سکھر جیل کا ایک دن
یہ سکھر جیل کا سیاسی وارڈ تھا۔ ہم ایک کپ گُڑ کی چائے اور ریت ملی ایک چپاتی کھا کر وارڈ کے صحن میں بیٹھے تھے۔ رسول بخش پلیجو ، آنکھوں پہ بازو رکھے بچھی دری پر لیٹے تھے۔ جانِ عالم ، اداس نسلیں پڑھنے کی تیاری کر رہا تھا ، زبیر الرحمان ( جو آج کل ایکسپریس میں کالم لکھتا ہے ) آئے ہوئے چنوں کو گن رہا تھا تاکہ سب کو برابر تقسیم کر سکے۔ پیپلز پارٹی کا ناصر بلوچ ( جس کو بعد میں پھانسی دے دی گئی تھی ) پیپلز پارٹی کے مسرور حسن سے کسی بات پہ اونچی اونچی آواز میں جھگڑا کر رہا تھا۔ اور پیپلز پارٹی کے کچھ کارکن والی بال کھیلنے میں مصروف تھے۔
ہم بیس تیس آدمی تھے جن کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے تھا۔ میں آزادیِ صحافت کی تحریک کے سلسلے میں قید تھا۔ ہم سب سکھرجیل کے سیاسی وارڈ میں جمع تھے۔ ہمارا وقت سیاسی تجزیوں ، گانے گانے ، ایک دوسرے کو گندے لطیفے سنانے ، شیو کے لیے بلیڈ پر جھگڑنے والوں کی آپس میں صلح کرانے، دوسری سیسای جماعت کے کارکنوں کو اپنی پارٹی کی طرف راغب کرنے، مٹی کی کنکریوں سے فلاش کھیلنے، پودوں کو پانی دینے اور ہر رات شاعری سننے اور سنانے میں گزر رہا تھا۔
جیل میں سیاسی کارکن چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے آپس میں الجھ جاتے ہیں۔ دراصل جب آپ باہر ہوتے ہیں تو جس سے نہ ملنا چاہتے ہوں اس کی گلی چھوڑ کر دوسری گلی سے گزر جاتے ہیں یا سامنے آنے پر دوسری طرف منہ پھیر کر نکل جاتے ہیں۔ مگر جیل اور ریل میں آپ سے یہ آزادی چھین لی جاتی ہے۔ جیل میں آپ کو اسی وارڈ میں رہنا پڑتا ہے جس میں آپ کو رکھا گیا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی دن رات انہی کے ساتھ رہنا پڑتا ہے جن کو آپ کے ساتھ وارڈ میں رکھا گیا ہے ۔ مگر دیکھنے میں آیا ہے ہر وقت ایک جیسے آدمیوں کو دیکھتے دیکھتے ایک سی دیواریں چھت اور سلاخوں کو تکتے بہادر سے بہادر قیدی بھی ایک وقت پر آ کے چڑ چڑا سا ہو جاتا ہے۔ اور پھر ایسے ہی پہلے اخبار پڑھنے، کسی سیاسی تجزیہ کے دوران بحث میں، تاش کے غلط پتہ پھیکنے پر، ساتھوں سے لڑتا ہے۔
اس دن بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا ۔۔ والی بال کھیلنے والے کسی غلط شاٹ پر آپس میں لڑ پڑے تھے۔ صلح کروانے کی جتنی کوشش کی جارہی تھی، بات اتنی ہی زیادہ بگڑ رہی تھی۔ ایک دوسرے کو گالیاں بھی دی جارہی تھیں اور کچھ لوگ یہ سب دیکھ کر قہقہے بھی لگا رہے تھے۔ جب بات حد سے زیادہ بڑھ گئی اور بہت شور و غُل مچنے لگا تو جیل انتظامیہ اپنی پوری پلٹںن کے ساتھ ہمارے وارڈ میں آگئی۔ انہوں نے آتے ہی ہم پہ زور زور سے بولنا شروع کر دیا۔ ہم نے انتظامیہ کو لاکھ کہا کہ یہ ہمارا آپس کا مسلئہ ہے، ہم خود ہی نمٹ لیں گے۔ مگر انظامیہ کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔ مزے کی بات کہ لڑنے والے سب متحد ہو کر اب انتظامیہ سے لڑ رہے تھے کہ تمہیں جرات کیسے ہوئی ہم سیسای لوگوں میں مداخلت کرنے کی ۔
اس دوران لوگوں نے اونچی انچی آواز میں انتظامیہ کے خلاف نعرے لگانا شروع کر دیئے۔ میرا خیال تھا بات کچھ اور ہے۔ آخر ایک سندھی سپاہی پلیجو صاحب کو ایک طرف لے گیا اور ایک دو منٹ ان سے باتیں کرتا رہا۔ پلیجو صاحب زمین کی طرف دیکھتے واپس آئے۔ نظر آرہا تھا ان سے چلا نہیں جارہا۔ انہوں کہا کہ سب لوگ وارڈ کے اندر آجائیں ایک اہم خبر ہے۔ ہم سب وارڈ کے اندر آکے بستروں پہ بیٹھ گئے۔ ہمارے اندر داخل ہوتے ہی سپاہیوں نے وارڈ کے دروازوں پر تالے لگا دیئے اور بندوقیں تان کر برآمدے میں کھڑے ہوگئے۔ پلیجو صاحب نے دھیمی آواز میں بتایا پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق نے بھٹو کو پھانسی کی سزا کا حکم سُنا دیا ہے۔
دس پندرہ منٹ ایسا سناٹا چھا گیا کہ میں نے زندگی میں ایسا سناٹا محسوس نہیں کیا۔ سب کے چہرے سوالیہ نشان بن گئے تھے۔ پھر ایک چیخ گونجی۔ پتہ نہ چل سکا یہ کس کی چیخ ہے۔ یہ وارڈ کے اندر سے اُبھری ہے یا وارڈ سے باہر سے آئی ہے۔ یا جیل کے باہر سے سنائی دی ہے۔ یا پورا ملک چلا رہا ہے۔ یا دنیا سے چیخ رہی ہے۔ کچھ دیر میں پوری جیل سے جیو بھٹو کے نعروں کی آوازیں آنے لگیں۔ ساری جیل کے قیدیوں کو پتہ چل چکا تھا۔ مگر لگتا تھا انتظامیہ نے سب قیدیوں کو وارڈوں میں بند کردیا ہے۔ اور برآمدوں میں مسلح سپاہی کھڑے کر دیئے گئے تھے۔
وہ چیخ ہے کہ اب تک مسلسل آ رہی ہے:
جس دھج سے کوئی مقتل گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی تو کوئی بات نہیں