پیران پیرشیخ عبدالقادر جیلانی

حضور اکرم ﷺ سے صحابہ کرام نے سوال کیا کہ اے ہمارے پیارے پیغمبر ﷺ آپ کی تشریف آ وری سے پہلے سلسلہ نبوت جاری تھا ۔ جب دنیا میں گمراہی پھیل جا تی تھی تو اللہ تعالی کسی نہ کسی پیغمبر کو ان کی ہدایت کے لیے بھیج دیتے تھے ۔ آپ خاتم النبیین ہیں۔ آپ کے بعد قیامت تک اب کوئی نبی تشریف نہیں لائے گا ۔ اگر آپ کی امت میں بھی خلاف شرع باتیں دین میں داخل کر دی جائیں گی تو ان کی اصلاح کے لیے کون آ ئے گا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا ایک تو میری امت کے علماء وہ ہی کام کریں گے جو بنی اسرائیل کے انبیاء کیا کرتے تھے۔

ایک جماعت ہمیشہ دین حق پر قائم رہے گی جو کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ  نہ کرے گی ۔ اس کے بعد ایک سلسلہ میری امت میں یہ جاری ہوگا کہ ہر صدی کے آخر میں اللہ تبارک و تعالی ایک بہت بڑے عالم کو پیدا کیاکریں گے، جو مجدد کہلائے گا ۔ اللہ تعالی اس کو ایمانی بصیرت عطا فرمائیں گے وہ سنت اور بدعت کو جدا جدا کر دے گا ۔ اور دین اسلام جو میں نے پیش کیا ہے اسی دین کی تجدید کرے گا ۔ اور احیائے اسلام کا فریضہ سر انجام دے گا ۔ چنانچہ دیکھا گیا کہ ہر صدی کے آخر میں اس قسم کی شخصیات تشریف لائیں۔ امام اعظم ابو حنیفہ، امام شافعی، حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانی سرہندی مشہور مجددین ہیں ۔

اسی جماعت مجددین کے سرخیل حضرت پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی محبوب سبحانی رحمۃ اللہ ہیں ۔ جو کہ ایران کے قصبہ گیلان میں 470 یا 471 ھ میں پیدا ہوئے ۔ اور 90 سال کی عمر مبارک میں 11 ربیع الثانی 561 ھ میں بغداد میں داعی اجل کولبیک کہا۔ آپ کی پوری زندگی رشد و ہدایت کی تعلیم میں گزری۔ آپ نے اللہ تعالی کی تو حید اور پیارے پیغمبر ﷺ کی رسالت، آپ کی سنت کی اہمیت، صحابہ کرام کی قربانیوں، عظمتوں اور سچے اور صحیح اولیاء اللہ کرام کی پہچان اور ان سے محبت اور تعلق پر تعلیمات دیں۔ حضرت غوث الاعظم پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی بہت بڑے موحد اور متبع سنت، متقی پرہیز گار، متوکل علی اللہ انسان تھے ۔ ان کا اسوۂ حسنہ امت کے لیے ایک نمونہ ہے ۔ اس لیے کہ آپ کی زندگی حضور اکرم ﷺ کی پاکیزہ زندگی کی عملی تصویر تھی ۔

حضرت پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے سترہ سال گیلان میں گزرے جہاں آپ نے ابتدائی علوم کی تکمیل کی۔ پھر نو سال بغداد میں علوم ظاہری و باطنی میں حد کمال حاصل کیا ۔ پھر پچیس سال مجاہدات میں گذارے ۔ پھر چالیس سال مسند درس و تدریس اور دعوت اصلاح و فکر میں بسر فرمائے ۔ آپ نے لوگوں کو تعلیم دی کہ ایک سچا پیر مرشد اور رہنماء وہی ہو سکتا ہے جس کی زندگی حضور اکرم ﷺ کی مقدس و مطہر زندگی کے مطابق ہو اور آپ کی پاک سنتوں میں ڈھلی ہوئی ہو ۔ حضرت پیران پیر نے صحیح اسلامی تصوف اجاگر فرمایا ۔ حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا منتہائے مقصد صرف یہ تھا کہ بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ ہدایت دکھلائیں ۔ اور گناہگاروں کو گناہ کی تاریکیوں اور اندھیروں سے نکال کر ہدایت اور نیکی کی روشن شمع دکھلائیں اور صحیح منزل تک پہنچائیں۔

آپ نے اپنے شاگردوں کی اس انداز سے تربیت فرمائی کہ وہ تمام ظاہری علوم کی دولت سے مالا مال ہونے کے سا تھ ساتھ علوم باطنیہ پر بھی کامل دسترس رکھتے تھے ۔ آپ کا ہر شاگرد آسمان علم کا تابندہ ستارہ تھا ۔ آپ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق فتوی دیا کرتے تھے ۔ آپ نے بہت سی کتب تحریر فرمائیں جن میں غنیۃ الطالبین اور فتوح الغیب کو بہت شہرت نصیب ہوئی ۔