پنڈی کا کتاب بازار
انگریزی اخبار ڈان کے رپورٹر عامر یٰسین کی خبر کے مطابق راولپنڈی صدر کی بنک روڈ اور حیدرروڈ پر منعقد ہونے والے بازار پر ٹریفک پولیس نے پابندی لگا دی ہے۔ یہ خبر پڑھتے ہوئے دفعتاً ایک ذاتی نقصان کا احتمال ہوا اور نقش ماضی کی کئی یادیں اُبھرتی چلی آئیں۔
میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے ایک ایسے گھر میں جنم لیا جہاں کتاب کو سب سے قیمتی چیز سمجھا جاتا ہے۔ میرے والد فتح محمد ملک کی زندگی کا کوئی دن کتاب کی رفاقت کے بغیر بسر نہیں ہوا۔ چند برس قبل دل کے بائی پاس آپریشن کے لئے ہسپتال داخل ہوئے۔ آپریشن تھیٹر جانے سے پہلے ان کی آخری ہدایت کتابوں سے متعلق ہی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن میں کتاب پر رنگ بکھیرنے کے جرم میں پہلی پٹائی بھی کتاب کی وجہ سے ہوئی تھی۔
بچپن میں اتوار کے روز والد محترم مجھے اور طارق کو صدر کے کتاب بازار میں لے جاتے اور پھر کامران کیفے کے مشہور کلب سینڈوچ کھلاتے۔ ہم اپنی دلچسپی کی کتابوں میں کھو جاتے۔ اُس زمانے میں عمرو عیار کی داستان، طلسم ہوش ربا، اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید کی سیریز اور ابن صفی کے جاسوسی ناولوں کا چسکا لگا۔ صدر کے اسی کتاب بازار میں والدِ محترم کے دوستوں سے بھی ملاقات ہوتی۔ کئی دفعہ سید ضمیر جعفری مرحوم، بریگیڈئر صدیق سالک مرحوم کے ہمراہ ہمیں اپنی نیلے رنگ کی کرولا کار میں گھماتے۔
سرسید کالج میں داخلہ ہوا تو کالج کے دیگر طالب علموں کی طرح ہر اتوار کتاب بازار جانا ہوتا اور پھر صدر کے مشہور کریم ہوٹل کے سموسے اور کشمیری چائے سے لطف اندوز ہوتے۔ یاد رہے کہ یہ وہی سرسید کالج ہے جس کے سابق طالب علموں میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، فواد حسن فواد، طارق ملک، وزیر مملکت ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور دیگر کئی ممتاز شخصیات شامل ہیں۔ کتاب بازار میں کالج کے اساتذہ معروف کالم نگار عرفان صدیقی، رشید امجد اور جلیل عالی سے بھی شرفِ ملاقات ہوتا۔
قائدِ اعظم یونیورسٹی کے دنوں میں یونیورسٹی کے دوست عمر حمید، موسیقار ابرارالحق کے ہمراہ جانا ہوتا۔ انہی دنوں وزیرِ مملکت برائے اطلا عات مریم اورنگزیب بھی وہاں کتابیں خریدتی دکھائی دیتیں۔ رؤف کلاسرہ ادب کی کتابوں کے رسیا ہیں۔ انگریزی اور فرانسیسی ناولوں کی ہر وقت تلاش میں رہتے ہیں۔ میں ان کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے بالزک مایو یو زو کے پرانے شائع شدہ ایڈیشن تلاش کرتا اور وہ بے تابی سے کتابوں کا انتظار کرتے۔ صحافت کی ہنگامی خیز اور چکا چوند دنیا سے اکثر وقت نکال کر پنڈی کے اِس بازار میں جانے کی آرزو کرتے۔
اِس قسم کے دورے کی ابتدا پنڈی کی مشہور نہاری کے ناشتے سے ہوتی اور پھر کتابوں کی خریداری کا پلان بنایا جاتا۔ گزشتہ اتوار کو اس پلان کو عملی شکل دینے کا وعدہ کرکے رؤف کلاسرہ رخصت ہوئے لیکن آج اخبار میں جب یہ خبر پڑھی کہ ٹریفک پو لیس نے ٹریفک کو جواز بنا کر کتاب بازار پر پابندی عائد کر دی ہے تو دل بجھ سا گیا۔
کوئی ٹریفک پولیس افسروں سے پوچھے کہ اتوار کے روز چند گھنٹے بند دوکانوں کے سامنے فٹ پاتھوں پر سجے کتابوں کے اِس بازار سے اگر ٹریفک پولیس گاڑیوں کا داخلہ ہی منع کر دے اور سڑک کو صرف پیدل چلنے والوں کے لئے کھول دے تو کتب بین خواتین و حضرات سستی اور مختلف موضوعات پر معیاری کتابوں سے محروم نہیں ہو سکتے۔ لیکن چند کتابیں رٹنے کے بعد مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہونے والے اعلیٰ افسران کو یہ بات کون سمجھائے۔
شاید حکمرانوں کو آج کتابوں کے بجائے اس روڈ پر فوڈ اسٹریٹ بنانے کا شوق چرایا ہو، تاکہ قوم ذہن کے بجائے معدہ سے سوچنے لگے۔ اور یوں بھی کتابیں پڑھنے والی قومیں سوال اُٹھانے لگتی ہیں اور طاقتور حکمران اشرافیہ جواب دینا اپنی توہین سمجھتا ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اُستادِ محترم پروفیسر عرفان صدیقی اور وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب جو زمانۂ طالب علمی میں اپنا ماہانہ جیب خرچ اسی کتاب بازار سے کتابیں خریدنے پر صرف کرتی تھیں، اُنہیں بھی یہ فیصلہ ناگوار گزرا ہوگا۔ امید ہے کہ جلد ہی کتاب بازار پر لگنے والی پابندی ختم ہوگی۔