حجاب کے خلاف نفرت کی مہم
- تحریر سلطان حسین
- سوموار 02 / جنوری / 2017
- 6276
ایک بچہ گھر کے باہر گھنٹی بجانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایک شخص وہاں سے گزر رہا تھا۔ اس نے بچے کو مشکل میں دیکھ کر بیل بجا دی۔ اور بچے سے پوچھا ’’بیٹا اب کیا کرنا ہے۔‘‘ بچے نے کہا ’’کچھ نہیں انکل بس آئیے اب جلدی سے بھاگ چلیں۔‘‘ یہ تو ایک مذاق تھا لیکن اگر یہ حقیقت ہوتی تو اس کے بعد کیا ہوتا اس کا آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اگرغورکریں اور سوچیں تو آپ کو یہی محسوس ہوگا کہ آج کل دینا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی مذاق ہورہا ہے۔
کچھ بڑی قوتیں گھنٹی بجاتی ہیں۔ مسلمان ممالک اور ان ملکوں میں مسلمانوں کو آپس میں لڑاتی ہیں اور بھاگ جاتی ہیں۔ پھر اپنا اسلحہ فروخت کرتی ہیں اورتماشا دیکھتی ہیں۔ مسلمان ملک اور مسلمان آپس ہی میں لڑتے ہیں اور مرتے ہیں۔ اپنے وسائل ان ملکوں سے اسلحے کی خریداری پر صرف کرتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ یہی ملک پھر مسلمانوں کو جاہل، گنوار، جنگجو، جنونی اور دہشت گرد کہتے اورسمجھتے بھی ہیں۔ انہی قوتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف ایک فضا بنا دی گئی ہے جس کی وجہ سے مغرب یورپ میں اب مسلمانوں کا جینا دوبھر کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں پر حملے ہورہے ہیں اور ان کی مساجد کو بند کیا جارہا ہے۔ کچھ بند ہوچکی ہیں اور جوبند نہیں ہوئیں انہیں بند کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے پوری دنیا میں اس وقت عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔ نہ صرف ان ممالک میں جہاں مسلمان بڑی تعداد میں بستے ہیں بلکہ ان ممالک میں بھی جہاں ان کی تعداد کم ہے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ مغربی ممالک جہاں مذہبی تنگ نظری اور مذہبی رواداری کی مثالیں دی جا تی ہیں، وہاں بھی مسلمانوں کو دہشت گرد کہا جارہاہے۔ امریکہ، برطانیہ ، فرانس ، کینیڈا اور جرمنی جیسے سیکولر اور جمہوری ممالک میں اس وقت مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ خاص طور سے مسلم خواتین کے حجاب پر لگاتار حملے ہورہے ہیں۔ برطانیہ میں ایک سروے میں جو انکشافات ہوئے ہیں، ان سے پوری دنیا کے مسلمان پریشان ہوگئے ہیں۔ اس سروے کے مطابق چلتی ٹرین میں ایک حجاب والیمسلم خاتون پر ایک گروپ نے شراب انڈیل دی۔ جب اس خاتون نے احتجاج کیا تو اس کے ساتھ انتہائی بد تمیزی کی گئی۔ اور ہتک آمیز سلوک کیا گیا۔ اس نسل پرستانہ حملہ کی شکار خاتون پر نہ صرف انہوں نے شرب انڈیلی بلکہ زور زور سے چلاتے بھی رہے کہ میں نسل پرست ہوں، میں نسل پرست ہوں اور ہمیں یہ سب پسند ہے۔ گروپ میں شامل لوگوں نے اس خاتون سے بد تمیزی کے دوران یہ بھی کہا کہ کیا خنزیر کا گوشت کھاؤگی؟
ٹرین میں بہت لوگ موجود تھے، مگر کسی نے بھی اس خاتون کی مدد نہیں کی۔ کسی با حجاب مسلم خاتون پر اس طرح کا یہ حملہ کوئی نیا نہیں ہے۔ لیکن افسوس کی بات تویہ ہے کہ یہ سب ان ممالک میں ہورہا ہے جو بظاہر مذہبی رواداری اور آزادی کا دم بھرتے ہیں۔ کہیں با حجاب خاتون کے سر سے حجاب نوچ لیا جاتا ہے ، کہیں قطار سے نکال کر الگ کھڑا کردیا جاتا ہے، کہیں جامہ تلاشی اس طرح لی جاتی ہے جیسے کہ اس کو ذلیل کرنا مقصود ہو۔ پوری دنیا میں مسلمانوں اور خصوصاَ مسلم خواتین کے خلاف اسلام فوبیا پر مبنی حملوں کا سلسلہ بھی بڑھتا جارہا ہے۔ لندن میں ایک حالیہ سروے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ صرف برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف جرائم میں 70فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دیگر یورپی ممالک میں کیا صورتحال ہوگی اس سروے سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لندن کی میٹرو پولٹین کونسل کے مطابق گزشتہ ایک سال میں مسلمانوں کے خلاف پر تشدد جرائم میں 70فیصد اضافہ ہوا ہے اور اسلام فوبیا کی تقریبا 816 وارداتیں ہوئی ہیں ۔ جبکہ 2سال قبل 478 وارداتیں سامنے آئی تھیں۔ اس طرح گزشتہ دو سال میں مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں سو فیصد اضافہ ہؤا۔
مسلمانوں کے خلاف پر تشدد حملوں پر نظر رکھنے والی تنظیم ٹیل ماما کے مطابق خواتین اس قسم کے تشدد کا زیادہ نشانہ بنی ہیں۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نسل پرستی یا اسلام فوبیا کا شکار زیادہ تر خواتین ہوئی ہیں۔ اکتوبر 2015 کے دوسرے ہفتے میں ایک مسلم برطانوی طالب علم کو دہشت گرد کہہ کرصرف اس لیے پولیس کے حوالے کردیا گیا تھا کہ اس طالب علم نے اسکول میں نماز پڑھنے کے لئے ایک کمرہ یا کوئی جگہ مانگی تھی۔ حال ہی میں ایک سکول نے اپنے مسلمان طلبا کو باہر سڑک پر نماز پڑھنے پر مجبور کیا جو برطانیہ جیسے ملک کے لیے شرم کا مقام ہے۔ چونکہ با حجاب خواتین دور سے ہی نظر آجاتی ہیں اور ان کو دیکھتے ہی شرپسندوں کو بس ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ان کو دہشت گرد کہہ کر مذاق اڑائیں۔ ٹیل ماما نام کی تنظیم کی ڈائریکٹر کے مطابق گلی محلے کی سطح پر جو مسلم خواتین حجاب میں یا سر پر دو پٹہ اوڑھے نظر آتی ہیں، ان کو زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے مسلم مردوں کے مقابلے میں خواتین اس لئے زیادہ نشانہ بنتی ہیں کہ ایک تو وہ با حجاب ہوتی ہیں اور دوسرے بچوں کے ساتھ بھی ہوتی ہیں ۔
اسلام فوبیا ذہن والے لوگوں کی یہ بزدلانہ سوچ ہوتی ہے کہ بچوں کے ہمراہ خواتین کو نشانہ بنانا مردوں کے مقابلے میں زیادہ آسان ہے۔ ظاہر ہے نفرت کا اظہار ہی تو کرنا ہے۔ اس کے لئے خواتین سے زیادہ بے ضرر اور آسان شکار کون ہوسکتا ہے۔ مسلمان خود اپنے لئے اس نفرت کے کتنے ذمہ دار ہیں، اس پر بھی بات کرنا ضروری ہے۔ جیسے جیسے دنیا میں مسلمانوں کے لئے نفرت بڑھتی جارہی ہے، ویسے ویسے مسلمان بھی اپنے خول میں سمٹتے جارہے ہیں۔ آئی ایس آئی ایس ، بوکو حرام اور طالبان کی سرگرمیاں پوری دنیا میں مسلمانوں کے لئے نفرت اور اشتعال پیدا کررہی ہیں اور صرف ان چند تنظیموں اوران کی سرگرمیوں کی وجہ سے مسلمانوں پر پوری دنیا میں عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ پوری دنیا کاخصوصاَ مغربی دنیا کا میڈیا مسلمانوں کوجاہل، گنوار، دہشت گرد ، جنگجو اور خونخوار بنا کر پیش کررہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خود مسلمان بھی یہ احساس کریں کہ اس نفرت اور تعصب کے لئے وہ خود بھی کہیں نہ کہیں ذمہ دار ہیں۔ یقیناً کہیں تو ہم سے بھی غلطی ہورہی ہے۔ اس پر ہمیں بھی سوچنا چاہئے کہ آخر یہ غلطی کہاں ہورہی ہے۔ اور اس کا ازالہ کیسے کیا جائے۔
ساتھ ہی ان لوگوں کو بھی سوچنا چاہئے جو ان گنے چنے لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے پورے مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کردیتے ہیں اور اسلام کو دہشت گردوں کا مذہب کہتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے تو پوری انسانیت کے لیے امن کا پیغام دیا ہے اور یہ اس قدر برد بار مذہب ہے کہ اس نے اقلیتوں کو بھی برابر کی آزادی، حقوق اور انصاف دیا ہے۔ اشفاق احمد کہتے ہیں وہ دین کسی کو کیا نقصان پہنچائے گا جس میں راستے سے پتھر ہٹانے پر بھی ثواب ملتا ہو۔ اب باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت اسلام کو بدنام کیا جارہا ہے۔ اس کی روک تھام صرف اسی صوت میں کی جاسکتی ہے کہ مسلم امہ متحد ہو اور اپنی کمزوریوں کو دور کرکے اسلام فوبیا کے خلاف موثر حکمت عملی اپنائے۔ اسلام فوبیا کے تدارک کی یہی ایک صورت ہے ۔