سڑکیں خونی قاتل نہ بننے دیں

ریاست کو اپنی سڑکیں ، سڑکیں ہی رکھنی چاہیے ، ان کو خونی قاتل نہیں بننے دینا چاہیے۔ زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ ہی ہے لیکن خدا نے انسان کو عقل و شعور عطا کیا ہے ۔ اکثر ریاستیں ترقی کے نام پر موت بانٹ رہی ہیں ، کبھی راستے کچے تھے ، تانگے اور بیل گاڑیاں چلتی تھیں ، حادثات بھی کم ہوتے تھے۔

جدید ذرائع آمد ورفت سے صحیح فوائد حاصل کرنے کےلئے ہمیں ایک نئی اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا ۔ لیکن اکثر سرکاری محکمے ایک دوسرے سے تعاون نہیں کرتے۔ ہر محکمہ اتنا مصروف کہ سر کھجانے کی فرصت نہیں ، لیکن پھر بھی اہداف  پورے نہیں ہوتے۔  موٹروے اور جی ٹی روڑ پر تو کچھ بہتری آئی ہے۔  جہاں آنے جانے کےلئے گاڑیوں کے الگ الگ راستے بنائے گئے ہیں۔ لیکن وہاں بھی اکثر خامی نظر آتی ہے۔ موٹر سائیکل ، رکشہ ، بڑی گاڑیاں اور چھوٹی گاڑیاں سب ایک ہی لائن میں چل پڑتی ہیں۔ جو حادثات کا باعث بنتی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ممکن حد تک ہرقسم  کی گاڑی کےلئے الگ الگ راستہ بنایا جائے۔ لیکن اس میں یہ بھی خیال رکھا جائے کہ ہر لائن میں گاڑی کو اوور ٹیک  کرنے اور مڑنے کےلئے مناسب جگہ فراہم ہو۔  انسانی جان بہت قیمتی ہے۔ اس کی ممکن حد تک حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہیے ۔ جو گاڑی بھی بغیر کسی وجہ کے اپنی لائن سے ہٹ کر سفر کرے اسے بھاری جرمانہ کیا جانا چاہیے۔ ہم نے ایسے تمام راستے جو لوکل روٹ کہلاتے ہیں ان کو حد سے زیادہ نظر انداز کیا ہے۔ اب ڈرائیوروں کو اتنی عقل ہے نہیں کہ وہ سوچ سکیں کہ یہ لوکل روٹ ہے اور یہاں پر زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے تربیت کا عمل بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔  ہمیں خود اپنی سوچ اور شعور کے ساتھ مثبت رویہ اور طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔ 

جب بھی گاڑیاں مخالف سمت  سے ٹکرائیں گی، خطرناک حادثہ ہوگا۔  لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی بھی سڑک یک طرفہ  نہ ہو ، تمام سڑکیں دو طرفہ ہونی چاہئیں۔ کوئی بھی سڑک ایسی نہیں ہونی چاہیے جس پر آنے جانے کا ایک ہی راستہ ہو ۔ اللہ نہ کرے گاڑیاں آپس میں ٹکرائیں ، لیکن اگر سڑک دو طرفہ ہوگی  اور اس پر تقسیم کرنے کے لئے رکاوٹ  ہوگی تو حادثہ کی صورت میں زیادہ نقصان نہیں ہو گا۔  ہر سڑک لازمی طور پر دو طرفہ ہونی چاہیے۔

حادثات سے بچنے کے لئے ہمیں ہر ایک ایک چیز کو بہتر اور منظم انداز میں چلانا ہوگا۔ حادثات  میں سب سے زیادہ شرح موٹر سائیکل ایکسیڈنٹ کی ہے۔ موٹر سائیکل بھی ہمارے ہی نوجوان ، ہمارے ہی بھائی اور ہمارے ہی بیٹے چلاتے ہیں۔ ریاست کو چاہیے کہ ہر صورت ہر انسانی جان کی ممکن حد تک حفاظت کےلئے اقدامات کرے ۔ ترقی کےلئے اجتماعی شعور اور کوشش ضروری ہے۔ علم و شعور اور تربیت ہی ہمیں ترقی یافتہ قوم بنا سکتی ہے۔ معیاری سڑکیں بنانے کےلئے فنڈز کی کمی کو بڑی آسانی کے ساتھ ہر گاڑی سے مناسب محصول لےکر پورا کیا جا سکتا ہے۔  اسی طرح موٹر سائیکل اور دیگر سواریوں سے بھی ٹیکس لیا جا سکتا ہے۔  اس سلسلہ میں چونگی سسٹم بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ چونگی سسٹم کے ذریعے ہر گاڑی سے مناسب روڈ ٹیکس لےکر سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی جا سکتی ہے۔ چونگی سسٹم سے ہمیں دوسرا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ایک طرح سے چوکیداری سسٹم کا ہو گا۔  جو بھی گاڑی کسی بھی راستے سے کسی بھی شہر میں جائے گی، اس کا فوراً پتہ چل سکتا ہے۔

حادثات کی روک تھام کے لئے مناسب وقفے پر سکیورٹی کیمرے نصب کرنے چاہئیں۔ تاکہ  قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کی گرفت ہو سکے۔