سبق پھر پڑھ ۔۔۔۔۔ کرکٹ کا !!
مبصرین کو حیران کر دینے کی صلاحیتوں سے مالا مال پاکستان کرکٹ ٹیم جب دورہ آسٹریلیا سے قبل نیوزی لینڈ پہنچی تھی تو بہت سارے لوگ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ مصباح الیون کشتوں کے پشتے لگا کر کینگروز کے دیس پہنچے گی۔ اور انہیں پہلی بار انہی کی سرزمین پر تگنی کا ناچ نچا کر رکھ دے گی۔ نیوزی لینڈ کی نسبتاً کمزور ٹیم سے شکست پر کنڈیشنز میں ایڈجسٹ نہ ہونے کا بہانہ کم آیا اور شاہینوں پر تنقید کے نشتر کچھ کم برسائے گئے۔
ٹیم آسٹریلیا پہنچی تو بتایا گیا کہ قومی کھلاڑی اب کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو چکے ہیں اور رزلٹ تو بس اب سو فیصد ہی آئے گا۔ کیونکہ کپتان مصباح جیسا ہو اور کھلاڑی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ پراعتماد اور پرجوش بھی ہوں تو سونے پہ سہاگہ۔ اب کون ہے جو ہمارے ’کرکٹ کے مجاہدوں‘ کا راستہ روک پائے گا مگر پہلے ٹیسٹ میچ میں ہی نتیجہ نیوزی لینڈ والا ہی رہا، یعنی شکست۔ یہ شکست ایک اچھی فائٹ بیک کے بعد ہوئی جس نے شکست کا غم بھلانے میں بہت مدد دی اور ہر طرف سے پاکستانی ٹیم پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے۔ بھلا ہو اسد شفیق کا جنہوں نے ٹیم میں جگہ بچانے کےلئے ایسی اننگز کھیلی جو ہر کھلاڑی کا خواب ہوتی ہے۔
پاکستان ٹیم بھلے پہلا میچ ہار گئی مگر سب کو امید بندھا گئی کہ جناب حوصلہ رکھئے ، اب ہم فارم میں آ گئے ہیں اور آسٹریلیا کی خیر نہیں۔ کرکٹ کے پنڈت خصوصاً پاکستانی ماہر بھی کچھ ایسی ہی امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔ میلبورن ٹیسٹ کے پہلے تین دن تو پاکستان کرکٹ ٹیم بیٹنگ کے دوران بار بار بارش کی مداخلت کے باوجود حیران کن طور پر میچ پر گرفت مضبوط رکھنے میں کامیاب ہوئی۔ جب سب کو نظر آ رہا تھا کہ میچ یقینی ڈرا کی جانب گامزن ہے تو پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی گویا ہوش آ گیا، کیونکہ انہیں پوری طرح احساس تھا کہ ٹکٹ خرید کر اسٹیڈیم آنے والے اور ٹی وی کے سامنے گھنٹوں بیٹھ کر میچ دیکھنے والے تو ہار جیت کا مزا لینے آتے ہیں، انہیں ڈرا میچ سے بوریت ہونے لگتی ہے۔ شاید یہی وہ احساس تھا جس نے صرف ڈھائی سیشن میں میچ کا نقشہ پلٹ کر رکھ دیا۔ آسٹریلین بیٹنگ کے دوران ہمارے بولرز بے بسی کی تصویر نظر آئے تو پاکستانی بیٹسمین بھی آسٹریلین بولرز سے کچھ کم خوفزدہ نہ تھے۔
پاکستان کی ناقص ترین پرفارمنس اپنی جگہ، پاکستانی بولنگ کی ہمیشہ سے واہ واہ رہی ہے اور ہر کوئی اس بولنگ لائن کی قوت کو سراہتا ہے۔ مگر آسٹریلین بلے بازوں نے اسی بولنگ لائن کے بخیے ادھیٹر کر رکھ دیئے۔ اب یقینا محمد عامر کو ورلڈ کلاس بولر کہنے والے شرم کے مارے منہ چھپاتے پھر رہے ہوں گے اور سہیل خان کی سوئنگ کے گن گانے والے گھروں میں دبک کر بیٹھے ہوں گے۔ یاسر شاہ کی گھومتی گیندوں پر تعریفوں کے پل باندھنے والوں کی زبانیں بھی گنگ ہو چکی ہوں گی۔ یہاں وہاب ریاض کا ذکر کرنا تو از حد ضروری ہے۔ ایسا لگتا ہے وہاب ریاض آج تک آسٹریلیا میں ہونے والے ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے خلاف ہی کرائے گئے اسپیل کے اثر سے باہر نہیں نکل سکے۔ ایک عرصے سے پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وہاب ریاض کو آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کون سے پچ پر کون سی لائن اور لینتھ سے بولنگ کرانی ہے۔ ان کے پاس بیٹسمین کو ڈرانے یا آؤٹ کرنے کیلئے صرف باؤنسر کا ہتھیار ہی ہے جو اب کند ہو چکا ہے۔ وہاب ریاض یہ بھول جاتے ہیں کہ آسٹریلین بلے باز انہی باؤنسی اور تیز پچوں پر کھیل کھیل کر جوان ہوتے ہیں اور PULL اور ہک شاٹ ان کا فیورٹ شاٹ ہوتا ہے۔ مگر وہ وہاب ریاض ہی کیا جو سمجھ جائیں۔
یہ واضح طور پر سب کو نظر آیا کہ ہمارے کسی بولر نے گیم پلان (اگر کوئی تھا) کے مطابق بولنگ نہیں کرائی۔ جس بولر کا جہاں دل چاہا اس نے وہاں گیند بازی کی اور دھنائی کا خوب خوب مزا چکھا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم میں قومی اور غیر ملکی، دونوں طرز کے کوچز دستیاب ہیں مگر شاید کسی نے بولرز کو نہیں بتایا کہ اچھی بولنگ صرف ڈسپلن اور تسلسل کا نام ہے۔ بولر ہر بار اچھی گیند سے ہی نہیں بلکہ اپنی مستقل مزاجی اور بیٹسمین کو غلطی کرنے پر مجبور کر کے بھی وکٹ حاصل کرتا ہے۔
پاکستانی بولنگ کی تباہ کن غلطیاں اپنی جگہ، مگر اس سے بھی زیادہ بری کارکردگی کا مظاہرہ بیٹنگ نے کیا۔ شارجہ ، ابوظہبی اور دبئی کی وکٹوں پر رنز کے انبار لگانے والوں نے آسٹریلین کلب لیول کے کھلاڑیوں سے بھی زیادہ بری بیٹنگ کی۔ کسی بیٹسمین کو آسٹریلین بولرز کی سوئنگ کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ کون سی گیند کہاں پڑ کر اندر آئے گی یا باہر نکلے گی، کون سی بال کو چھوڑنا ہے اور کسے کھیلنا ہے، کسی بیٹسمین کو کچھ پتہ نہیں تھا۔ پاکستانی بلے بازوں کی روایتی کمزوریاں ایک بار پھر پوری طرح عیاں ہوئیں اور ایک اور بہت بری شکست پاکستان کرکٹ کے ماتھے پر چسپاں کر گئیں۔
میلبورن ٹیسٹ میں حیران کن شکست سے دوچار ہونے والی پاکستانی ٹیم نے نہ صرف سیریز گنوائی بلکہ کئی بدترین ریکارڈز بھی اپنے نام کئے۔ یہ شکست پاکستانی ٹیم کی آسٹریلیا کے خلاف اسی کی سرزمین پر لگاتار 11ویں شکست تھی جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ پاکستان کی ٹیسٹ میچز میں لگاتار پانچویں شکست تھی جبکہ رواں سال یہ پاکستان کی ساتویں شکست تھی جو ایک کیلنڈر ایئر میں پاکستان کی ٹیسٹ شکستوں کی سب سے بڑی تعداد ہے (مصباح الحق کے گن گانے والے ذرا اس ریکارڈ پر بھی نظر دوڑائیں)۔ یہ پاکستان کا ہی طرہ ہے کہ پہلی اننگز ڈیکلئیر کرکے شکست کا جھومر ماتھے پر سجا چکی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے ’چہیتوں‘ کو ایک بار پھر کرکٹ کا بھولا ہوا سبق پڑھائے وگرنہ ایسی کئی شکستیں کرکٹ کے میدانوں میں ہمارا انتظار کر رہی ہیں۔