پانچ بھارتی ریاستوں میں انتخاب
- تحریر محمد آصف اقبال
- سوموار 09 / جنوری / 2017
- 4611
4 جنوری 2017 الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن کروانے کا اعلان کیا۔ لیکن اس اعلان سے قبل ہی ان پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن کی تیاریوں میں تمام ہی سیاسی پارٹیاں مصروف ہو چکی تھیں۔ ان پانچ ریاستوں میں جن دو ریاستوں کا الیکشن ملک اور اہل ملک کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے، ان میں اول الذکر ریاست اترپردیش ہے، پھر پنجا ب کا نمبر آتا ہے۔ پانچ ریاستوں میں 690 اسمبلی حلقوں میں یہ انتخاب عمل میں آنا ہے جس میں 16کروڑ ووٹرس حصہ لیں گے۔ اس کے لیے ایک لاکھ پچیاسی ہزار پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں، جہاں الیکشن کمیشن کی کوشش ہے کہ امن و امان کے ساتھ ووٹ ڈالے جا سکیں۔ سیاسی پارٹیاں اور سیاست دان جن کے نام پر ووٹ ڈالے جائیں گے، کے ساتھ ساتھ NOTA کااختیار برقرار رکھا گیا ہے۔ جہاں کسی بھی امید وار یا پارٹی کے پسند نہ آنے پر 'ان میں سے کوئی نہیں' کا اختیار حاصل ہوگا۔
گوا اور منی پور کے لیے الیکشن کمیشن نے 20-20لاکھ کی حد امیدواروں کے اخراجات کے لیے طے کی ہے تو پنجاب، اتراکھنڈ اور اترپردیش کے لیے28لاکھ صرف کرنے کی اجازت ہوگی۔ 690 اسمبلی حلقوں میں 403اترپردیش میں ہیں، 117 پنجاب کے تحت آتے ہیں، بقیہ 170اسمبلی حلقے تین ریاستوں میں آتے ہیں۔ اس لحاظ سے اترپردیش کے بعد پنجاب ہی وہ بڑی ریاست ہے جس کے نتائج مستقبل قریب میں ملک اور اہل ملک اور موجودہ حکومت ، سب کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں مرکزی سطح پر برسراقتدارحکومت اترپردیش کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے خاص انداز میں سرگرم عمل ہے تو وہیں پنجاب میں کانگریس اپنی تمام صلاحتیں صرف کیے ہوئے ہے۔
اس کے باوجود یہ عجب اتفاق ہے کہ اترپردیش میں بی جے پی کی حکومت بنتی نظر نہیں آرہی ہے۔ سماج وادی پارٹی جو فی الوقت ریاست میں برسراقتدار ہے وہ مستقبل میں بھی حکومت بنانے کے خواب دیکھ رہی ہے تو وہیں اس کی حریف بہوجن سماج پارٹی اس سے کہیں زیادہ امید لگائے ہوئے ہے کہ 2017 میں ریاست میں اسی کی حکومت بنے گی۔ دوسری جانب پنجاب میں اگرچہ کانگریس آخری دنوں میں ابھرتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے، اس کے باوجود عام آدمی پارٹی پرامید ہے کہ اس مرتبہ ریاست پنجاب میں حکومت وہی تشکیل دے گی۔ اور برسراقتدار شرومنی اکالی دل اور بی جے پی کی حکومت جاتی ہوئی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اس صورتحال میں مرکز میں موجود بی جے پی کی حکومت کافی پریشان ہے، کیونکہ دونوں ہی ریاستیں اس کے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔
2011 کے اعداد و شمار کی روشنی میں فی الوقت ریاست پنجاب میں 58% فیصد سکھ، 38.5%ہندو، 1.9%مسلمان، 1.3%عیسائی اور 0.60% دیگر افراد رہتے بستے ہیں۔ اگر کاسٹ کی بنا پر دیکھا جائے تو 22% او بی سی، 31.94% شیڈول کاسٹ (دلت) ، 41% فارورڈ کاسٹ اور 3.8% دیگر پائے جاتے ہیں ۔ ریاست پنجاب کے سیاسی حالات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 2002 میں بی جے پی کو صرف 3 اسمبلی سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ جبکہ کانگریس کو 41 اور شرومنی اکالی دل کو 62 تشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ 2007 میں پنجاب میں بی جے پی کو پہلے کے مقابلہ آگے بڑھنے کا موقع ملا تھا اور یہ 3سیٹیں بڑھ کر 19پر پہنچ گئی تھیں۔ جبکہ کانگریس کو 44 اور شرومنی اکالی دل کو 48 سیٹیں ملی تھیں۔ لیکن 2012 میں بی جے پی کو گزشتہ کے مقابلہ چند سیٹوں کا نقصان ہوااور 19سے گھٹ کربی جے پی 12پر آگئی۔ اور شرومنی اکالی دل کو 56 اور کانگریس کو 46 سیٹوں پر کامیابی ملی۔ اس کے باوجود بی جے پی اور اکالی دل کے ملنے سے شرومنی اکالی دل کی حکومت تشکیل دی گئی اور ریاست میں بی جے پی کو پھلنے پھولنے کے مواقع میسر آتے رہے۔
موجودہ صورتحال اقتدار میں موجود دونوں ہی پارٹیوں کے لیے تشویشناک ہے۔ ریاست میں ایک جانب کانگریس اپنی تمام کوششوں میں مصروف عمل ہے اور اسے ایک بار پھر حکومت بنانے کا موقع مل سکتا ہے، وہیں عام آدمی پارٹی بھی اپنی تمام تر صلاحتیں صرف کیے ہوئے ہے۔ اسے بھی پورے امید ہے کہ اس مرتبہ ریاست میں اسی کی حکومت بنے گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح دہلی میں انہوں نے حکومت بنائی تھی اور دیگر قدیم ترین سیاسی پارٹیوں کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔
ریاست میں اپنے ووٹروں کے اعتبار سے چوتھی بڑی سیاسی پارٹی بہوجن سماج پارٹی ہے۔ جس نے 2012 میں اپنا ووٹ شیئر بڑی تیزی سے بڑھایا ہے۔15 مارچ 2016 میں نون شہر میں ایک بڑی ریلی کے دوران جو دراصل بی ایس پی کے بانی شری کانشی رام کے یوم پیدائش پر منعقد کی گئی تھی، مایا وتی نے برسراقتدارایس اے ڈی - بی جے پی حکومت کو دلت مخالف کہتے ہوئے اپنے 2017 اسمبلی الیکشن کا آغاز کیا تھا ۔ مایا وتی نے برسر اقتدار حکومت پر الزام لگایا تھا کہ یہ دلت مخالف حکومت ہے۔ ریاست میں ابھرتی ہوئی عام آدمی پارٹی کو بنیا بتایا تھا اور ان پر بھی الزام لگایا تھا کہ کیجری وال اور اس کی پارٹی دہلی میں حکومت بنانے سے قبل دلت اور شیڈول کاسٹ مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ لہذا یہاں بھی وہ قابل اعتبار نہیں ہو سکتے۔ نیزمایاوتی نے اُسی موقع پر پنجاب کی تمام 117سیٹوں پر الیکشن لڑنے اور کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس کے باوجود جہاں وہ کسی نہ کسی حد تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں وہیں وہ اپنی تمام سرگرمیوں کو اترپردیش پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ کیونکہ انہیں امید ہے اس مرتبہ اترپردیش میں ان کی حکومت تشکیل پائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ فی الوقت وہ عام آدمی پارٹی کے خلاف پنجاب میں بیان بازی سے گریز کرتی نظر آرہی ہیں۔