شام کو تقسیم کرنے کا منصوبہ
یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت کوشش کر رہی ہے کہ اگر شام کی حکومت باغی گروہوں شریک اقتدار کرلے۔ اِس کے بدلے میں یورپی یونین صدربشار الاسد کی حکومت کو مالی امداد دینے پر تیار ہوگی۔ یورپی یونین کے امور خارجہ کی کمشنر فیڈیریکا موغرینی نے اس سلسلے میں گزشتہ دنوں ایران، سعودی عرب، ترکی، لبنان، مصر، اُردن، قطر اور جنگ ذدہ شام کے دورے کئے ہیں ۔
یورپی یونین کی خارجہ سیاست پر نگاہ رکھنے والے ماہرین اِن قیاس آرائیوں کو بڑی حد تک درست قرار دیتے ہوئے نشاندہی کر رہے ہیں کہ یورپی یونین کی تجویز ہے کہ شام کو چند چھوٹے ’’یونٹوں‘‘ میں تقسیم کر دیا جائے۔ ہر یونٹ کو اپنے امور چلانے کے لیے مکمل خود مختاری حاصل ہو۔ اس طرح بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جد و جہد کرنے والے گروہوں کو صوبوں میں اقتدار میں شامل کیا جائے گا۔ یہ یونٹ یا صوبےتجارت اور دیگر شعبوں میں اپنی مرضی کی پالیسی اختیار کرسکیں گے۔ یورپی یونین سے منسوب اِس تجویز کو شام میں مسلح باغیوں کی آواز بھی سمجھا جا رہا ہے ۔
دوسری جانب یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت اب تسلیم کرتی ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت روس، ایران اورلبنان کے بعد اب ترکی کی مدد سے مسلح باغیوں کے خلاف کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ اِس کی ٹھوس مثال حلب کے شہر پر حکومتی افواج کا دوبارہ قبضہ ہے ۔ برطانوی روزنامہ دی ٹائمز کے مطابق روس کی مدد سے شامی افواج کی اس فتح کے بعد یورپی یونین اور امریکہ شام کے حوالے سے غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔ اب فیڈیریکا موغرینی شام کے معاملات میں یورپی یونین کے لئے جگہ بنانے میں مصروف ہیں ۔ اس حوالے سے دمشق میں صدر بشار الاسد سے رابطے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔ موغرینی نے اس بارے میں اقوام متحدہ کے سابق سکیرٹری جنرل سمیت نئے سیکرٹری جنرل سے بھی ملاقات کی ہے ۔ وہ خفیہ طور پر شام میں امریکی و مغربی حمایت یافتہ باغی گروپوں سے بھی ملی ہیں۔ ان میں سے ایک صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف قومی اتحاد کے رہنما انس العبدہ بھی ہے ۔
انس العبدہ کے قریبی ذررائع کے حوالے سے برطانوی روزنامہ دی ٹائمز نے لکھا ہے کہ فیڈیریکا موغرینی چاہتی ہیں کہ شام کو حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے اُن کے منصوبے کی روشنی میں تنازعہ کو حل کرنے کے لیے آگے بڑھا جائے ۔ اس منصوبے میں سیاسی نظام کی تبدیلی کا عمل بڑا مبہم ہے ۔ لیکن اخبار کے مطابق فیڈیریکا موغرینی نے وعدہ کیا ہے کہ اگر فریقین متفق ہو جائیں یورپی یونین ملک کی تعمیر نو کے لئے امداد دینے پر راضی ہوگی۔ فیڈیریکا موغرینی کے اس وعدے کو سیاسی پنڈت بڑی اہمیت دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس طرح شام میں سیاسی تبدیلی کے لیے ایک نئی مخلوط حکومت تشکیل دینے کے لئے کام کیا جائے گا۔
دی ٹائمز نے لکھا ہے کہ یہ منصوبہ صدر بشار الاسد کو اس صورت میں مالی امداد مہیا کرنے کی خفیہ پیشکش ہے اگر باغی گروہ ملک کے کچھ حصوں پر اپنا قبضہ بحال رکھ سکیں۔ اور انہیں دمشق میں حکومت میں بھی حصہ دیا جائے۔ اخبار کے مطابق اس منصوبے کے تحت فیڈیریکا موغرینی صوبوں میں باغیوں کو ٹھوس تحفظ دیتے ہوئے انہیں با اختیار بنانا چاہتی ہیں۔ اور مرکز کی طاقت کم کرنے کی حمایت کررہی ہیں۔ منصوبے پر عملدرآمد کی صورت میں باغی گروپوں کے مسلح جتھے مقامی یعنی صوبائی سیکورٹی فورسز میں ضم ہو جائیں گے ۔
یورپی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے امور خارجہ کی کمشنر فیڈیریکا موغرینی کہہ چکی ہیں کہ نئے شام سیاسی احتساب اور ذمہ داری کا نظام ہو اور مرکز کے اختیارات کم کئے جائیں۔ صوبوں کو اپنے فیصلے کرنے میں آزاد کیا جائے۔ فیڈیریکا موغرینی کا خیال ہے کہ شام میں اعتدال پسند اورجمہوریت پر یقین رکھنے والے باغی موجود ہیں۔ جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغی گروپوں میں سے اکثر جہادی ہیں اورمذہبی شدت پسندانہ نظریات رکھتے ہیں۔ وہ اپنے نظریات کے نفاذ کے لیے مذہب کو سیاسی پتھیار کے طور پر ترک نہیں کریں گے۔ انگریزی زبان کے ایک آن لائن روسی اخبار ’’ دی دُوران ‘‘ نے اس یورپی منصوبے کو مسترد کیا ہے۔ اخبار اداریے میں لکھا ہے کہ یورپی یونین صدر بشار الاسد کو امداد لا لالچ دے کرالقاعدہ کو شام کے مختلف علاقوں میں خود مختاری دلوانا چاہتی ہے۔
کینیڈا کے ماہراقتصادیات اور گلوبل ریسرچ آن لائن اخبار کے مدیر میخیل چوسودوسکی نے بھی شام کو تقسیم کرنےکے ہرمنصوبے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یورپی یونین کا یہ منصوبہ دراصل شام کے لیے اُسی منصوبے کی ایک نئی شکل ہے جس پر امریکہ ایک عرصے سے غور کر رہا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ شام کو یوں تقسیم کر دیا جائے کہ دمشق کُردوں، سنیوں اور شیعہ و عیسائی آبادیوں والے مختلف علاقوں کے حصار میں آجائے۔ کیونکہ اس طرح امریکیوں کو اِن علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے اور کنٹرول کرنے کا موقع مل سکتا ہے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ اور اسرائل نواز ہنری کسنجر نے بھی اگست 2013 میں شام کو تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا ۔ انہوں نےمیشیگن یونیورسٹی کے فورڈ سکول آف پبلک پالیسی میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ شام کچھ چھوٹے بڑے خود مختار علاقوں میں بٹ جائے اور ان علاقوں کے ساتھ ہمیں دوستی بڑھانے میں نہ تو کوئی مشکل ہوگی اور نہ ہی ہم دمشق کے محتاج رہیں گے ۔
فیڈیریکا موغرینی کے حالیہ منصوبے سے پہلے یورپی یونین اپنے اس مطالبے پر ڈٹی ہوئی تھی کہ بشار الاسد اقتدار چھوڑ دیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے متعدد بار یورپی یونین کے مختلف رہنماؤں اور یونین کے بیشتررکن ممالک کے سربراہوں کے ایسے بیانات نشر کیے جن میں بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹ جانے پر زور دیا جاتا رہا تھا۔ اس سلسلے میں یورپی یونین کے امور خارجہ کی سابق کمشنر کیتھرینے اشٹون نے تو اعلان کیا تھا کہ بشار الاسد کو جانا پڑے گا۔ اب فیڈیریکا موغرینی کے منصوبے میں شام کی انتظامی تقسیم کا مطالبہ یونین کی پالیسی میں واضح تبدیلی ہے۔ یہ منصوبہ یورپ اور امریکہ کے دیرینہ خواب کا پرتو ہے کہ شام کو کمزور منقسم کیا جائے۔
یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا یورپی یونین، امریکی و اس کے دیگر اتحادیوں کی یہ خواہش پوری ہو سکے گی۔ فی الحال اس منصوبہ کیا کامیابی کا امکان نہیں ہے۔ شام کے معاملات پر روس، ترکی اور ایران اتحاد کی گرفت اب پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ یہ ممالک شام کے اتحاد کے حامی ہیں۔
(نصر ملک، ڈنمارک سے شائع ہونے والے آن لائن جریدے اُردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ، کے مدیر ہیں)