صحافی سچائی کا رکھوالا ہوتا ہے
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 03 / جنوری / 2017
- 4534
ہم نے گزشتہ ستر (70) سال میں عجیب عجیب دور دیکھے ہیں۔ وہ دور بھی دیکھا ہے جب اقتدار بہرہ تھا اور کسی کی بات سنتا ہی نہ تھا۔ وہ دور بھی آیا جس میں اقتدار کان تو رکھتا تھا مگر عقل و ہوش سے بے بہرہ تھا۔ پھر وہ حکمران بھی آئے جنہوں نے انسانوں کو ذلیل کرنے کا نام انسانی عظمت رکھ دیا اور اہل وطن کیلئے وہ قہر الہیٰ بن گئے اور پھر وہ دور بھی آیا جس میں پاکستان کے اصل مسائل کا چرچا ہوا لیکن یہ سورج بھی زیادہ دیر تک چمک نہ سکا اور آج ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جو سیاسی، سماجی، اقتصادی، صحافتی اور جمہوری آزادیوں کے اعتبار سے..... گزشتہ ہفتے کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں مجموعی قومی آمدنی کا صرف 2 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے جو ایشیا میں سب سے کم ہے‘‘۔ ہمارے ملک کے مسائل میں سے تعلیم ایک بنیادی مسئلہ ہے جس کے ساتھ باقی کے مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں جیسا کہ سیاسی، سماجی، اقتصادی، جمہوری اورصحافتی۔ آج کا کالم صحافت کے حوالے سے سپرد قلم کر رہا ہوں۔
حکومت کے ایک اعلان کے مطابق قومی پریس اپنا کردار ادا کرنے میں پوری طرح آزاد ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہمارے اخبارات و جرائد عدم تحفظ اور عدم توازن کا شکار کیوں نظر آ رہے ہیں؟ اخبارات کے بارے میں یہ شکایت عام طور پر پائی جاتی ہے کہ وہ افواہیں پھیلاتے اور بے پر کی اڑاتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان میں تحقیق اور وقوف کا فقدان ہے۔ میرا خیال ہے کہ شکوؤں کا سلسلہ دراز کرنے کی بجائے ان اسباب و علل کا سراغ لگایا جائے جو ہمارے قومی پریس کو عدم تحفظ کا شکار کئے ہوئے ہیں۔ اگر حکومت کی سوچ واضح اور صحت مند ہو اور وہ اچھی روایات قائم کرنا چاہے تو وہ ایسا کر سکتی ہے لیکن یہ حکومت پیوند کاری سے کام چلانا چاہتی ہے جو کہ مسائل کا حل نہیں ہے۔ ابلاغ عامہ کی پالیسی تشکیل دیتے وقت یہ اصول مدنظر رکھا جاتا ہے کہ اخبارات و جرائد کو صحیح ذرائع تک رسائی حاصل ہونی چاہئے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اخبار نویس ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں اور قومی مفاد کی ہر خبر باہر لے آتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ بات سرکاری راز قرار پاتی ہے۔ حکومت کے بڑے فیصلوں کے مدارج بھی صیغہ راز میں ہوتے ہیں۔ سرکاری فائلوں میں اخبارات کے تراشے کونفیڈنشل ہیں دفتر خارجہ کا ہر ہر لفظ راز ہے۔ جب ہر چیز پردے میں ہو تو پھر اخبارات کیا چھاپیں اور اہل تحقیق کس موضوع پر تحقیقی اور تنقیدی کام کریں؟ اس طرز عمل کے نتیجے میں بڑے بڑے قومی فیصلے رازداری سے ہو جاتے ہیں اور قوم کو اس وقت ان کے اثرات کا علم ہوتا ہے جب کوئی بڑا حادثہ یا کوئی خونخوار المیہ وجود میں آ جاتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے اور اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہوئے حکومت کو وہ تمام قوانین اور ضابطے تبدیل یا ختم کر دینے چاہیے جو حقیقت تک پہنچنے کیلئے دیوار سکندری بنے ہوئے ہیں۔ آفیشل سیکرٹ ایکٹ برطانوی استعمار نے نوآبادیاتی نظام چلانے کیلئے 1923 میں بنایا تھا۔ وہ آزادی کے نئے تقاضوں کے مطابق نظرثانی کا محتاج ہے۔
ابلاغ عامہ کی پالیسی کا دوسرا بنیادی نکتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اخبارات و جرائد پر ایگزیکٹو کا کم سے کم کنٹرول ہو۔ یہاں میں یہ بھی واضح کر دوں کہ میں اخبار نکالنے کے عمل کو پنواڑی کی دکان کھولنے کی طرح آسان اور خودرو تو نہیں سمجھتا مگر پریس اینڈ پبلیکشنز آرڈیننس میں جس طرح ایگزیکٹو کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں وہ پریس کے صحت مند ارتقا کیلئے نامناسب اور منافی ہیں۔ اخبارات و جرائد کے معاملات بالعموم تمام قوانین کے تحت عدالتوں میں طے ہونے چاہیے۔ ابلاغ عامہ پالیسی کا تیسرا بنیادی اصول یہ ہو سکتا ہے کہ نیکی اور بھلائی کو فروغ ملے اور بدی کو پھیلنے سے روکنے کیلئے بامقصد اہتمام کیا جائے۔ سچائی کی زیادہ سے زیادہ اشاعت حکومت کی ذمہ دار ہے۔ حق و صداقت کو چھپانا ایک ظلم عظیم ہے اس ظلم عظیم کی روش بالکل ترک ہو جانی چاہیے کہ اس روش نے حکومتوں اور معاشروں کو بے حد نقصان پہنچایا ہے۔
یہاں میں عام شہری اور ایک کالم نویس کی حیثیت سے قومی پریس کو اتنا مضبوط دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ قوم کے حقوق کی حفاظت میں بڑی سے بڑی طاقت سے بھی ٹکر لے بڑی طاقت سے بھی ٹکرا سکے اور آئین کے تحت ملنے والے سیاسی اور جمہوری نظام کی حفاظت کر سکے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب حکومت میں تنقید سننے کا حوصلہ ہو اور اپنی اصلاح کرنے کا جذبہ موجود ہو اور ایک صحافی کے قلم کی صداقت کیلئے احترام پایا جاتا ہو کہ اخبار نویس کسی درجے کا بھی ہو وہ امانت دار ہوتا ہے۔ دو سمتوں سے خبر حاصل کرنے کے ذریعوں کی امانت اور جن تک وہ پہنچانی ہے ان کے ضمیر اور مفاد کی امانت۔ وہ چکی کے دو پاٹ بیچ پستا رہتا ہے اس طرح پھنسے رہنے میں ا س کی سرخ روئی ہے۔ یہی اس کے وجود کا جواز ہے یہی اس کی حیات ہے۔ امانت پہنچانے میں ہمارے پاس جو ذہن و شعور کی چھلنی ہے بس وہ سلامت رہنی چاہئے کہ اس میں سے سنگ ریزے سرک جائیں کہ انہیں زندہ و توانا سچائی روشنی اور ترقی پذیر ملک کی نمائندگی کرنی ہے تو اسے یہ تاریخی اور پیشہ وارانہ اصول اپنانا ہو گا۔
زندگی سے سرشار صحافت ہوا میں ہاتھ نہیں اچھالتی۔ اسے دل درد مند کو سنبھالنے سے ہی مہلت نہیں ملتی اور اس امانت کو سنبھالے چلنے کی ذمہ داری اس کی رفتار پر بریک لگائے رکھتی ہے ۔ جس امانت کو قوم کا ضمیر اور اپنے پڑھنے والوں کی سلامتی کہتے ہیں کہ یہی سچائی ہے یہی روشنی ہے۔
اب آیئے آپ کو اپنے دوست ڈچ شاعر کی چھوٹی سی مگر ایک بڑی نظم سناؤں:
میں غار میں سے اپنا راستہ تراشوں گا
اور اندھیرے کی چٹانیں کاٹتے کاٹتے غار کے دوسرے سرے پر تھک کر
بے ہوش ہو جاؤں گا کہ روشنی کی تھپکی مجھے جگائے
میں جو غار کھودوں گا وہ زندگی ہے
جو پتھر کاٹوں گا وہ دکھ ہے
جہاں بے ہوش ہوں گا وہ میری قبر ہے
اور روشنی تو آپ جانتے ہیں کیا ہوتی ہے!