پرانا سا ایک اور نیا سال

  • تحریر
  • جمعہ 06 / جنوری / 2017
  • 3937

عام دنوں کی طرح یہ بھی ایک عام سا دن تھا لیکن کیلنڈر کے مطابق اس دن پرانا سال ختم ہوا اور نیا سال شروع۔ عالمی میڈیا میں گزرنے والے سال کی ایک بات کا بار بار تذکرہ ہوا کہ اس سال زمین کی گردش ایک اضافی سیکنڈ کے ساتھ مکمل ہوئی۔ سائنسدانوں کو فکر ہوئی کہ اس ایک اضافی سیکنڈ کے مطابق زمینی گھڑیاں ایڈجسٹ نہ کیں تو زمین کی گردش کے حساب اور انسانی گھڑی میں فرق آ جائے گا۔ سو ، سوچ بچار کے بعد اس ایک اضافی سیکنڈ کو لیپ سیکنڈ کے طور پر شامل کرکے گھڑیاں ایک سیکنڈ آگے کر دی گئیں۔ سال نو کے جتنے بھی پروگرام عالمی میڈیا پر سنے، سب میں باور کرایا گیا کہ ہوشیار باش، یہ سال ایک سیکنڈ کی طوالت کے ساتھ ختم ہوگا۔

اس لیپ سیکنڈ کے لیے ہم نے جتنا سائنسدانوں اور میڈیا کو متفکر پایا، اس کا عشر عشیر بھی ان جان لیوا مسائل کے لیے نہ پایا جنہوں نے پورے عالم کا ایک ایک سیکنڈ دوبھر کر رکھا ہے۔ ترکی کے شہر استنبول میں آبنائے باسفورس کے کنارے ایک نائٹ کلب میں نئے سال کی آمد کے جشن میں اندھا دھند فائرنگ سے انتالیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے۔ شام کے تاریخی شہر حلب کے مشرقی حصے میں سرکاری افواج کے قبضے کے بعد متحارب گروہوں کے درمیان جنگ بندی ہو گئی لیکن تیسرے ہی دن اس جنگ بندی کے پرزے یہاں وہاں اڑنے لگے۔ عراق میں موصل پرقبضے کی جنگ دھیرے دھیرے اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن اس دوران لاکھوں محصور لوگ اپنے انجام کے بارے میں دم سادھے جینے کا عذاب بھگت رہے ہیں۔ یمن میں جنگ پر عالمی میڈیا کی زیادہ توجہ نہیں لیکن وہاں کی صورتحال بھی ہر گزرتے لمحے بھیانک سے بھیانک تر ہو رہی ہے۔ ایسے میں کیلنڈر پر دن اور سال ضرور بدلا لیکن درجنو ں ملکوں میں خون، بارود اور موت کے منڈلاتے سایوں میں کچھ بھی بدلاؤ نہ آیا۔

اس کے باوجود بہت سارے واقعات نے گزشتہ سال کو ایک منفرد سال بنا دیا۔ بلکہ اس انفرادیت کا وافر حصہ اس نئے سال میں بھی جاری و ساری ہے ۔ عالمی سطح پر دہشت گردی اور انتہا پسندی نے پاؤں مزید پسار لیے۔ شام میں پانچ سالہ خانہ جنگی کے اختتام کی کوئی صورت بنی اور نہ عراق میں امن کے امکانات روشن ہوئے۔ یمن اور لیبیا بھی اسی طرح بارود اور خون میں لتھڑے رہے۔ سوڈان کی تقسیم کے باوجود امن دور دور دکھائی نہیں دے رہا۔ افریقہ کے نصفٖ درجن کے لگ بھگ ممالک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت ہے۔ یوکرائن میں حالت جنگ اسی شدت سے قائم دائم ہے۔ روہینگیا کے مسلمانوں پر برما کے مظالم جاری رہے۔ فلسطین اور کشمیر بدستور جبر کے سائے میں سسکتے رہے۔

سیاسی میدان میں عالمی سطح پر معاملات میں بگاڑ اور بے یقینی میں اضافہ ہوا جس میں اس نئے سال میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ برطانیہ نے Brexit کے ذریعے یورپ سے نکلنے کا فیصلہ کیا دیا، دائیں بازو کی ہوا ہی چل پڑی۔ فرانس۔ ہالینڈ، آسٹریا۔۔۔۔ اور اب جرمنی میں بھی ۔ دائیں بازو کی انتہا پسند نسلی رجحانات والی پارٹیوں کے ووٹ بنک میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ لاکھوں مہاجرین کی یورپ آمد اور بعد ازاں د ہشت گردی کے متعدد واقعات میں چند مہاجرین کے ملوث ہونے کی وجہ سے اینٹی مہاجرین اور اینٹی امیگریشن جذبات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران مقامی معاشی مشکلات نے بھی مہاجرین اور تارکین وطن کے خلاف جذبات کو ہوا دی اور یوں سیاسی ترازو دائیں بازو کی نیشنسلٹ پارٹیوں کے حق میں جھکتا گیا۔

پاپولر سیاست کا جادو امریکہ میں سر چڑھ کر بولا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع فتح نے بڑے بڑے پیشین گوجغادریوں کو چت کر دیا ہے۔ امریکہ کی روایتی اسٹیبلشمنٹ سے ہٹ کر ٹرمپ عالمی بساط پر اپنے انداز میں فیصلے کرنے پر کمر بستہ ہیں۔ انہوں نے ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ کے تجارتی معاہدے کو منظور نہ کرنے کا اعلان کرکے سب کو حیران کر دیا۔ میکسیکو اور چین کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی ایک نئے دور کا عندیہ دے رہی ہے۔ نیٹو ممبر ممالک سے مطالبہ کہ وہ نیٹو بجٹ میں اپنی جی ڈی پی کا وعدہ کردہ دو فی صد حصہ ادا کریں کہ امریکہ اب پھوکٹ میں یہ کام نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کے انداز اور مدت بعد کانگرس میں ری پبلکن کی برتری سے امریکہ اور دنیا کی سیاست میں دور رس تبدیلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ نئے سال میں اس بنیاد پر کیا عمارت کھڑی ہوتی ہے، اس کا اظہار چند ہفتوں میں ہونا شروع ہو جائے گا۔

پاکستان میں گزشتہ سال بھی معاملات دائرے میں ہی چلتے رہے۔ بقول منیر نیازی حرکت تیز تر رہی لیکن سفر آہستہ ہی طے ہوا۔ سیاسی محاذ رائی گذشتہ دو سالوں کے دوران دھرنوں کی وجہ سے مسلسل بڑھی۔ اس سال کے آغاز میں قدرے ٹھہراؤ آیا تو پانامہ لیکس نے سیاسی سونامی برپا کر دی۔ تحریکِ انصاف نے اس ایشو کو بھرپور طریقے سے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا۔ دوسری پارٹیاں بھی اس معاملے میں ہمنوا دکھائی دیں۔ معاملہ سڑکوں سے ہوتا ہوا بلآخر اعلیٰ عدالت میں آ پہنچا ہے۔ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ جتنے منہ اتنی باتیں، جس طرف جھکاؤ اسی طرف کا متوقع نتیجہ ۔ اس کیس کا فیصلہ سیاست کو تو جو متاثر کرے گا سو کرے گا، اس دوران الزام تراشی اور میڈیا پر ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کے عمل سے سیاست دان اور ادارے برے طریقے سے ڈس کریڈٹ ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا ہو یا عام محفلیں، مایوسی کی فضا میں اضافہ ہوا ہے۔

سیاسی محاذ آرائی کے اس ماحول میں معیشت پر توجہ بٹی رہی۔ مجموعی معاشی اشاریے 2013 کی نسبت بہتر ہوئے لیکن زر مبادلہ کے ذخائر میں مانگے تانگے کی رقوم کا خاصا بڑا حصہ پا کر کچھ ماہرین اسے ہاؤس آف کارڈز تک کہنے سے گریز نہیں کرتے۔ افراط زر مونہہ زور نہیں ہوا۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے افراط زر کی شرح برقرار رکھنے میں مدد کی۔ کرنسی کی شرح مبادلہ مستحکم رہی ۔ جی ڈی پی میں اضافہ کئی سالوں بعد ساڑھے چار فی صد سے زائد ہوا لیکن سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا۔ لے دے کر تان سی پیک پر ٹوٹتی رہی۔ بے روزگاری میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ معاشی عدم مساوات میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔ علاقائی تفاوت بھی اسی تیزی سے بڑھا ۔ گزشتہ سال دو ایمنسٹی اسکیمیں دی گئیں لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ اب سینیٹ سے آواز بلند ہوئی ہے کہ ایک ایمنسٹی اور ہو جائے سب کے لیے۔ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل جامد رہا ۔ اول یہ کہ حکومت کو ریونیو ٹارگٹ پورا کرنے سے ہی فرصت نہ ملی ، ایسے میں اصلاحات کے صبر آزما کام کے لیے کون کم بخت جان ہلکان کرے۔ دوم یہ کہ اصلاحات میں تلخ فیصلوں کے لے جس طرح کی سپورٹ پارلیمان کے اندر درکار تھی وہ سیاسی محاذ آرائی کے سبب ندادر رہی۔ سو، اصلاحات کی حد تک پرنالہ جہاں تھا وہیں رہا۔

علاقائی تعلقات میں کشیدگی نے خارجہ تعلقات کو بدستور الجھائے رکھا۔ بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے بعد بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے سے انحراف کی کوششوں اور خشک سالی نے ملک میں آبی سیکیورٹی کو اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ معاملات میں الجھاؤ بدستور پریشان کن ہے۔ اگلا سال الیکشن کا سال ہے لیکن الیکشن اصلاحات کا عمل چیونٹی کی چال چل رہا ہے۔ خدشہ یہ ہے کہ با معنی الیکشن اصلاحات کے بغیر الیکشن کی شفافیت اور تمام فریقوں کا اس پر اعتبار مشکل ہوگا۔ اگر حکومت حسب وعدہ مردم شماری کر سکی تو اس کی کوکھ سے حلقہ بندیوں اور صوبوں کی نشستوں میں کمی بیشی کے کئی ان چاہے مسائل برآمد ہو سکتے ہیں۔

سال ضرور نیا ہے لیکن اس کے مسائل پرانے سال والے ہیں۔ اور مسائل بھی ایسے کہ بقول جوش ملیح آبادی:
نہ بوئے گل نہ باد صبا مانگتے ہیں لوگ
وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

ایسے میں نئے سال پر ہم سوچ میں ہیں کہ سائنس دانوں نے تو لیپ کے اضافی سیکند تک کا حساب برابر کر لیا لیکن خلق خدا کیا کرے کہ ان کے سیکنڈ بار آور ہیں نہ گھنٹے، دن مہربان ہیں نہ مہینے۔ گزشتہ سال سہل گزرا نہ نئے سال کی چال ڈھال سے سکون کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں اس پرانے سے نئے سال کا کوئی کیا جشن منائے۔