریزی زبان عام طور پر بولتے اور سمجھتے ہیں جس سے ہمیں کافی آسانی ہوئی۔ کشتی سیّاحوں سے بھری تھی۔  اور لوگ کشتی کے اندر کی گرماہٹ سے باہر کا نظارہ دل کھول کر دیکھ رہے تھے۔ لگ بھگ ایک گھنٹے کے سفر میں میں نے دیکھا کہ نہر کے دونوں کنارے ایمسٹرڈیم کی مشہور چار یا پانچ منزلہ عمارتیں  قطار سے کھڑی ہیں ۔  یہ عمارتیں ایک دوسرے سے کافی مشابہت رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ نہر کے کنارے دنیا کے معروف فنکاروں کے عمدہ آرٹ لگے ہوئے ہیں جو سیّاحوں کو اپنی طرف مرکوز کرتے ہیں۔

25 دسمبر کو ہم (Rijks museum) رشکس میوزیم پہنچے۔ یہ ہالینڈ کا قومی اور اہم آرٹ میوزیم ہے۔ اس میں لگ بھگ 8000 آرٹ کے نمونے نمائش کے طور پر لگائے گئے ہیں۔ جن میں معروف پینٹنگ سے لے کر ڈچ کی تاریخی جھلکیاں بھی لگائی گئی ہیں۔ اس کے بعد ہم مشہور یہودی لڑکی (Anne Frank) کی لکھی ڈائری کو دیکھنے این فرینک ہاؤس پہنچے۔ اس میوزیم میں این فرینک کی ڈائری کے ذریعے اس کی زندگی اور (Nazis) نازیوں کے ظلم کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ این فرینک نے اپنی زندگی کی ڈائری کو دوسال میں لکھا تھا۔ جب جرمنی میں ہٹلر نے یہودیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تو این فرینک اور اس کے والد اپنے کنبے کے چھ لوگوں کے ساتھ فرینکفرٹ کو چھوڑکر ایمسٹرڈیم کے( Merwedeplein) علاقے میں بس گئے تھے۔ لیکن 1940میں جب جرمن فوجیوں نے ہالینڈ پر قبضہ کر لیا تو این فرینک کے والد اپنے خاندان کے ساتھ ( Prinsengracht 263 )میں چھپ گئے۔ 1944 میں جرمن فوجیوں نے این فرینک کو دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کر لیا اور انہیں کیمپ میں دیگر یہودیوں کے ساتھ قید رکھا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد این فرینک کے والد اوٹو فرینک واپس اپنے گھر( Prinsengracht 263) پہنچے تو انہیں کوئی بھی نہیں ملا۔ کہتے ہیں کہ این فرینک کیمپ میں ماری گئی تھی۔ این فرینک کی ڈائری سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک صحافی اور رائٹر بننا چاہتی تھیں۔ این فرینک کے والد کو جب این فرینک کی ڈائری ملی تو اس سے پتہ چلا کہ وہ دو سال تک اپنے روپوش ہونے کے دوران کی داستان کو لکھتی رہی تھیں۔ اس میوزیم میں دنیا کے زیادہ تر سیّاح آتے ہیں اور یہ میوزیم اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ہٹلر کی آرمی نے بے قصوریہودیوں کو مارا تھا۔

26 دسمبر کو ہم (Vincent van Gogh museum) پہنچے جہاں معروف آرٹسٹ ونسٹین وین گوگ کی آنکھوں کو چھو لینے والی پینٹنگز سے لطف اندوز ہوئے۔ اس میوزیم میں ونسٹین وین گوگ کی زندگی پر بھی عمدہ نمائش لگائی گئی ہے۔ میں اس بات کو جان کرافسردہ ہوا کہ ونسٹین وین گوگ جب دماغی توازن کھو بیٹھے تو کیسے انہوں نے اپنا بایاں کان خود ہی کاٹ ڈالا تھا۔  اس کے بعد ہم قریب ہی ڈائمنڈ میوزیم پہنچے جہاں ہم نے ڈائمنڈ کے کاروبار میں ہالینڈ کے تاجروں کی دلچسپی اور ڈائمنڈ کی کھوج اور اس کی تیاری میں ڈچ لوگوں کارکردگی کا شو دیکھا۔ اس کے علاوہ اس میوزیم میں ڈائمنڈ کے تاج اور زیورات کی نمائش بھی دیکھی۔

27 دسمبر کو ہم ایمسٹرڈیم میوزیم دیکھنے نکلے جو کہ (Kalverstraat) علاقے کے قریب واقع ہے۔ اس میوزیم میں( Schiphol)  ائیر پورٹ کی سو سالہ تاریخ کی نمائش لگائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہالینڈ کی تاریخ اور آرٹ کے بہترین نمونے بھی دیکھنے کو ملے۔ تھوڑی دیر آرام کرکے ہم دوپہر کوایمسٹرڈیم کا مشہور (Body Worlds exhibition) دیکھنے کے لئے(Damrak 66)  پہنچے جسے سائنسداں ( Gunther von Hagens) نے شروع کیا تھا ۔ اس نمائش کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں تمام جسم ان لوگوں کے ہیں جنہوں نے مرنے کے بعد اپنے جسم کو نمائش کے لئے عطیہ کیا تھا۔ ان جسموں کو مختلف اسٹائیل میں گلاس کے ڈبّے میں بند کر کے رکھا گیا ہے ۔ جس میں انسان کے دماغ سے لے کر پیر تک کے اعضا کو نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ 

ایمسٹر ڈیم کے لوگوں کی رواداری اور سادگی کی عمدہ مثال ان کے اخلاق اور شہر کی خوبصورتی سے پتہ چلتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایمسٹر ڈیم یورپ کا بلا شبہ ایک تاریخی اور ثقافتی شہر ہے۔ ایمسٹرڈیم کے چار روز اتنی تیزی سے بیتے کہ ہمیں وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور ہم لندن لوٹ آئے۔