بدعنوانی سے لڑنا اجتماعی ذمہ داری ہے

میں آج طویل مدت کے بعد  لکھنے لگا ہوں۔ میری یہ غیرحاضری بلاوجہ نہ تھی۔ بلکہ میں کالم لکھنے سے بھی ضروری کام میں مصروف رہا ہوں۔ عام طور پر لکھنے والے حضرات نہ تو کسی عملی کام میں حصہ لیتے ہیں اور نہ ہی اپنے اہل و عیال کو زیادہ وقت دیتے ہیں۔ لیکن میرا معاملہ ذرا مختلف ہے اور میں اپنے گھر والوں  خصوصی طور پر اپنی والدہ صاحبہ کو وقت دیتا ہوں۔ گھر کے کام کاج کرتا ہوں اور ساتھ ساتھ سماجی معاملات میں بھی حصہ لیتا ہوں۔ جہاں کسی کو ضرورت ہو اس کی مدد کی بھی پوری کوشش کرتا ہوں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ صرف لکھ کر مسائل کی نشاندہی کردینا کافی نہیں ہے۔ ہمیں اپنی حد تک عملی طور پر بھی اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے ۔ پچھلے ہفتے میں اپنے آبائی گاؤں گیا تو مجھے پتہ چلا کہ گاؤں کے ایک غریب گھرانے کی لڑکی کا گجرات کے ایک نجی ہسپتال میں ایک انتہائی پچیدہ آپریشن ہوا ہے۔ وہ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ میں اس لڑکی بلکہ بیٹی کہوں گا کے مسئلے سے آگاہ تھا۔ میں نے سن رکھا تھا کہ وہ آپریشن کے بغیر زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی۔  اپریشن کا خرچہ 4 لاکھ ہے۔ پھر بھی گارنٹی  نہیں کہ آپریشن کامیاب ہوگا ۔ لیکن اب پتہ چلا کہ گجرات کے اس ہسپتال نے 2 لاکھ میں اپریشن کی حامی بھری تھی اور شاید اس سے بھی کم خرچ میں کام  ہو جائے۔ پچھلے منگل کو میں اس لڑکی کے کچھ رشتہ داروں کے ساتھ اسے دیکھنے چلا گیا۔

 وہاں جا کر جو دیکھا تو میں اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔ ایک تو اتنی پیاری سی بیٹی اتنے مشکل آپریشن کے بعد مصنوعی سانس کے سہارے پر تھی۔  سب کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔ اوپر سے ہسپتال کے خرچے۔۔۔  ڈاکٹر کا رویہ ۔۔۔ جس دن میں وہاں گیا اس وقت تک ہسپتال کے اخراجات اڑھائی لاکھ سے تجاوز کر چکے تھے۔ خیال تھا کہ یہ خرچہ  4 لاکھ کی حد عبور کر جائے گا۔ جس وجہ سے اس بیٹی کے لواحقین انتہائی پریشانی کے عالم میں تھے۔ ان کے پاس دو ہی راستے تھے۔ یا تو وہ مزید رقم کا انتظام کریں یا پھر بیٹی کو موت کے حوالے کر دیں۔ اس بچی کے باپ اور نانا نے مجھے کہا کہ میں ڈاکٹر صاحب سے بات کروں اور لڑکی کی صحت کے متعلق صحیح معلومات حاصل کروں۔ ساتھ ہی خرچے کے حوالے سے بھی بات کروں۔ کہ مالی معاملات اس گھرانے کی پہنچ سے بہت آگے نکل چکے تھے۔ ابھی تک کچھ پتہ نہیں تھا کہ کتنی دیر اور اسی حالت میں رہنا پڑے گا ۔

میں ڈاکٹر صاحب کے وارڈ میں آنے کا انتظار کرنے لگا۔ جب وہ تشریف لائے تو میں نے مصافحہ کرتے ہوئے اپنا نام بتایا اور بات کرنے کے لئے چند منٹ مانگے۔ تو انہوں نے کہا کہ میرے دفتر میں آکر مجھ سے بات کرنا اور میری مزید بات  سنے بغیر آگے بڑھ گئے۔  ان کے ساتھ عملہ کے لگ بھگ 5 افراد تھے۔ ان کا کام صرف ڈاکٹر صاحب کو پروٹوکول دینا تھا۔ میں ڈاکٹر صاحب کے دفتر کے باہر انتظار کرتا رہا ۔ وہ جونہی دفتر آئے تو میں ان کے پاس گیا۔ پہلے تو انہوں نے یہ کہہ کر مجھے واپس کر دیا کہ میں باہر بیٹھے ان کے کارندے کو ساتھ لے کر اندر نہیں گیا تھا۔  جب میں نے اس کارندے سے بات کی تو وہ مجھے باہر انتظار کا کہہ کر اندر داخل ہوا۔ اس کے بعد پھر مجھے اندر آنے کو کہا۔ میں اپنے ساتھ اس بچی کے نانا کو بھی لے گیا تھا۔ جن کو اندر داخل ہوتے دیکتے ہی ڈاکٹر نے باہر نکال دیا۔ اور مجھے سامنے پڑی سائل کی بینچ نما کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔ لیکن میں وہاں بیٹھنے سے انکار کرتے ہوئے ڈاکٹر کے پاس والی کرسی پر جا بیٹھا جو ان کو ناگوار گزرا۔  انہوں نے مجھ سے بات کرنے سے ہی انکار کر دیا اور کہا کہ میں آپ کو نہیں جانتا اور میں اس مریضہ کے صرف ان لواحقین سے بات کروں گا، جن کے ساتھ پہلے دن سے میری بات چل رہی ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے لواحقین نے ہی بات کرنے کا کہا ہے۔ آپ ان کو بھی ساتھ بلوا لیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کو میرا وہاں بیٹھنا پسند نہیں آرہا تھا۔ میں بھی اپنی بات پر اڑ گیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ میں بھی اپنی بات کئے بغیر نہیں جاؤں گا۔ اور آپ کو اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔  ورنہ مجھے گھی نکالنے کے لیے اپنی انگلیوں کو ٹیڑھا کرنا پڑے گا ۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنے کارندے کو غصہ سے دیکھتے ہوئے کہا یہ کیا ہو رہا ہے۔ اس کارندے نے مجھے کہا کہ آپ میرے ساتھ باہر چلیں۔ میں نے جواب دیا کہ بچے یہ تیرے بس کا روگ نہیں کہ مجھے باہر نکال سکو۔ آخر ڈاکٹر صاحب نرم ہوئے اور بچی کے لواحقین کو بھی بلوا کر مجھ سے بات کرنے پر راضی ہو گئے ۔ پھر میرے سوالات کے جوابات میں وہ اپنی مجبوریوں اور مشکلات کا رونا رونے لگے۔ پاکستان اور پاکستانی قوم کو کوستے  رہے اور ساتھ ہی مجھے یہ بتانے لگے کہ انہوں نے 7 سال تک برطانیہ میں نوکری کی ہے۔ وہ یورپ کے نظام صحت کے متعلق بتانے لگے تو پھر میں نے بتایا کہ جناب یورپ کے حوالے سے میں بھی کچھ جانتا ہوں۔  اگر آپ اتنا عرصہ برطانوی نظام میں گزارنے کے بعد بھی اس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں تو پھر آپ نے وہاں کچھ سیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے ۔

کافی دیر اسی طرح تک ہماری بحث چلتی رہی۔ ڈاکٹر صاحب کا رویہ بھی قدرے بہتر ہونے لگا اور اگلے دن سے انہوں نے لواحقین سے 2 ہزار روپے روزانہ کم لینے کا احسان فرمایا ۔ میں نے اپنی جیب سے اس بیٹی کے والد کی کچھ مدد کی، اپنے گاؤں کے لوگوں سے بھی اپیل کی اور اپنے چند دوستوں سے بھی گزارش کی۔ جس کے نتیجے میں ابھی تک مجھے ایک لاکھ روپے وصول ہو چکے ہیں۔ یہ رقم طارق شہباز صاحب جو میرے بڑے بھائی جیسے دوست ہیں اور ناروے کے اہم  سیاسی راہنما ہیں، نے اپنی جیب سے مجھے بھیجی ہے۔  ان کے علاوہ دوسرے دوستوں جن میں چوہدری تنویر،  سجاد شاہ، عاشعر حسین عاشی اور یوسف گیلانی بھی شامل ہیں  کے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ اس طرح ایک دو دن میں مزید رقوم بھی مل جائیں گی۔ اور امید ہے کہ ان فرشتہ صفت دوستوں کے سبب ہماری اس بیٹی کو نئی زندگی حاصل ہو جائے گی۔ ورنہ اس کے لواحقین کے پاس کوئی راستہ نہ تھا۔

اس واقعہ نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور میں اس دن سے یہی سوچ رہا ہوں کہ کیا ہم سب بد عنوان ہیں۔ کیا ہم سب اس قدر بے حس ہو چکے ہیں۔  کیا ہمارا سب سے بڑا مقصد  پیسہ ہی رہ گیا ہے۔ کیا ہم انسانیت کے درجے سے بہت نیچے گر چکے ہیں۔  تو پھر ہم صبح شام اپنے حکمرانوں،  سیاستدانوں اور بیوروکریسی کی بد عنوانی کا رونا کیوں روتے رہتے ہیں۔ جبکہ ہر کوئی حتی المقدور بدعنوانی میں ملوث ہے۔  ہم اگر روز مرہ  کے معمولات،  واقعات اور حادثات پر غور کریں تو یہی سمجھ آتا ہے کہ ہم بطور ایک قوم بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہر کوئی بدعنوانی کے خلاف برسر پیکار بھی ہے۔ ملکی اکثریت بدعنوانی سے پاک معاشرے کی خواہاں ہے۔ لیکن دانستہ یا غیر دانستہ ہر شخص کسی نہ کسی شکل میں بدعنوانی میں ملوث بھی ہے۔ جس کو دیکھو وہ حکمرانوں اور اشرافیہ کے پروٹوکول سے تنگ نظر آتا ہے لیکن خود اپنی اپنی حیثیت میں پروٹوکول کا متمنی بھی ہے۔

آج کل اسرائیل کا وزیراعظم بدعنوانی کے الزامات کی زد میں ہے اور بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پولیس نے 3 گھنٹے تک اپنے وزیراعظم سے پوچھ گچھ کی ہے۔ کیا ایسی کوئی مثال وطن عزیز میں بھی ملتی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں ہی سانحہ کوئٹہ پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ  کمیشن رپورٹ سامنے آئی ہے۔  (شکر ہے کہ 70 سالوں میں پے در پے سانحات پر بننے والے کمیشنز میں سے کسی کی رپورٹ بھی سامنے آئی ) اس رپورٹ میں ایسے ایسے انکشافات ہوئے ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ اس ملک میں نہ تو کوئی قانون ہے اور نہ کوئی حکومت ہے۔ اوپر سے ہمارے شعلہ بیان وزیر داخلہ صاحب ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے سیخ پا ہو کر پریس کانفرنس کرکے  کمیشن پر برس پڑتے ہیں۔  فرماتے ہیں کہ ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کو بھی سامنے لایا جائے۔  حضور والا وزیر داخلہ تو آپ ہی ہیں نا! پھر کس کس رپورٹ کی بات کی جائے۔  آپ نے فرمایا ہے کہ آپ کا استعفی وزیراعظم  نے قبول نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ اپنی غلطی ہی تسلیم نہیں کرتے تو پھر استعفی کس بات پر دے رہے ہیں۔  اور اگر آپ کو اپنی غفلت کا احساس ہو ہی گیا ہے تو پھر استعفی دیں اور گھر جائیں۔ وزیراعظم قبول کریں یا نہ کریں آپ کا کیا لینا دینا۔

  مگر اپنے وطن میں استعفوں کی روایت ہے ہی کہاں۔ یہاں تو کرکٹ یا ہاکی ٹیم کے کپتان کو بھی ہاتھ پاؤں باندھ کر گھر بھیجنا پڑتا ہے۔ تو پھر حکومتی پروٹوکول اور مراعات کو کون چھوڑے۔ جن اداروں کا کام بدعنوانی کا سدباب کرنا ہے وہی ادارے بدعنوانی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ نیب کی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ اسی طرح اس ملک کا ہر ادارہ بدعنوانی میں دوسرے کو مات دینے کی کوشش میں مصروف ہے۔ سب سے بڑھ کر ہمارے ملک میں صحت اور تعلیم کے ساتھ جو ہاتھ ہو رہا ہے اس سے بڑا کوئی ظلم نہیں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ کسی کو بھی سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں پر اعتماد نہیں۔  لہذا ہر غریب اور امیر نجی سکولوں اور ہسپتالوں کا  محتاج ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کے ہر گلی محلے میں نجی سکولوں، ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے بورڈ آویزاں نظر آتے ہیں۔ جو بھی ان کے ہتھے چڑھ جائے وہ پھر اپنی کھال کی خیر منائے۔

ستم بالائےے ستم یہ  ہے کہ اگر کوئی اس ظلم کے پر آواز اٹھانے کی کوشش کرنا چاہے یا لوگوں کی سوچ بدلنے اور ان کی درست سمت کی طرف اصلاح کرنے کی کوشش کرے تو سب لوگ اس کو اس کام سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ڈراتے ہیں کہ یہ کام نہ کرنا ورنہ مارے جاو گے۔ لیکن میں جانتا ہوں اور میرا پختہ ایمان ہے کہ جب بھی کوئی اس بد عنوانی کے خلاف جنگ کرنے کے لئے بے لوث نکلے گا تو لوگ جوق در جوق اس کے ساتھ ملیں گے۔  کیوں کہ اس ملک و قوم میں آج بھی بےشمار ایسے لوگ موجود ہیں جو حق کا ساتھ دینے والے ہیں، جو پاکستان کی ترقی کے خواہاں ہیں۔

ان لوگوں سے بس یہ التجا ہے کہ کسی کا انتظار مت کریں۔ اٹھو اور اپنی اپنی سطح پر آواز بلند کرو، قدم بڑھاؤ، آگے بڑھ کر ظالم کا ہاتھ روکو، جھوٹ کا گلہ گھونٹ دو، بدعنوانی کا سدباب کر دو۔ مظلوموں کو پنجہ استبداد سے نجات دلا دو۔ اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کرکے وطن عزیز کو اندھیروں سے نکال دو۔