اگر مجھے نیا سال مل جائے ۔۔۔

میں بیماری سے نڈھال بستر پر لیٹا تھا کہ وہ میرے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی ، چہرے پر پریشانی کے تیور واضح تھے، ماتھا پسینے سے شرابور، گھبراہٹ سے اس کے منہ سے آواز بھی ٹھیک سے نہیں نکل رہی ہے ۔ وہ بات بات پر لڑکھڑ ا رہا ہے ، اس نے اچانک ماتھا پیٹنا شروع کردیا۔ 

ہائے ! میں برباد ہوگیا ، میں لٹ گیا ، میری مٹی رُل گئی، ہائے! کمبخت مارو تمہیں کیا ہؤا۔ میں نے اس کی حالت دیکھ کر خود ہی ہمت باندھی۔ اپنے بستر سے اٹھا اور اسے اپنے قریب بٹھا لیا۔ شیشے کا جگ اٹھایا گلاس میں پانی ڈال کر اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے پانی غٹا غٹ پینا شروع کردیا ، پھر دوسرا گلاس پیا۔  میں نے ٹشو اس کی طرف بڑھا اس نے منہ اور ماتھے سے پسینہ صاف کیا۔ پانی پی کر اس کے اوسان کافی حد تک بحال ہوچکے تھے۔ میں نے اس سے مسئلہ پوچھا تو کافی دیر تک تو میرا سوال سن کر گم صم بیٹھا رہا۔ چند لمحے بعد اس نے خاموشی کا قفل توڑا ۔

جناب! مجھے نہ تو خالص ادویات ملتی ہیں ، نہ دودھ ، نہ پانی اور حتیٰ کہ شراب بھی زہریلی ہے۔ پھر بھی حکمران جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اس نے اپنے شکوے میں میرے آگے سوال رکھا۔ میں نے موضوع تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ تم ہو کون۔ تمہارا تعارف کیا ہے۔ اس نے بھی دوبارہ تقریر شروع کردی۔ میں آپ کو بینکوں کے باہر قطار میں کھڑے ہو کر بل جمع کرواتا ہوا ملوں گا ، کبھی شناختی کارڈ کے حصول کےلئے نادرا کے دفاتر کے دھکے کھاتا ہوا ملوں گا ، کبھی پاسپورٹ آفس میں پریشان حال ، کبھی واپڈ ، واسا ، سوئی گیس ، انکم ٹیکس آفس میں افسروں کے سامنے اپنے حقوق کے لئے فریادیں کرتا ملوں گا ۔ 

 میں نے اس کی بات کاٹی لیکن تمہاری اس پوری تقریر میں تمہارے نام کا کہیں ذکر نہیں۔ اس نے مجھ پر طنز کے نشتر چلانے شروع کردیئے۔ کمال کرتے ہیں۔ میں آپ کو اچھا خاصا سمجھدار انسان سمجھ رہا تھا۔ آپ تواس وقت مجھے دنیا کے سب سے بڑے بیوقوف شخص لگ رہے ہیں۔ پھر اس نے شعر پڑھا:
مجھے شہروں سے اندازہ ہوا ہے
درندے نہیں ہیں اب جنگلوں میں

میں نے گفتگو کا سلسلہ دوبارہ  جوڑا۔  ٹھیک ہے مثبت تنقید آپ کا حق ہے لیکن آ پ نے مجھے نہیں بتایا کہ آپ کون ہیں۔ کیا آپ نے کسی کو ہسپتالوں کے دروازوں پر سسکتے، بلکتے مرتے نہیں دیکھا۔ ہاں دیکھا ہے۔ پھر بھی آپ مجھ سے میرا نام پوچھ رہے ہیں۔  بھئی ہسپتالوں میں ماجے، ساجے ، دینے ، گامے کے ناموں والوں کو مرتا دیکھا ہے۔ گڈ۔۔ آپ نے اپنے ذہن پر زور دینا شروع کردیا ہے۔  شعور نے مزید آنکھ کھولی تو آپ کو ان سب کا ایک یکساں نام مل جائے گا۔ بس میرا تعارف یہی ہے۔ میں سمجھ گیا میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ تم عام آدمی ہو۔ جی ۔۔۔ جی ، آپ صحیح پہچانے ۔۔۔ جی میں وہی ہوں۔

تو میرے پاس کیا لینے آؤ ہو۔ میں کوئی اشرافیہ ہوں ۔’ صاحب نیا سال شروع ہوگیا ہے‘ اس نے کہا ۔۔۔ ہاں تو، ’اگر مجھے یہ سال مل جائے‘۔۔۔ تو کیا کرو گے۔ میں نے کہا ۔ ’جناب ! اگر مجھے نیا سال مل جائے تو اپنے گناہوں کا بوجھ ہلکا کروں گا ۔ غریبوں کے آنسوں پونچھ دوں گا۔ محبتوں کے پھول دوسروں کی زندگی میں سجا دو ں گا ۔۔۔ اگر مجھے مل جائے نیا سال ۔۔۔