نیا سال ، نئی صبح، نئی امیدیں

2016  کئی معنوں میں ایک پریشان کن اور مایوس کن سال کہا جارہا ہے۔ اور 2017 کی آمد پر لوگوں میں ایک امید کی کرن بھی جاگی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو 2016 میں پوری دنیا میں کئی ایسے حادثات اور واقعات ہوئے ہیں جس کے اثرات سے ہر آدمی کہیں نہ کہیں دوچار ہوا ہے۔ مثلاً برطانیہ کے لوگوں کا ریفرینڈم میں یورپ سے باہر ہونے کا فیصلہ، شام کی خانہ جنگی اور باغیوں کی شکست، ڈوناڈ ٹرمپ کا امریکی صدر کا الیکشن جیتنا،  روس اور امریکہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، پاناما پیپرز کے انکشافات، ترکی میں فوجی بغاوت کی کوشش، ہندوستان میں نوٹ بندی، عظیم باکسر محمد علی کا انتقال، کیوبا کے انقلابی لیڈر فیدل کاسترو کی موت ، ملکہ برطانیہ کی 90 ویں سالگر ہ وغیرہ۔ 2016  کافی اہم خبریں لے کر آیا تھا۔

آج ہم گزرے ہوئے سال کے چند اہم واقعات پر روشنی ڈالتے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ 2016 کیسا رہا اور کن کن واقعات نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا 2017 میں دنیا میں امن قائم ہوگا۔ یا آنے والے دن بھی ہم سبھی کو مزید الجھنوں اور پریشانیوں میں ڈال دیں گے۔ 21 اپریل کو ملکہ برطانیہ (Elizabeth Alexander Mary)  الیزیبتھ الیگزینڈرا میری 90 برس کی ہو گئیں اور انہوں نے اپنی  سالگرہ دھوم دھام سے منائی۔ یوں تو ملکہ اپنی سالگرہ ہر سال ہی دھوم دھام سے مناتی ہیں لیکن یہ سال  ان معنوں میں اہم تھا کیونکہ ملکہ نوّے برس کی ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے تخت پر اتنے لمبے عرصے تک برقرار رہنے والی پہلی ملکہ بھی بن گئی ہیں۔ اس موقع پر ملکہ کو خراجِ تحسین دیتے ہوئے برطانیہ کے اہم شہروں میں توپ کے گولے داغ کر سلامی دی گئی تھی ۔ لندن کے (Hyde Park) ہائیڈ پارک میں کنگس ٹروپ رائل ہارس آرٹیلیری نے اکتالیس بندوقوں کی سلامی دی اور آرٹیلیری کمپنی نے ٹاور آف لندن سے باسٹھ گولے داغ کر ملکہ کو مبارک باد پیش کی۔

مئی میں پاناما پیپرز کے منظر عام پر آتے ہی پوری دنیا کے سیاست دان ، بزنس مین اور مجرموں میں ایک زلزلہ سا آگیا تھا۔ کہیں کوئی استعفیٰ دے رہا تھا تو کوئی اپنی صفائی پیش کررہا تھا اور کوئی منہ بند کئے بیٹھا تھا۔ ایک خفیہ لا کمپنی (Mossack Fonesca) موزیک فونیسکا کے آفس کے کمپیوٹروں سے ایک نامعلوم شخص جان ڈو نے  ہزاروں دستاویزات نکال کر دنیا کے سامنے پیش کردی تھیں۔  پھر کیا تھا، ایسا لگا جیسے دنیا کے تمام سیاستدان چور ہیں۔ ان علومات میں بتایا گیا کہ کس طرح سیاساتدان، بزنس مین اور مجرم غیر قانونی طور پر پیسے کو چھپا رکھتے ہیں۔  اس کے علاوہ ٹیکس دینے میں بھی دھاندلی کرتے ہیں۔ دی انڈین ایکسپریس نے  رپورٹ میں بتا یا تھا کہ ہندوستان کے بھی لگ بھگ پانچ سو لوگوں کے نام پاناما پیپرز میں شامل ہیں۔ جن میں فی الحال معروف فلم اداکار امیتابھ بچن اور ایشوریا رائے کا نام قابل ذکر ہے۔ امیتابھ بچن 1993سے لگ بھگ چار شپنگ کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں ۔  وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جسے اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ پناما پیپرز میں پائے جانے والوں لوگوں کی چھان بین کرے اور ان کے نام شائع کرے۔

7 مئی کو برطانیہ کے تاریخ کا ایک اہم دن تھا جب پاکستانی نژاد صادق خان مد مقابل زیک گولڈ اسمتھ کو ہرا کر تاریخی شہر لندن کے مئیر بن گئے۔ صادق خان کی جیت کو اب تک کے لندن مئیر الیکشن کا  بہترین نتیجہ مانا جا رہا ہے۔ لندن کے ہر حصہ سے صادق خان نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے تھے۔ صادق خان نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں کہا تھا کہ ’ میری مہم بنا تنازعہ کے نہیں تھی لیکن قابلِ تعریف ہیں وہ
ووٹر جنہوں نے خوف کے مقابلے میں امید کو چنا ہے۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ میں لندن شہر کے لئے اپنے تمام وعدوں کو پورا کروں گا۔ میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ لندن شہر کو مزید بہتر بناؤں‘ ۔ صادق خان نے یہ بھی عہد کیا تھا کہ ’ وہ لندن اسمبلی کو شفاف، شمولیت اور رسائی والی انتظامیہ بنائیں گے‘۔

3 جون کودنیا کے عظیم باکسر محمد علی کا انتقال ہوگیا۔ اس خبر کو برطانیہ کے ٹی وی چینلز پر سرخیوں میں دکھایا گیا تھا تو یہ بھی بتایا  گیا تھا کہ باکسر محمد علی صرف باکسنگ کے لئے ہی  مقبول نہیں تھے بلکہ ان کی زندگی ایک تحریک ، احتجاج اور سبق لئے ہوئے تھی۔ جس کا ہر نسل کے لوگوں نے اعتراف کیا ہے۔ محمد علی نے اپنے پروفیشنل باکسنگ کیرئیر کا آغاز 1960میں شروع کیا تھا اور انہوں نے 1960کے روم اولمپکس میں لائٹ ہیوی ویٹ میں گولڈ میڈل جیت کر باکسنگ کی دنیا میں اپنے نام کی پہچان بنائی تھی۔ محمد علی کو (The Greatest) دی گریٹیسٹ کے نام سے بھی بلایا جاتاہے۔ محمد علی نے 1964میں سونی لسٹن کو ہرا کر ہیوی ویٹ باکسر کا خطاب جیتا تھا۔ اس کے علاوہ محمد علی دنیا کے پہلے ہیوی ویٹ باکسر تھے جنہوں نے اپنی کیرئیر میں تین بار ہیوی ویٹ باکسنگ کا خطاب جیتا ہے۔ انہوں نے 61 مقابلے لڑے، جن میں 56 بار انہیں جیت نصیب ہوئی تھی۔ ان میں  37 ناک آؤٹ تھے۔

23 جون کو برطانیہ کے تاریخی ریفرنڈم میں یورپ سے نکلنے والوں کی جیت ہوئی ۔ یورپ میں رہنے کی حمایت میں 48% فی صد ووٹ ڈالے گئے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں چھوڑنے کی حمایت میں 52% فی صد ووٹ ڈالے گئے۔ برطانیہ کے اس تاریخی ریفرنڈم میں 52% فی صد لوگوں نے اپنا ووٹ ڈال کر اس بات کی حمایت کی تھی کہ برطانیہ کو یوروپین یونین سے الگ ہوجانا چاہئے۔ جن میں کنزرویٹیو پارٹی ، لیبر پارٹی اور یوکِپ پارٹی کے سیاستدان شامل تھے۔ اس نتیجے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ برطانیہ میں  مشرقی یورپ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ داخل ہورہے ہیں، جس کی وجہ سے عام برٹش لوگوں میں غصہّ  بڑھ رہا تھا۔ تاہم یوروپین یونین کا ایک اہم اصول آزادانہ نقل و حرکت ہے جسے یونین چھوڑنے کے حامیوں نے ایک آفت بتایا تھا۔

8 نومبر کو دنیا کی نظر امریکہ کے الیکشن پر ٹکی ہوئی تھی کیونکہ یہ الیکشن کئی معنوں میں اہم اور چونکا دینے والا تھا۔ اس کی ایک اہم وجہ دونوں امیدوار تھے۔ ایک طرف دولت کا دیوتا ریپبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ تو دوسری طرف سابق صدر بل کلنٹن کی بیوی ، سینیٹر اور سابق سیکریٹری آف اسٹیٹ ڈیمو کریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن تھیں۔ لیکن جس کا ڈر تھا وہی بات ہوئی یعنی ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کا صدارتی الیکشن جیت لیا جس کا شاید ڈونلڈ ٹرمپ کو خود بھی احساس نہ تھا۔

آپ سب کو یہ بات تو اچھی طرح یاد ہوگی کہ ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار (Donald Trump) ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ کہہ کر امریکہ سمیت پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا کہ مسلمانوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ زیادہ تر مسلمان امریکہ سے نفرت کرتے ہیں اور مسلمانوں پر امریکہ آنے کی پابندی اس وقت تک ہونی چاہئے جب تک ہم اس بات کا پتہ نہ لگا لیں کہ آخر امریکہ میں ہو کیا رہا ہے‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ٹھیک اس وقت سامنے آیا تھا جب پوری دنیا میں اسلام  کے نام پر نام نہاد اسلامی تنظیمیں خون خرابہ کر رہی تھیں۔  ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا  کہ ’ اگر وہ صدر بنے تو شام کے ان پناہ گزینوں کو واپس شام بھیج دیں گے جو حال ہی میں امریکہ آکر آباد ہوئے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مہاجر امریکہ کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں‘ ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ وہ اسلامک اسٹیٹ کو بمباری سے  تباہ و برباد کر دیں گے‘۔ تاہم الیکشن جیتنے کے بعد  ٹرمپ نے مسلمانوں کے امریکہ آنے پر پابندی کی بات نہیں کہی ہے۔

25 نومبر کو فیڈل کاستروکا انتقال ہوگیا۔ فیڈل کاسترو ایک انقلابی اور متنازعہ شخصیت تھے ۔ کیوبا کے سابق صدر اور دنیا میں لمبی مدّت تک حکومت کرنے والے 90 سالہ فیڈل کاستروکو دنیا کے اہم لیڈروں کی فہرست میں ایک ’شناخت کے قابل لیڈر ‘ کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔ کیوبا کے سابق صدر فیڈل کاسترونے 50سال تک حکومت کرکے ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔ 19دسمبر کو ترکی کے ایک آرٹ شو میں روسی سفیر کے قتل سے دنیا سکتے میں آگئی تھی۔ کچھ عرصہ سے ترکی آفتوں میں گھِراہواہے۔ کبھی کردگروپ خود کش حملہ کرتے ہیں تو کبھی داعش کا خوف۔ کبھی فوجی بغاوت کی کوشش تو کبھی اپوزیشن کی سازش۔ اور تو اور شام کی خانہ جنگی سے ترکی پر مسلسل جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ کہا جارہاہے کہ اس کی ایک وجہ طیب اردگان کا اسلامی اقدار پر اصرار اور عوامی مقبولیت ہے۔

سال 2016 کئی معنوں میں تاریخ میں ایک اہم سال رہا ہے جس کے دوران کئی اتار چڑھاؤ دیکھے گئے تھے۔ اس سال میں  کچھ ایسے لوگ ہم سے جدا ہوگئے ہیں جنہوں نے اپنے کارناموں سے لوگوں کا دل جیت لیا تھا۔ لیکن ہر سال کی طرح ہم ایک بار پھر 2017 سے اس بات کی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ یہ سال دنیا میں خوشحالی اور امن کا پیغام لائے گا ۔ میں سیّد اطہر علی کے اس شعر سے آج کی بات کو ختم کرتا ہوں کہ:
پھر نیا سال نئی صبح نئی امیدیں
اے خدا خیر کی خبروں کے اجالے رکھنا