کرسمس کا تہوار اور سال نو
- تحریر محی الدین عباسی
- جمعہ 06 / جنوری / 2017
- 5563
25 دسمبر کا دن دنیا میں کرسمس کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کا دن تصور کیا جاتا ہے اور مغربی دنیا میں خاص کر اہم تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ جبکہ قرآن کریم میں اس بات کا اشارہ ملتاہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش اگست کے مہینہ میں ہوئی نہ کہ 25 دسمبر کو۔ کئی کتب کے مصنف ڈیل کارینگی نے اپنی کتاب ’’ Five Minutes Biographies‘‘ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے باب میں ان کی تاریخ پیدائش کے حوالے سے دنیا میں پائے جانے والے مختلف اختلافات کا ذکر کیاہے۔ ان میں سے چند ایک پیش ہیں۔
سب سے پہلے پیورٹین کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کرسمس کے دن پیدا نہیں ہوئے۔ چنانچہ بعض مؤرخین نے ان کی تاریخ پیدائش 25 مئی ثابت کی اور بعض نے 19 اپریل۔ جبکہ بعض کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کے بارے میں کچھ بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتے۔ ’’بیت اللحم‘‘ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے ، وہاں بھی سال میں تین مختلف اوقات میں کرسمس منایا جاتا ہے۔ پہلا 25 دسمبر، دوسرا 4 جنوری اور تیسرا 8جنوری کوکرسمس منایا جاتا ہے۔
کرسمس کے خلاف قوانین
کئی سال قبل کرسمس منانے کو مغربی دنیا میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ 300 برس پہلے جب نیو انگلینڈ برطانیہ کی ایک دور افتادہ نوآبادی ہوتا تھا اور وہاں پر پیورٹین کی حکومت تھی۔ وہاں کی ایک جرمن عورت کرسمس منا رہی تھی اور اپنے صحن کے درمیان ایک درخت کو گاڑ رہی تھی۔ ساتھ ہی حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش کے گیت بھی گا رہی تھی۔ اس کو گاؤں کے جرگہ کے سامنے پیش کیا گیا اور اسے اس جرم میں گاؤں بدر اور مذہب سے بے دخل کر دیا گیا۔
پیورٹین کے زمانہ میں کرسمس منانے کو نا پسند کیا جاتا تھا۔ اور اس دن چھٹی بھی نہ کرتے تھے۔ اسے خدا کی ہتک گردانتے تھے۔ انہوں نے ایک قانون بھی منظور کیا تھا جس کی رو سے کرسمس منانے والے کو جرمانہ اور سخت بے عزتی کا سامنا کرنا پڑتا۔ کرسمس کے دنوں میں سارا انگلینڈ ایک سوگوار بیوہ کی مانند دکھائی دیتا۔ بعد میں جب عیسائیت کو روم کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا تو اس وقت ’’برطانیہ ‘‘ نامی ایک تہوار کو کرسمس میں مدغم کرکے منایا جانے لگا۔
( جاوید شاہین کی کتاب ’’ مانیں یا نا مانیں‘‘ سے ماخوذ )
اسلامی نئے سال کی ابتدا پر شاید ہی کسی نے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ہجرت کو یاد کیا ہوگا، جتنا کہ آج دنیا میں سال نو کی تقریبات کو منا کر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اسلامی کیلنڈر کی بنیاد حضرت رسول کریم ؐ کی ہجرت پر رکھی گئی تھی ۔ آپ کی ہجرت وہ سفر تھا جس کی برکت سے دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا۔ اس طرح امت محمدیہ کےلئے ہدایت کے دروازے کھول دئے گئے۔ لیکن دنیا بھر میں نئے سال کی آمد کا جشن منایا گیا اور سال نو کے استقبال کےلئے خوبصورت روشنیوں اور آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ بہر حال نئے سال کی خوشیاں منانے کا حق ہر ایک کو ہے۔ وہ یہ خوشیاں ضرور منائیں۔ مگر اپنے خالق و مالک کو یاد کرتے ہوئے اور اپنے پیارے نبی محمد ﷺ پر درود پڑھتے ہوئے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آنے والا سال ہمارے لئے ڈھیروں خوشیاں لے کر آئے اور اللہ تعالیٰ ہم پر سارا سال اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔ آپ کا ہر دن ہر لمحہ بابرکت ہو۔ دین کی خدمت صلہ رحمی کی توفیق دے۔ دن دوگنی رات چوگنی ترقیات دے۔ اپنا کامل محب اور عبادت گزار بنائے۔غریبوں اور مساکین کی خدمت کی توفیق دے اور آپ کا معاون و مددگار ہو۔ آپ تمام کو حسنات الدنیا و الآخرۃ سے نوازے، عالم اسلام اور دنیا میں امن قائم ہو۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ یہ نیا سال ہمارے لئے حقیقی خوشیوں کا باعث ہو۔ آمین۔
ایک افسوس ناک خبر اس سال نو کے جشن کے موقع پر ترکی کے شہر استنبول میں پیش آئی۔ سال نو کی تقریبات کے موقع پر ایک نائٹ کلب میں مسلح شخص نے فائرنگ کر کے39 افراد کو ہلاک اور 60 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ اس سے قبل روسی سفیر کو بھی ہلاک کیا گیا تھا۔ حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی دہشت گردوں کی لپیٹ میں ہے۔ چند ماہ میں 220 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہمیں اپنے خالق حقیقی کے سامنے سر بسجود رہنا چاہئے اور بنی نوع انسان کی بلا رنگ و نسل اس نئے سال میں فلاحی اور سماجی کاموں کو کرنے کا عزم کرنا چاہئے۔ ہر ایک کے لئے دعا کریں تا خدا کا فضل دنیا کی ہر قوم پر نازل ہو۔