جموں کشمیر اور ہماری جد وجہد کے نتائج
یوں تو ہر دور میں بعض کشمیری مزاحمتی کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن جن لوگوں کو تحریک کا بانی کہلوانے کا شوق ہے ان کا دعوی ہے کہ تحریک کا آغاز 1989 میں ہوا۔ ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ اس سے پہلے جو جد وجہد ہوتی رہی وہ کیا تھی ۔
ان چھبیس سالوں کے دوران لاکھوں انسان اپنی قیمتی جانیں قربان کر چکے ہیں اور کئی لاکھ گھرانے اجڑ چکے ہیں۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران آر پار کے کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد محنت مزدوری کے لیے بیرون ملک گئی۔ جو لوگ یورپ گئے وہ وہاں کے ہی ہو کر رہ گئے۔ یہ لوگ موجودہ تحریک آزادی کے لیے ایک بہت بڑی قوت ثابت ہو سکتے تھے لیکن۔ ان کشمیریوں نے میزبان ملکوں کی مقامی سیاست میں کم اور امپورٹڈ پاکستانی اور کشمیری سیاست میں زیادہ حصہ لیا۔ تحریک آزادی کے نام پر یورپ میں درجنوں تنظیمیں قائم ہیں جو ہر سال جینوا میں قائم عالمی فورمز پر مسلہ کشمیر اٹھانے کا دعوی کرتی رہتی ہیں۔ لیکن ان دعوؤں اور ہماری عسکری سیاسی و سفارتی جد وجہد کی حقیقت اور نتیجہ کیا ہے۔ اس کا اندازہ آپ سوٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ کی طرف سے مجھے ملنے والے خط سے لگایئے جس کا میں یہاں صرف خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
دنیا کے مختلف ممالک کے سفارت خانوں اور عالمی اداروں کو میں نے استنبول سے جموں و کشمیر کے حوالے سے ایک مکتوب ارسال کیا جس کے جواب میں بعض اداروں کی طرح سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے بھی لکھا کہ جموں کشمیر کے بارے میں آپ نیو دہلی میں ہمارے سفارتخانے سے رابطہ کریں۔ ان میں سے بعض کے نزدیک جموں و کشمیر ہندوستان میں ہے اور بعض سمجھتے ہیں کہ یہ ہندوستان کے زیر قبضہ علاقہ ہے۔ جب میں نے ان کو لکھا کہ جموں و کشمیر صرف بھارتی مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ وہ تمام علاقے ہیں جو سن سنتالیس تک متحدہ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ تھے، تو انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے ایک انکشاف کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ تیس سالوں سے یورپ میں قائم درجنوں کشمیری تنظیمیں جینوا میں جا کر عالمی اداروں کو جموں وکشمیر کے حوالے سے کیا بتاتی رہی ہیں یا شاید کچھ بتایا ہی نہیں۔ صرف کسی ایک کونے میں چند سفید فام باشندوں کے ساتھ تصاویر بنوا کر پاکستانی اور کشمیری اردو اخبارات میں چھپوا تی رہی ہیں۔ یہی ان کی سفارتی جد و جہد رہی ہے۔ بلجیم میں تو کشمیر سینٹرز بھی کئی سال تک کام کرتے رہے ہیں آخر کسی کو تو پوچھنا چائیے کہ ان کے اخراجات کہاں سے آئے اور کہا ں خرچ ہوتے رہے۔ مسلط کردہ عسکری تنظیموں کے کمانڈروں اور ان کے سیاسی نمائندوں کے ناموں اور ان کی جائیداد کی تو سب کو خبر ہے لیکن تحریک آزادی جموں وکشمیر اور اس کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کرنے والوں کو کیا ملا ۔ جس منزل کے حصول کے لیے انہوں نے قربانیاں دیں وہ تو ابھی دور دور تک نظر نہیں آتی. اس کا ذمہ دار کون ہے اور ان سے چھٹکارہ کیسے اور کب حاصل ہو گا۔ کوئی تو جواب دے!